آج میں نے اپنے گھر میں اپنی مرضی اور عادت کے مطابق دن گزارا۔ صبح ساڑھے سات بجے اٹھی، آٹھ بجے ناشتہ، دس بجے سارا کام ختم کرکے کھانا پکانا شروع کیا بارہ بجے کھانا تیار تھا۔[ یہ وہ وقت ہے جس وقت ہمارے بچے اور ان کی اماں جان چھٹی کے دن ناشتہ کرکے فارغ ہوتے ہیں۔ ] لنچ کے بعد ایک دوست کی بیٹی کے لیے فراک سیا، پھر سوگئی۔ مغرب کے وقت اٹھی۔ چھت پر ابا اور بہن کے ساتھ پوری شام ٹھنڈی ہوائیں انجوائے کیں۔ رات کا کھانا کھایا اور اب برتن وغیرہ سے فارغ ہوکر سونے کی تیاری ہے۔
Showing posts with label Ethics & Values. Show all posts
Showing posts with label Ethics & Values. Show all posts
Friday, June 19, 2026
Monday, June 15, 2026
انکم ٹیکس کے غیر روایتی ذرایع
لوکل گورنمنٹ کے لیے کچھ انکم جنریٹنگ تجاویز
ایک بار پھر الیکشن قریب آرہا ہے اور پھر سے ہر طرف بینرز، ہورڈنگز سیاسی نعروں سے مزین نظر آئیں گے اور ہر پارٹی کے پرچم اور سیاستدان کھمبوں پر ٹنگے نظر آئیں گے ۔الیکشن گزر جائیں گے لیکن یہ اشتہار، پرچم اور سیاستدان ایسے ہی کھممبوں پر ٹنگے رہیں گے ، ان کے چہرے دھویں سے سیاہ پڑتے جائیں گے، کچھ ہوا ، دھول مٹی اور اگر بارش ہوگئی تو بھیگ کر اور بھی قابل رحم بلکہ بدنما ہوجائیں گے اور ساتھ ساتھ شہر کو بھی بدنما بنائیں گے ۔
پچھلے لوکل باڈیز کے الیکشنز میں لگائے گئے بینرز اورکھمبوں پر لٹکائے گئے سیاست دان ابھی تک وہیں لٹکے ہوئے ہیں، گندے ، میلے، لیر لیر ادھر ادھر جھول رہے ہوتے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ بڑے ہورڈنگز تو کمرشل کمپنیوں کی ملکیت ہیں وہ ان پہ اشتہار لگانے کے پیسے بھی لیتی ہیں اور مقررہ مدت کے بعد اشتہار اتار بھی دیتی ہیں کیونکہ انہیں کسی اور کا اشتہار لگا کر اس سے پیسے وصول کرنے ہوتے ہیں تاہم دیواروں، چوک، چورنگیوں، کھمبوں پر لٹکے یہ لیرے شہر کی بدصورتی میں چار کیا چالیس چاند لگائے ہوتے ہیں۔
Thursday, June 4, 2026
کتے بلی کے بچے
کل اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری۔ اندرونی صفحات میں سوشل میڈیا پر وائرل کسی ویڈیو کے حوالے سے خبر تھی جس میں ایک باپ اپنے تین سالہ بچے کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مار رہا ہے جس پر عوامی رد عمل کی اطلاع تھی۔ ایسی خبریں پڑھ کر اور ایسے واقعات دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ اکثر خیال آتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں پر کیسے ہاتھ اٹھا لیتےہیں۔ مجھ سےتو اپنے بھتیجا بھتیجی پر ہاتھ نہیں اٹھتا کبھی۔ ایک آدھ تھپڑ بھی نہیں، کجا کہ مارنا اور ایسے اذیتناک طریقے سے مارتے چلے جان۔ وہ بھی تین سالہ بچے کو، ایک تین سالہ بچہ ایسا کیا گناہ یا جرم کرسکتا ہے بھلا کہ اسے ایسے مارا جائے۔
Sunday, May 24, 2026
ورک پلیس ہراسمنٹ سے متعلق چند اہم باتیں
باعثِ تحریر
اس تحریر کا باعث بننے والا بی بی سی اردو کا مضمون اس لنک پرموجود ہے:
اس پورے واقعے سے خواتین کو کچھ باتیں نوٹ کرنا چاہئیں کہ کسی مرد کی کوئی غلط بات خواہ مذاق میں ہی کیوں نہ کہی گئی ہو اسے اسی وقت غلط کہنا چاہیے اور اس پر آواز اٹھانی چاہیے خواہ پہلی بار ہو، دوسری یا تیسری اور ایسے آّواز اٹھانی چاہیے کہ دو چار لوگ اسے نوٹ کریں۔
Friday, May 8, 2026
