Showing posts with label Psychology. Show all posts
Showing posts with label Psychology. Show all posts

Tuesday, May 5, 2026

تھینکیو ایوری ون

شہزاد کے بعد پہلا روڈ ٹرپ

شہزاد کی زندگی میں بہت لوگ ہمارے ساتھ ٹرپس پر جانا چاہتے تھے، اوربہت سے لوگ جاتے بھی تھے، ابا کے دوست، اس کے اپنے دوست اور ہمارے دوست بھی۔ وہ سیر و تفریح کا شوقین اور انتہا کا محنتی تھا۔ ٹرپ چاہے ابا کے دوستوں کا ہی ہوتا وہ اس میں شامل نہ بھی ہوتا تب بھی پورے دو دن سامان اکھٹا کرنے اور واپس ٹھکانے لگانے میں لگاتا۔ جب وہ بھی ساتھ جاتا تو ٹرپ کی ساری ذمہ داری اس کی ہوتی۔ کھانا پکانا، برتن دھونا اور سارا سامان ڈھونا گھر سے گاڑی، گاڑی سے کیمپ تک اور واپس گھر تک۔

فیملی ٹرپ ہوتا، ساتھ ہمارے دوست بھی شامل ہوتے تب بھی سارے کام خود کرتا اپنے شوق سے اور اپنی ذمہ داری پر۔ ہمارے ایک دوست کی بیگم کے بقول انہیں اپنے میاں سے زیادہ شہزاد پر بھروسہ تھا کہ شہزاد کی موجودگی میں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔

Friday, May 1, 2026

ہیومن ملک بنک: قسط III

مختلف مذاہب کی ہیومن ملک بنک کے بارے میں کیا رائے ہے اور دیگر مسلم ممالک میں ہیومن ملک بنک کس طرح کام کررہے ہیں 

 سن  دو ہزار چوبیس میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف  چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹلوجی  کراچی  میں  یونیسیف کے تعاون سے پاکستان کا پہلا  ہیومن ملک بنک یا مدر ملک بنک  قائم  کیا گیا۔   جس کا مقصد وقت سے پہلے یا اوسط پیدائشی وزن سے کم وزن پیدا ہونے والے اور شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کے لیے  ماں کے دودھ کی فراہمی تھا۔  ابتدا میں جامعہ  دارالعلوم  کراچی نے  ہیومن ملک بنک کے حق میں فتوی دیا لیکن پھر  مخالفانہ مذہبی اور عوامی  رد عمل کے بعد  اپنا فتویٰ واپس لے لیا۔ اور نتیجے میں ہیومن ملک بنک جیسا قیمتی جانیں بچانے والا پراجیکٹ طاق پر رکھ دیا گیا۔  

ہیومن ملک بنک: قسط II

ہیومن ملک بنک: کیوں ، کیا اور کیسے کام کرتا ہے۔

اصولی طور پر نوزائیدہ بچے کے لیے اس کی اپنی ماں کا دودھ سب سے بہترین اور صحت بخش غذا ہے۔ لیکن ہر بچے کو ماں کا دودھ ملے یہ ضروری نہیں ہے۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مرنے والی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ایسی مرحوم ماؤں کے بچوں کے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجانے کے امکانات زندہ ماؤں کے بچوں کی نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے بھینس یا بکری کا دودھ بطور غذا دیا جاتا ہے جو ان کے لیے ناقابل ہضم ہوتا ہے، اور معدے اور آنتوں کی بیماریوں، ڈائیریا کا باعث بنتا ہے۔ اور بیرونی غذاؤں میں بیکٹیریا اور جراثیم کی پرورش اور انفیکشن پھیلانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

ہیومن ملک بنک:قسط I

پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک

کچھ ماہ پہلے سوشل میڈیا پر مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک کے حوالے سے ہنگامہ مچا رہا ۔ زیادہ تر عوام نے کم علمی یا لا علمی کی بنیاد پر ایک ممخصوص طبقے کی طرف سے اڑائی گئی یک طرفہ افواہ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ یا آئیڈیے کی مخالفت میں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔

مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک بنانے کا بنیادی آئیڈیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان/ سندھ میں بھی وہی تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے۔ جو نہ صرف انفیکشن فری ہوتا ہے بلکہ ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچے کو غذائیت کے علاوہ اینٹی باڈیز بھی فراہم کرتا ہے جو بچے کی قوت مدافعت کی تشکیل کرتی ہیں ۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں متعدد سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر خواتین اور بچیوں یعنی ماوں کی اکثریت خود غذایت کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ پھر کم عمری کی شادی اور بار بار حمل اوربغیر وقفے بچوں کی پیدائش میں ان کی رہی سہی غذائیت بھی ضایع ہوجاتی ہے ۔ لہذہ ایسی خواتین کے بچوں کے لیے خصوصاً اور پیٹ کے کچھ مخصوص امراض میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کو عموماً صحت مند اور غذایت سے بھرپور ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان کی اپنی ماں کا دودھ پوری نہیں کرسکتا ۔ فارمولہ ملک ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک دیا جاتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے جسے عام آدمی افورڈ نہیں کرسکتا۔

Tuesday, April 14, 2026

فاطمہ کی اماں

اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،

Friday, March 20, 2026

کمفرٹ واچ

یہ تذکرہ ہے ایسی دو سیریز کا جوہم عصر نارمل اربن مڈل کلاس کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ ان کو دیکھ کر آپ کو لگے گا کہ آپ بھی ان ساری سچویشنز سے گزر چکے ہیں یا یہ تجربے آپ کو بھی ہوسکے ہیں۔ ایک عام آدمی کو درپیش آنے والے معاملات، مسائل اور ان کا تجزیہ، ان پر بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دونوں میں کچھ کچھ مزاح بھی استعمال کیا گیا ہے ، لیکن انہیں مزاحیہ کے بجائے لائٹ رومینٹک سیریز کہنا بہتر ہے۔ کمفرٹ واچ اس لیے کہا کہ ان میں کوئی ایڈونچر، تھرل، ہارر ، ایکشن نہیں ہے عام لوگوں کی عام سی خاص کہانیاں اور بس

پہلی سیریز ہے مس میچڈ،

کالج اسٹوڈنٹس کی زندگی سے لیے گئے ذاتی مسائل سے لے کر کالج میں ہونے والے جھگڑوں ، دوستوں کے درمیان نا اتفاقیوں میں گھری ہوئی پانچ لو اسٹوریز یا پانچ ریلیشن شپس کے الجھے دھاگے ۔ پانچوں کپلز کے پارٹنرز سوشل اسٹے ٹس،ذاتی پسند ناپسند اور عادات میں کہیں سے بھی آپس میں کہیں میچ نہیں کرتے۔

Thursday, December 25, 2025

فاطمہ نامہ 1

فاطمہ بہت چھوٹی سی تھی شاید ایک ڈیڑھ سال کی۔ ہم اسے انگلی چوسنے سے منع کرتے تھے۔ ایک دن ہم دونوں نیچے اکیلے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اس نے منہ میں ہاتھ ڈالا میں نے اسے منع کیا۔ اس نے نکال لیا تھوڑی دیر بعد پھر انگلی منہ میں۔ میں نے قریب سے ماچس اٹھائی اور کہا میں تمہارا ہاتھ جلادوں گی اب اگر منہ میں لیا۔ فاطمہ ایک دم خوفزدہ ہو کر مجھ سے دور ہوگئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات مجھے آج تک نہیں بھولتے۔ جتنی دہشت تھی اس کے چہرے پر۔

