Showing posts with label Evolution. Show all posts
Showing posts with label Evolution. Show all posts

Friday, September 11, 2026

ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے

ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے 

ہماری زندگی میں پہلے پہل ریڈیو آیا۔ بی بی سی اردو ہمارا مرغ باد نما ہوتا تھاجس سے ہم اپنی گھڑیاں ملاتےاور ہر خبر کی تصدیق بھی اسی سے کرتے تھے، گانے آل انڈیا ریڈیوسے سنتے تھے اور بناکا گیت مالا ریڈیو سیلون سے۔ پاکستانی فلموں کے ریڈیو پروگرامز"آجشبکو" دوپہر گیارہ سے بارہ بجے ریڈیو پاکستان سے، اور دوپہر تین بجے  حسن شہید مرزا اور ساتھی خاتون میزبان حفیظ فاطمہ / شہلا صدیقی سے "کالا کولا کی محفل نامی میگزین پروگرام میں" ملاقات کرتے۔ شام ساڑھے پانچ بجے فوجی بھائیوں کے لیے خصوصی پروگرام سنتے اور رات آٹھ بجے ڈرامہ۔   بالآخر ایک دن  ریڈیو ہمارا دل بہلا کر رخصت ہوا۔

Monday, June 1, 2026

ہوم سولر انرجی پراجیکٹ

یہ آرٹیکل ہمارے مرحوم دوست دانش احسن لوہار المعروف از دانست نے 2022 میں شمسی توانائی سے بجلی کے حصول کے سلسلے میں لکھا تھا ۔  لہذہ اس میں دیا گیا  تخمینہ  اس وقت کی قیمتوں کے حساب سے ہے۔
-------------------------------------------------
آجکل ملک کے جو حالات چل رہے ہیں، ایک تو شدید گرمی، ہیٹ ویو، دوسری جانب لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ جو پہلے کے مقابل بڑھ گیا ہے۔ اسی مسئلے کو لے کر ایک بات زیر غور آئی کہ جو لوگ ایسے گھر میں رہتے ہیں جہاں انہیں چھت میسر ہے تو وہ سولر پینل کیوں نہیں لگاتے؟ متبادل توانائی اس وقت ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

ایک متوسط گھرانے کے لئے میرا ذاتی تجربہ ہے کہ 2 سے 3 کلوواٹ کا سولر پینل کافی ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سولر کی کوسٹ بہت زیادہ ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بات غلط بھی نہیں۔ ایک مڈل کلاس گھر کے لئے چار سے پانچ لاکھ روپے لگانا آسان بات نہیں۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی چیز جب آپ خریدنے جائیں تو صرف کوسٹ ہی فیکٹر نہیں ہوتا بلکہ اس کے فوائد بھی معنی رکھتے ہیں۔

اسے ہم cost benefit analysis کہتے ہیں۔ اگر ایک چیز کی قیمت زیادہ ہے تو آپ نے اس کے فوائد کا قیمت سے موازنہ کرنا ہے، pros & cons دیکھنے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پہ سولر پاور کے فوائد قیمت سے زیادہ لگے۔