قرار لوٹنے والے ~~
انتقامی فلمی گیتوں پر ایک تبصرہ
خدا کرے تجھے آدھی چھٹانک گھی نہ ملے
تیری پکی ہوئی ہانڈی بگھار کو ترسے
ایسے ہی پرانے گانے سنتے سنتے خیال آیا کہ فلمی گیتوں کی ایک فارم انتقامی گانوں کی بھی ہے ۔ گو کہ فلموں میں زیادہ تر رومینٹک گانے ہوتے ہیں، آئٹم سانگ ہوتےہیں یا پھر دکھی پریم نگری لیکن کبھی کبھی ہیرو یا ہیروئن انتقام پر بھی تو اتر آتےہیں، زیادہ تر ہیرو جیسے کہ
جس نے میرے دل کو درد دیا
اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں
علاوالدین اور مہدی حسن کا حسین کامبی نیشن فلم سسرال کا گانا ۔ "گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے " کے بعد ایک اور بہترین گانا جس میں علاوالدین اداکاری اور مہدی حسن گلوکاری کے عروج پر نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ گانا ہمیں مہدی حسن سے زیادہ سجاد علی کی آواز میں پسند ہے، کیونکہ پہلی بار سجاد علی کی آواز میں سنا تھا اوراس نے اتنا جم کر گا یا ہے کہ بس سواد آجائے۔ مکتوب الیہ تو آواز کی ٹون سن کر ہی پتلی گلی سے نکل لے۔
Labels:
Culture,
Ethics & Values,
Music
Sunday, May 3, 2026
من کہ ایک فالور ہوں
ونس اپون زمانہ قبل ا ز ٹائم ایک اخبار ہوتا تھا یا پھر ٹی وی جس سے ہر قسم کی خبریں اور اینٹر ٹینمنٹ عوام تک پہنچتی تھی۔ اور ان دونوں فورمز پر نظر آنے والے، لکھنے والے، بولنے والے ، اداکاری کرنے والے اور فنکاریاں کرنے والے تمام لوگ عوام کی نظر میں سلیبرٹی ہوتے تھے ۔ جن تک پہنچنا، اپنے رائے پہنچانا ایک کار عظیم ہوا کرتا تھا۔ [دیگرفورمزبھی ہوتے تھے جیسے سینما لیکن وہ اتنے ارزاں اور ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتے تھے اور ریڈیو کی اس دور تک وہ اہمیت نہیں رہی تھی جس دور کی ہم بات کررہے ہیں۔ زمانہ انیس سو پتھر میں تو ریڈیو کے صدا کار بھی سلیبرٹی اسٹے ٹس انجوائے کیا کرتے تھے]
Friday, May 1, 2026
ہیومن ملک بنک: قسط III
مختلف مذاہب کی ہیومن ملک بنک کے بارے میں کیا رائے ہے اور دیگر مسلم ممالک میں ہیومن ملک بنک کس طرح کام کررہے ہیں
سن دو ہزار چوبیس میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹلوجی کراچی میں یونیسیف کے تعاون سے پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک یا مدر ملک بنک قائم کیا گیا۔ جس کا مقصد وقت سے پہلے یا اوسط پیدائشی وزن سے کم وزن پیدا ہونے والے اور شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کے لیے ماں کے دودھ کی فراہمی تھا۔ ابتدا میں جامعہ دارالعلوم کراچی نے ہیومن ملک بنک کے حق میں فتوی دیا لیکن پھر مخالفانہ مذہبی اور عوامی رد عمل کے بعد اپنا فتویٰ واپس لے لیا۔ اور نتیجے میں ہیومن ملک بنک جیسا قیمتی جانیں بچانے والا پراجیکٹ طاق پر رکھ دیا گیا۔
ہیومن ملک بنک: قسط II
ہیومن ملک بنک: کیوں ، کیا اور کیسے کام کرتا ہے۔
اصولی طور پر نوزائیدہ بچے کے لیے اس کی اپنی ماں کا دودھ سب سے بہترین اور صحت بخش غذا ہے۔ لیکن ہر بچے کو ماں کا دودھ ملے یہ ضروری نہیں ہے۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مرنے والی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ایسی مرحوم ماؤں کے بچوں کے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجانے کے امکانات زندہ ماؤں کے بچوں کی نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے بھینس یا بکری کا دودھ بطور غذا دیا جاتا ہے جو ان کے لیے ناقابل ہضم ہوتا ہے، اور معدے اور آنتوں کی بیماریوں، ڈائیریا کا باعث بنتا ہے۔ اور بیرونی غذاؤں میں بیکٹیریا اور جراثیم کی پرورش اور انفیکشن پھیلانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