Saturday, December 13, 2025

اقبال: ایک اور لوو اسٹوری

محبوب، ، ، ہر وہ ہستی جس سے آپ کی اٹیچمنٹ آپ کا لگاو بے لوث ہے، جس کے بغیر آپ کو زندگی زندگی نہ لگے آپ کا محبوب ہے۔ جس کے درد پر آپ کی آنکھوں میں آنسو آجائیں، جس کی خوشی پر آپ اس سے زیادہ ہواوں میں اڑتا محسوس کریں۔ چاہے اس سے آپ کا رشتہ کچھ بھی ہو یا کوئی بھی رشتہ نہ ہو۔
محبت کیا ہوتی ہے اس کا احساس مجھے مووی "اقبال" دیکھ کر ہوا۔ ایک نامور کرکٹر بننے کا خواب تعبیر کرنے کے لیے ایک گونگے لڑکے کی جدو جہد ۔ جس میں اس کی چھوٹی بہن خدیجہ ہر لمحہ اس کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ اپنے والد کے غصے سے اسے بچاتی ہے، ایک سابق کرکٹر سے اپنے بھائی کی ٹریننگ کے لیے لڑ پڑتی ہے۔ اس کی زندگی بس اپنے بھائی کی خواہش کو پورا کرنے کے ارد گرد گھومتی ہے۔

Saturday, October 11, 2025

سر ِ راہ: تو اڑ جا بے فکر

کچھ عرصے سے فیس بک ریلز میں ایک ڈرامے کی جھلکیاں آرہی تھیں جن میں صبا قمر کو ٹیکسی چلاتے دیکھایا گیا تھا ۔ پچھلے ویک اینڈ یو ٹیوب پر تلاش کر کے ڈرامہ دیکھا۔ دل خوش ہوگیا۔ چھ قسطوں اور پانچ اہم موضوعات پر مبنی پانچ کہانیوں کی ایک منی سیریز جو ہمارے سماجی نظام اور اقدار پر کئی سوال اٹھاتی ہے۔

Saturday, October 4, 2025

پی ٹی وی کا انقلابی قدم

وہی جسے انگریزی میں کوانٹم لیپ کہتے ہیں

کچھ عرصہ قبل پی ٹی وی کے نئے شو "ان کہی ود شہناز شیخ" میں ڈاکٹرمحروب معیز اعوان کا انٹرویو نشر کیا گیا۔ اٹ واز اے پلیزینٹ سرپرائز۔ پی ٹی وی اور ایک خواجہ سرا کا انٹرویو ، وہی پی ٹی وی جہاں خاتون اداکارہ سوتے میں بھی سر پر دوپٹہ لیے ہوتی تھی اور مرد اداکار کسی خاتون اداکار کا ہاتھ ڈرامے میں بھی نہیں تھام سکتا تھا۔میں نے بہت عرصے سے پی ٹی وی نہیں دیکھا ہے، یقیناً موجودہ پی ٹی وی اس پی ٹی وی سے بہت مختلف ہوچکا ہے جسے دیکھنے کی میری نسل عادی رہی ہے۔

Saturday, September 27, 2025

لاپتہ لیڈیز کون ہیں

لاپتہ لیڈیز وہ خواتین اور لڑکیاں ہیں :

جن کی شادی کم عمری میں کر دی جاتی ہے:
"گھونگٹ میں سے کیا نظر آئے گا؟"
 پھول کماری

وہ جن کی تعلیم روک کر انکی مرضی کے برخلاف شادی کردی جاتی ہے۔ 
"لڑکیوں کو موقع کیوں نہیں دیتے؟"
جیا

جن کے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی لہذہ انہیں خود بھی لگنے لگتا ہے کہ ان کا ٹیلنٹ فضول شے ہے:
"کلا فضول ہوتی ہے کیا؟"
 دیپک کی بھابھی

