شہزاد کے بعد پہلا روڈ ٹرپ
شہزاد کی زندگی میں بہت لوگ ہمارے ساتھ ٹرپس پر جانا چاہتے تھے، اوربہت سے لوگ جاتے بھی تھے، ابا کے دوست، اس کے اپنے دوست اور ہمارے دوست بھی۔ وہ سیر و تفریح کا شوقین اور انتہا کا محنتی تھا۔ ٹرپ چاہے ابا کے دوستوں کا ہی ہوتا وہ اس میں شامل نہ بھی ہوتا تب بھی پورے دو دن سامان اکھٹا کرنے اور واپس ٹھکانے لگانے میں لگاتا۔ جب وہ بھی ساتھ جاتا تو ٹرپ کی ساری ذمہ داری اس کی ہوتی۔ کھانا پکانا، برتن دھونا اور سارا سامان ڈھونا گھر سے گاڑی، گاڑی سے کیمپ تک اور واپس گھر تک۔
فیملی ٹرپ ہوتا، ساتھ ہمارے دوست بھی شامل ہوتے تب بھی سارے کام خود کرتا اپنے شوق سے اور اپنی ذمہ داری پر۔ ہمارے ایک دوست کی بیگم کے بقول انہیں اپنے میاں سے زیادہ شہزاد پر بھروسہ تھا کہ شہزاد کی موجودگی میں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔
شہزاد کے بعد ہم اکثر سوچا کرتے کہ یار ہم اتنی محنت کرسکیں گے جتنی وہ کرتا تھا۔ اتنا سامان اکھٹا کرنا، پیک کرنا، گاڑی پر لادنا، پھر پکنک پوائنٹ پر ان لوڈ کرنا، پھر دوبارہ لوڈ کرنا، یہ ہم سے اکیلے ہوپائے گا۔ لیکن اس سے بھی مشکل مرحلہ تھا گھر سے تنہا نکلنے کی ہمت جمع کرنا۔ چھوٹے موٹے ٹرپس، شہر کے نزدیک آدھے دن کا ٹرپ کرنا تو آسان تھا لیکن شہر سے دور ویرانوں کا رخ کرنا، حوصلہ ہی نہ ہوپاتا تھا۔
یہی خیال آتا تھا کہ بچوں کے ساتھ کہیں کوئی مسئلہ ہوگیا، گاڑی خراب ہوگئی، موسم خراب ہوگیا تو ہم کیا کریں گے۔ شہزاد کے بعد کنڈ ملیر نائیٹ کیمپنگ کا پروگرام تو بنا لیا لیکن دل میں ہزاروں اندیشے۔ اپنے دوستوں کو صلاح ماری، ان دوستوں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا جو آئے دن ہمارے ساتھ فیملی ٹرپ کرتے رہتے تھے لیکن انہیں ہماری آواز ہی سنائی نہیں دی شاید۔ ابا کے دوستوں کو فون کھڑکوائے، شہزاد کے دوست سے پوچھا ساتھ چلنے کو لیکن اب شہزاد نہیں رہا تو لوگوں کو لگتا ہے کہ شاید ہم انہیں اس لیے ساتھ چلنے کو کہتے ہیں کہ ہم ان سے اپنا سامان اٹھوائیں گے یا کام کروائیں گے۔ یا ہم ان کی ذمہ داری، ان پر بوجھ بن جائیں گے۔
نہیں بھائی ہمیں کسی سے کچھ بھی نہیں کروانا تھا، ہماری تربیت ہی نہیں ہوئی دوسروں پر انحصار کرنے کی۔ ڈرائیو ہم خود کرلیتے ہیں، سامان بھی خود ہی اٹھا پٹخ کرلیتے ہیں۔ ہمیں تو صرف ساتھ ہونے کا احساس چاہیے تھا جو کسی نے نہیں دیا۔ اور آج کے بعد ہمیں اس کی بھی ضرورت نہیں رہی۔
⚓ تھینکیو ایوری ون ⚓
14 اگست 2020 کی تحریر۔ مزید سفرنامے پڑھنے کے لیے اسکرول اور کلک کیجیے۔
تاک بندر سفرنامہ ، ، ، ، ، ، ، ، کے ٹو سفرنامہ ، ، ، ، ، ، ، ، رش لیک داستان ، ، ، ، ، ، ، ، تھرپارکر سفاری
، ، ، ، مڈ والکینو ٹریکنگ ، ، ، ،