ہیومن ملک بنک:قسط I
پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک
کچھ ماہ پہلے سوشل میڈیا پر مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک کے حوالے سے ہنگامہ مچا رہا ۔ زیادہ تر عوام نے کم علمی یا لا علمی کی بنیاد پر ایک ممخصوص طبقے کی طرف سے اڑائی گئی یک طرفہ افواہ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ یا آئیڈیے کی مخالفت میں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔
مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک بنانے کا بنیادی آئیڈیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان/ سندھ میں بھی وہی تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے۔ جو نہ صرف انفیکشن فری ہوتا ہے بلکہ ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچے کو غذائیت کے علاوہ اینٹی باڈیز بھی فراہم کرتا ہے جو بچے کی قوت مدافعت کی تشکیل کرتی ہیں ۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں متعدد سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر خواتین اور بچیوں یعنی ماوں کی اکثریت خود غذایت کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ پھر کم عمری کی شادی اور بار بار حمل اوربغیر وقفے بچوں کی پیدائش میں ان کی رہی سہی غذائیت بھی ضایع ہوجاتی ہے ۔ لہذہ ایسی خواتین کے بچوں کے لیے خصوصاً اور پیٹ کے کچھ مخصوص امراض میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کو عموماً صحت مند اور غذایت سے بھرپور ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان کی اپنی ماں کا دودھ پوری نہیں کرسکتا ۔ فارمولہ ملک ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک دیا جاتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے جسے عام آدمی افورڈ نہیں کرسکتا۔
Friday, April 24, 2026
"ویک اینڈ برباد"
چھٹی کےدن کچھ پراڈکٹو کرنا،
اچیومنٹ کا احساس حاصل ہونےکے لائق کچھ نہ کچھ کرنا کیا لازمی ہے۔
کیا ایک دن بندہ فارغ نہیں رہ سکتا کچھ اچیو کیے بغیر،
کوئی ٹارگٹ پورا کیے بغیر۔
کسی روٹین پر عمل کیےبغیر۔ تھوڑا دیر سے اٹھ کر، تھوڑا وقت ضایع کر کےریلکس کرنا منع ہے کیا۔
Tuesday, April 14, 2026
فاطمہ کی اماں
اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،
Friday, April 10, 2026
کاہے کو بیاہی بدیس
شاید ازل سے یا جب سے پدرسری سماج کا ظہور ہوا ہے ہر معاشرے میں لڑکی ہی رخصت ہوکر سسرال یا نئے گھر جاتی ہے۔ زیادہ تر ایک ہی شہر میں لیکن بعض اوقات کسی اور سسرالی شہر میں جا بستی ہیں۔ عموماً سسرال میں اور بعض اوقات نیا جوڑا الگ آشیانہ بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔ اور یہ نیا آشیانہ عموماً لڑکے کے گھر کے نزدیک یا کم از کم لڑکے کے شہر میں ہوتا ہے۔ اور اس کے انتظام کی ذمہ داری بھی لڑکے پر ہی ہوتی ہے ۔اور جسےسامان سے بھرنا لڑکی کی ، خیر یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر الگ سے بات کی جانی چاہیے۔