Thursday, May 28, 2020

ابھی تو میں جوان ہوں


ہم پاکستان کی سب سے اونچی جھیل رش لیک کا ٹریک کر کے آئے، ہمارے ساتھ ایک بارہ سال کا بچہ اور دو خواتین 60 سال سے اوپر بھی تھیں اور ہم بہت فخر سے ان تینوں کو ہر فورم پر پیش کرتے تھے کہ یہ تینوں ہمارے اسٹار ٹریکرز ہیں۔ یاد رہے کہ رش لیک ٹریک پاکستان کے شمال میں مشکل ترین ٹریکس میں سے ایک ہے، اور اتنا مشکل تو ہے کہ ابھی تک مستنصر حسین تارڑ اس جھیل تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ لہذہ یہ ہمارے لیے بڑے ہی اعزاز کی بات تھی کہ ہماری ٹیم میں اتنا ینگ بچہ اور سکسٹی پلس خواتین اتنی فٹ تھیں کہ انہوں نے یہ ٹریک کر لیا۔ ہماری ٹریک لیڈر نے کسی فورم پر ان تینوں کے بارے میں تعارفی اور تعریفی پوسٹ لگائی، اینڈ بینگ 💣 ۔۔ یہ کیا ۔ ان میں سے ایک خاتون خفا ہوگئیں آپ نے میری عمر 63 لکھ دی جبکہ میں ابھی 62 کی ہوں  😂

Wednesday, May 13, 2020

Money Heist

کیا آپ نے کسی کو قرض دے رکھا ہے اور اب اس امید پر بیٹھے ہیں کہ یہ رقم آپ کو واپس بھی ملے گی تو سب سے پہلے تو یہ نوٹ کرلیں کہ کوئی بھی بندہ قرضہ واپس کرنے کی نیت سے نہیں مانگتا۔ کسی ایک بندے کی نیت بھی آپ کے پیسے واپس کرنے کی نہیں ہوتی۔ لہذہ اگر کوئی آپ سے پیسے ادھار مانگتا ہے تو یا تو آپ اسے صاف انکار کردیں۔ کیونکہ ادھار دینے کے بعد بندہ اور رقم دونوں ہاتھ سے جاتے ہیں۔ لہذہ رقم بچائیے برے وقت میں آپ کے اپنے کام آئے گی بندہ تو رقم لے کر بھی بھاگ ہی جانا ہے تو بہتر ہے اسے بھاگ ہی جانے دیں۔ 

Wednesday, March 11, 2020

میرا جسم میری مرضی

میں کیوں اس نعرے کی حمایت کرتی ہوں


میں زندگی کی پانچ دہائیاں مکمل کرنے کے قریب ہوں، میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جو نہ بہت زیادہ مذہبی تھا نہ بہت زیادہ آزاد خیال۔ ننھیال میں تعلیم کا رحجان کم تھا لیکن ددھیال میں تعلیم کی کمی نہ تھی۔ دادا، تایا، ابا، چچا بالترتیب، پرنسپل،پروفیسر، ہائی اسکول ٹیچر اور پرائمری اسکول ٹیچر تھے۔ اور اکلوتی پھپھو ساٹھ یا ستر کی دہائی میں کراچی یونیورسٹی میں ہاسٹل میں رہ کر لائبریری سائنس میں ماسٹرز کرچکی تھیں۔بعد ازاں وہ پاکستان نیوی کی سینٹرل لائبریری میں لائبریرین مقرر ہوئیں۔ سب سے چھوٹے چچا انجینئر بنے۔

Tuesday, October 29, 2019

من چلے کا سودا :ایک ٹائم لیس پیس آف آرٹ

اب آپ کہیں گے کہ یہ یہ کونسا وقت ہے اس قدیم ڈرامے پر تبصرہ لکھنے کا۔ تو بھائی بندہ جب دیکھے گا ڈرامہ تب ہی تو اس پر تبصرہ لکھے گا۔ اب جس وقت یہ ڈرامہ نشر ہوا تھا اس وقت تو ہمارے دودھ کے دانت ہی ٹوٹے تھے آلموسٹ۔ کچی عمر میں اتنے بڑے بڑے فلسفے سمجھ کس کو آتے ہیں۔ اور اس وقت ٹی وی بھی کہیں کہیں کسی کے گھر ہوتا تھا۔ یاد ہے کہ ٹی وی پورے محلے میں بس ہمارے پڑوس میں تھا اور جس دن یہ ڈرامہ آتا تھا ساری خواتین اپنے فالتو کام نمٹانے چل دیتی تھیں ایک صرف ہمارے پڑوسی تھے جو اسے بہت غور سے دیکھتے تھے اور گاہے بگاہے سر ہلاتے جاتے اور خود کلامی کیے جاتے تھے۔ ہماری تو اس وقت یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انہیں اس میں کیا سمجھ آیا ہے۔

