Friday, January 23, 2026

کرائے کی کوکھ (Surrogacy) اور بالی ووڈ

کہا جاتا ہے کہ ماں بننا کسی بھی عورت کے لیے اس کی زندگی کی معراج ہوتی ہے۔ مشرقی معاشروں اور خصوصاً مسلمان معاشرے میں ماں کا درجہ بہت اونچاسمجھا جاتا ہے ، ماوں کے قدموں کے نیچے جنت پائی جاتی ہے۔ کہ ماں کی خدمت کر کے آپ جنت کما سکتے ہیں لیکن ماں بننا یا ماں بننے کے مرحلے سے گزرنا ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ بہت ساری میڈیکل کنڈیشنز ایسی ہیں جن کی وجہ سے کوئی عورت پریگننٹ نہیں ہوپاتی۔ اور ماں بننے سے رہ جاتی ہے۔ ایسی بھی خواتین ہیں جنہیں لگتا ہے کہ پریگننسی سے ان کا جسم خراب ہوجائے گا لہذہ وہ ماں بننے سے انکاری ہوتی ہیں۔
PC: Internet
مغربی معاشرے نے ان مسائل کا حل ٹیسٹ ٹیوب بےبی، آرٹی فیشل ان سیمینشن اور سروگیسی یا کرائے کی کوکھ سے نکال لیا ہے۔ لیکن مغربی اور مشرقی معاشروں کی بنت میں بہت فرق ہے۔ رنگ، نسل، مذہب، رسم و رواج بہت ساری ایسی قدریں ہیں جن کی بنیاد پر ان جدید طریقوں سے ماں یا والدین بننے میں ابھی بھی دقتیں ہیں۔ اور سب سے بڑی دقت ہے ہمارا ایشین جذباتی پن۔ اسی جذباتی پن پر بالی ووڈ کی تین فلموں کا تعارف پیش ہے۔

چوری چوری چپکے چپکے

اس زمانے کی مووی ہے جب سلمان خان، رانی مکر جی اور پریٹی زنٹا کی فلمیں دھڑادھڑ آرہی تھیں ان ہی میں سے ایک مووی تھی چوری چوری چپکے چپکے۔ رانی مکر جی کسی میڈیکل وجہ سے ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہے، بچہ ایڈاپٹ کرنے کے بجائے وہ اپنا بچہ چاہتے ہیں اور بچے کےحصول کے لیے ایک کال گرل کرائے پر لیتےہیں۔ اپنا ملک چھوڑ کر سال بھر کے لیے یورپ چلے جاتے ہیں تاکہ واپس آکر خاندان کو وہ بچہ مکمل طور پر اپنا بچہ کہہ کر پیش کرسکیں۔

پہلا جذباتی مرحلہ آتا ہے جہاں شوہر کو اس کال گرل سے فزیکل ریلیشن شپ قائم کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت کے قریب نہیں جانا چاہتا، بیوی کے لیے بھی یہ بات برداشت کرنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ خیر ۔۔ بہر حال اس مرحلے سے گزر ہی جاتے ہیں [ویسے پتا نہیں آرٹیفیشل ان سیمی نیشن کا خیال کیوں نہیں آیا ڈائریکٹر کو]۔ اگلا جذباتی مرحلہ یہ آتا ہے کہ ہیرو کی شرافت سے متاثر ہوکر کال گرل اس کی محبت میں مبتلا ہوجاتی ہے، مزید جذباتیت اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب ڈلیوری کے وقت ماں اور بچےمیں سےکسی ایک کو بچایا جاسکتا ہے اور فیصلہ ہیروئن کے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ وہ اتنے لمبے انتظار کے بعد اپنے شوہر کے بچے کو حاصل کرلے یا اس کال گرل کی زندگی بچا لے، اب کون بچا خود فلم دیکھ کر فیصلہ کرلیں۔

فی الحال
چار دوستوں کی کہانی جو اصل میں دو کپلز ہیں۔ ایک جوڑے کی شادی ہوچکی ہے اور ایک مس کیرج بھی۔ اور تبو اب ماں نہیں بن سکتی۔ ڈاکٹر کے مشورے پر کسی کرائے کی کوکھ میں آرٹی فیشل ان سیمینشن کا فیصلہ ہوتا ہے اور دوسری غیر شادی شدہ دوست اپنی دوست کے لیے اپنی کوکھ پیش کردیتی ہے۔

ایک غیر شادی شدہ لڑکی کے ماں بننے وہ بھی کسی اور کے بچے کی ماں بننے کے الگ سماجی مسائل ہوتے ہیں۔ والدین، بوائے فرینڈ الگ ناراض ہوتے ہیں، کلائنٹ الگ طعنے دیتے ہیں کہ پریگننسی میں فوٹوشوٹ کرنے کے بجائے گھر بیٹھے۔ ایک جملہ ہمیں اس فلم میں بہت پسند آیا " آئی ایم پریگننٹ ، ناٹ سک" اور یہی پٹی ہم نے اس دوران اپنی بھاوج کو پڑھا کر کہ تم پریگننٹ ہو، بیمار نہیں، اس کی پریگننسی آرام سے گزروا دی اور خود ایم فل کرنے قاہرہ بھاگ گئے۔

اصل جذباتیت دونوں دوستوں کےدرمیان آتی ہے جب میاں اپنے بچے سے پریگننٹ ہونے کی وجہ سے اس دوست کو اہمیت دینا شروع ہوتا ہے، بچے کے پہلے الٹرا ساونڈ، پہلی ہارٹ بیٹ پر سیلیبریشن میں فزیکل ماں کو شریک کرنا چاہتا ہے، اتنی جذباتیت کہ اصلی ماں اس بچے کو اون کرنے سے ہی انکار کردیتی ہے۔ کہ مجھے یہ بچہ چاہیے ہی نہیں۔ یو کین امیجن دی ڈرامہ

می می
کرائے کی کوکھ کی سب سے بدترین کاروباری شکل پر کچھ سال پہلے آنے والی فلم میمی۔ جس میں ایک فرنگی جوڑا ایک غریب لیکن ایمبی شئس/ بڑی ڈانسر بننے کے بڑے بڑے خواب دیکھنے والی انڈین لڑکی کی کوکھ کرائے پر لیتے ہیں اور پریگننسی کے درمیان انہیں بچے میں کسی طبی نقص کا پتا چلتا ہے تو اسے بے یار و مدد گار چھوڑ کر فرار ہوجاتے ہیں۔ پھر اس پر کیا کچھ گزرتی ہے وہ تو فلم دیکھ کر ہی پتا چلتا ہے لیکن اس کا ایک جملہ دل چیر گیا، "زندگی وہ نہیں ہوتی جو ہم نےسوچا ہوتا ہے، زندگی وہ ہوتی ہے جو ہمارے ساتھ ہوجاتا ہے"

ان تینوں فلموں میں سروگیسی سے منسلک سماجی، جذباتی اور ذاتی پہلووں اور پیدا ہونے والے مسائل پر بات کی گئی ہے۔ ہم پتا نہیں کب اس مقام پر پہنچیں گے۔
👼👼👼👼👼