Labels:
Behavior,
Common Sense,
Culture,
Ethics & Values,
Gender,
Pakistan,
Society,
Values
Friday, April 3, 2026
Period. End of Sentence
ایک رات نیٹ فلکس پر چکراتے ہوئے یہ مختصردستاویزی فلم نظر آئی۔ دورانیہ دیکھا ، تقریباً آدھا گھنٹہ تھا۔ سونے میں بھی اتنا ہی وقت باقی تھا۔ کیونکہ صبح دفتر بھی جانا تھا۔ کوئی پوری مووی یا سیزن دیکھنے کا ٹائم نہیں تھا ۔ یہ اوریجنل پیڈ مین آف انڈیا کے ایجادکردہ پیڈ مشین اور بنائے گئے پیڈز کے بارے میں ہے کہ کس طرح گاوں دیہات میں نیڈ اسسٹمنٹ کی جاتی ہے اور کس طرح خواتین کو یہ پیڈز تیار کرنا سکھایا جاتا ہے اور پھران کو بیچنا۔ اس طرح ایک طرف خواتین کو صاف ستھرے سینٹری نیپکنز میسرہورہےہیں دوسری طرف خواتین کو روزگار بھی میسر آرہا ہے اور ان کا سماج میں کردار اور رویہ بدل رہا ہے ۔ یہ تو اس کا فارمل تعارف تھا ۔ یعنی مرکزی خیال
Monday, March 23, 2026
وطن کی مٹی گواہ رہنا
بچپن کا 23 مارچ
ونس اپان ان ڈریم ٹائمز 23 مارچ کے روز ہم بچے نہا دھو کے نئے کپڑے پہنتے تھے ، یہ نئے کپڑے وہ ہوتے تھے جو کہیں آنے جانے کے لیے پیٹی میں رکھے ہوتے تھے یعنی روز مرہ استعمال سے ہٹ کر خاص والے کپڑے۔ اماں 23 مارچ کو بریانی پکاتیں۔ ابا مٹھائی لاتے۔ اور سارا دن ٹیپ ریکارڈر پر فل آواز میں قومی نغموں کے کیسٹ بجائے جاتے، جتنی فل اس بے چارے ریکارڈر کی آواز بلند ہوسکتی تھی۔
Labels:
Behavior,
Common Sense,
Culture,
Ethics & Values,
Hypocrisy,
Music,
PTV
Friday, March 20, 2026
کمفرٹ واچ
یہ تذکرہ ہے ایسی دو سیریز کا جوہم عصر نارمل اربن مڈل کلاس کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ ان کو دیکھ کر آپ کو لگے گا کہ آپ بھی ان ساری سچویشنز سے گزر چکے ہیں یا یہ تجربے آپ کو بھی ہوسکے ہیں۔ ایک عام آدمی کو درپیش آنے والے معاملات، مسائل اور ان کا تجزیہ، ان پر بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دونوں میں کچھ کچھ مزاح بھی استعمال کیا گیا ہے ، لیکن انہیں مزاحیہ کے بجائے لائٹ رومینٹک سیریز کہنا بہتر ہے۔ کمفرٹ واچ اس لیے کہا کہ ان میں کوئی ایڈونچر، تھرل، ہارر ، ایکشن نہیں ہے عام لوگوں کی عام سی خاص کہانیاں اور بس
پہلی سیریز ہے مس میچڈ،
کالج اسٹوڈنٹس کی زندگی سے لیے گئے ذاتی مسائل سے لے کر کالج میں ہونے والے جھگڑوں ، دوستوں کے درمیان نا اتفاقیوں میں گھری ہوئی پانچ لو اسٹوریز یا پانچ ریلیشن شپس کے الجھے دھاگے ۔ پانچوں کپلز کے پارٹنرز سوشل اسٹے ٹس،ذاتی پسند ناپسند اور عادات میں کہیں سے بھی آپس میں کہیں میچ نہیں کرتے۔
Friday, January 23, 2026
کرائے کی کوکھ (Surrogacy) اور بالی ووڈ
کہا جاتا ہے کہ ماں بننا کسی بھی عورت کے لیے اس کی زندگی کی معراج ہوتی ہے۔ مشرقی معاشروں اور خصوصاً مسلمان معاشرے میں ماں کا درجہ بہت اونچاسمجھا جاتا ہے ، ماوں کے قدموں کے نیچے جنت پائی جاتی ہے۔ کہ ماں کی خدمت کر کے آپ جنت کما سکتے ہیں لیکن ماں بننا یا ماں بننے کے مرحلے سے گزرنا ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ بہت ساری میڈیکل کنڈیشنز ایسی ہیں جن کی وجہ سے کوئی عورت پریگننٹ نہیں ہوپاتی۔ اور ماں بننے سے رہ جاتی ہے۔ ایسی بھی خواتین ہیں جنہیں لگتا ہے کہ پریگننسی سے ان کا جسم خراب ہوجائے گا لہذہ وہ ماں بننے سے انکاری ہوتی ہیں۔