Friday, July 26, 2019

"بنت حوا ہوں میں، یہ مرا جرم ہے"

تبصرہ:

ڈاکٹر مبارک علی پاکستان کے اکلوتے نہیں تو اکلوتے مشہور تاریخ خواں ہیں۔  [تاریخ دان کی اصطلاح غلط ہے۔ "دان" بنانے والے کو کہا جاتا ہے۔ اور "خواں" بیان کرنے والے کو۔] جنہوں نے تاریخ خصوصاً برصغیر کی تاریخ پر کئی کتب لکھی ہیں اور خود فن تاریخ پر بھی۔ اس کتاب میں ڈاکٹر مبارک علی نے مختلف مذاہب، معاشروں اور تہذیبوں میں خواتین کے مقام اور حیثیت کا تاریخی جائزہ لیا ہے۔

Friday, March 22, 2019

عورت مارچ 2019

میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا میں اس گھسے پٹے موضوع پر لکھوں گی۔ لیکن اس حوالے سے قدامت پسند تو ایک طرف نام نہاد لبرلز اور خاص کر ان خواتین نے اتنا گند مچایا جو خود تو اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزار رہی ہیں جو چاہتی ہیں پہنتی ہیں، جہاں مرضی جاتی ہیں کہ میں لکھنے پر مجبور ہوگئی۔ اس ضمن میں دو تین پہلو ہیں جن پر میں کچھ کہنا چاہو ں گی۔

Tuesday, May 1, 2018

انتہا پسندی اور رواداری


مغرب کا مشرق خصوصاً مسلمانوں کے بارے میں ایک ہی خیال ہے کہ یہ سارے پسماندہ, ناخواندہ اور شاید پتھر کے زمانے کے لوگ ہیں۔ اس خیال کی بنیاد انکی اپنی کوتاہ ذہنیت ہے جو اپنے علاوہ سب کو اپنے سے کمتر سمجھتی ہے .. انکے خیال میں ان کی اقدار, انکی اخلاقیات اور انکے سماجی معیارات ہی عالمی معیار یا پیمانہ ہیں اور جو اس معیار سے مختلف ہیں وہ ان سے کمتر درجے کے انسان ہی۔ اور ان کی اس غلط فہمی کو ہوا دیتے ہیں جعلی دانشور اور کرائے کے لبرلز .. جو مغرب کے تلوے چاٹتے ہیں اور ان کو انکی مرضی کے بیانات دیتے ہیں۔

Thursday, November 9, 2017

سیکس اینڈ دی سٹی: مووی ری ویو


کیا کہا بہت فحش مووی ہے۔

رئیلی..!!

قسم کھاتے ہیں کہ ٹائٹینک نہیں دیکھی، دی ریڈر نہیں دیکھی، جیمز بانڈ سیریز کی ایک بھی مووی نہیں دیکھی۔

دیکھی ہے ناں 

منٹو کو پڑھ پڑھ کے تو بہت شوئیاں مارتے ہیں آپ لوگ ۔۔ 

کیا کہا ۔ ۔ 

Monday, October 30, 2017

سنیما، میڈیا اور سوسائیٹی

کیبل پر ایک پرانی مووی چل رہی تھی، جس میں ہیرو جسے دراصل ولن کہنا چاہیے تھا شادی شدہ ہیروئن کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا تھا اتنا کہ اس کے شوہر کی جان کا دشمن ہوگیا تھا۔ وجہہ ، کیونکہ ہیرو کو ہیروئن پسند آگئی تھی تو اسے ہر قیمت پر ہیروئن چاہیے تھی چاہے اس میں ہیروئن کی اپنی مرضی یا خوشی نہ بھی شامل ہو۔