Friday, January 16, 2026
بیگم جان: تقسیم کے پس منظر میں ایک منفرد مووی
ریڈکلف باونڈری کمیشن کے فیصلے سرحد کے دونوں جانب قابل اعتراض رہے ہیں سیاسی، جغرافیائی، سماجی، جذباتی ہر لحاظ سے۔ کہیں خاندان تقسیم ہوگئے، کہیں گاوں تقسیم ہوگئے کہیں زمین تقسیم ہوگئی خاص کر بنگال اور پنجاب کی تقسیم پر آج تک دونوں طرف کے لوگ نوحہ کناں ہیں۔
Friday, January 2, 2026
مرنے کے بعد کیا ہوگا
بتاوں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
احباب کھائیں گے پلاو فاتحہ ہوگا
ہم میں سے کون ہے جو کسی جنازے میں شریک نہ ہوا ہو یا جس کے قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے گھر میں کسی کا انتقال نہ ہوا ہو۔ انتقال والے گھر میں جہاں گھر والے ایک جانب غم سے نڈھال ہوتے ہیں وہیں انہیں جنازے کا انتظام کرنے، مہمانوں کی دیکھ بھال ان کے کھانے پینے ، مہمانان خصوصی کے خاص خیال کی فکر پڑی ہوتی ہے اتنی کہ وہ اپنا غم لپیٹ کر طاق پر رکھ دیتے ہیں کہ سوئم کے بعد اطمینان سے روئیں گے۔
Wednesday, December 31, 2025
نکے نکے سے عظیم دکھ ورژن 3.0
ہماری برادری کافی روایتی ہے۔ جس میں شادی بیاہ وغیرہ پر بھات لینے دینے کا بڑا رواج تھا، کسی حد تک اب بھی ہے ۔ بھات ان کپڑوں/ ملبوسات چوڑیوں ، مہندی، مٹھائی وغیرہ کو کہا جاتا ہے جو شادی کے موقع پر شادی والے گھر میں لڑکی یا لڑکے کے ماموں چچا وغیرہ ایک بڑی ساری پرات یا سینی میں سجا کر خوان پوش سے ڈھک کر تحفہ کے طور پر لاتے تھے اس میں دلہا / دلہن کے کپڑے، ان کے والدین کے کپڑے یا کم از کم والدہ کا دوپٹہ اور والد کا تولیہ صافہ یا کندھے پر ڈالنے کا رومال اور غیر شادی شدہ بھائی بہنوں، بھتیجیوں اوربھتیجوں وغیرہ کے لیے تحائف جیسے دوپٹے چوڑیاں مہندی رومال وغیرہ ہوتے تھے۔
ہم بہت بچپن سے دیکھتے آئے تھے کہ جب خاندان میں کسی کی شادی ہوتی تو دلہا یا دلہن کی بھتیجیوں، پھپھیوں ، بھابھیوں وغیرہ کو ان کے اپنے خاندان کی طرف سے بھی اور دوسری پارٹی کی طرف سے بھی ہر رسم میں یاد رکھا جاتا جیسے ہمارے ماموں یا خالہ کی شادی ہوئی تو سسرال والوں کی طرف سے میری خالاوں، ممانیوں اور میری ماموں زاد بہنوں کے لیے جوڑے/ دوپٹے، چوڑیاں اور مہندی وغیرہ بھات یا نیگ میں ضرور آتے۔ اور مہندی مایوں کی رسومات میں جو پیسے جمع ہوتے ان میں سے بھی حصہ ملتا اورہماری ماموں زاد کزنز ہمارے سامنے اترا اترا کر ان چوڑیوں کی نمائش کرتیں۔ جوڑا سی کر شادی میں پہن لیتیں، شادی کی رسموں میں بھی انہیں آگے آگے رکھا جاتا۔
Thursday, December 25, 2025
فاطمہ نامہ 1
فاطمہ بہت چھوٹی سی تھی شاید ایک ڈیڑھ سال کی۔ ہم اسے انگلی چوسنے سے منع کرتے تھے۔ ایک دن ہم دونوں نیچے اکیلے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اس نے منہ میں ہاتھ ڈالا میں نے اسے منع کیا۔ اس نے نکال لیا تھوڑی دیر بعد پھر انگلی منہ میں۔ میں نے قریب سے ماچس اٹھائی اور کہا میں تمہارا ہاتھ جلادوں گی اب اگر منہ میں لیا۔ فاطمہ ایک دم خوفزدہ ہو کر مجھ سے دور ہوگئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات مجھے آج تک نہیں بھولتے۔ جتنی دہشت تھی اس کے چہرے پر۔
Subscribe to:
Posts (Atom)