ویسے تو اللہ کا شکر ہے کہ میں نے فیملی کے ساتھ بچپن ہی سے بہت تفریح کی ہے، ہر وہ جگہ جہاں ہم اپنے دستیاب وسائل کے ساتھ پہنچ سکتے تھے ہم نے نہیں چھوڑی۔ لیکن میری انفرادی سیر و تفریح کی شروعات 2010 سے شروع ہوئی۔ جب مجھے اسکالر شپ پر تین سال کے لیے مصر جانے کا موقع ملا۔
نیا ملک، نئی زبان، الگ تہذیب، بھانت بھانت کے لوگ۔ وہاں نہ ابا تھے نہ بھائی کہ آرڈر جاری کردو، دفتر سے واپسی پر مطلوبہ شے سامنے ٹیبل پر رکھی ملے گی۔ سب کچھ خود ہی کرنا تھا، حقیقت میں آٹے اور دال کا ہی نہیں آلو، پیاز، ہری مرچ، ٹماٹر کا صرف بھاو ہی نہیں معلوم ہوا اچھے برے کی بھی پہچان ہوگئی۔ روز ایک نیا تجربہ، روز ایک نئی دریافت۔ صرف یہی نہیں، انجان سڑکوں اور شہر میں تفریح بھی خود ہی کرنی تھی۔کب تک ہانٹڈ ہوسٹل میں بیٹھے رہتے۔ لہذہ چار زبانیں بولنے والی چار لڑکیاں کبھی مل کر کہیں چل دیتیں ، کبھی کہیں۔ صرف قاہرہ میں ہی نہیں ، کبھی مل کر الیکزینڈریا چلے جاتے، کبھی لکسر اور اسوان
مصر سے واپسی پر میں نے شرافت سے دفتر جوائن کر لیا تھا۔ دفتر والوں نے بھی یہ سوچ کر کہ یہ تو تین سال مصر میں عیش کر کے آئی ہیں تو اب انہیں کام میں رگڑا لگایا جائے۔ پھر 2014 میں میری ملاقات فریال اینڈ کمپنی سے ہوئی اور فریال اور بخاری کے انویٹیشن پر پہلی بار شمال کا سفر کیا۔ امید تھی کہ یہ سلسلہ اب چلے گا لیکن اپریل 2015 میں امی کا انتقال ہوگیا۔ جون میں فریال ٹرپ لے کر ترشنگ جارہی تھیں ۔ فریال نے بہت ضد کی، بہت اصرار کیا لیکن مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آتا تھا۔ کہ گھر کیسے چلے گا زندگی کیسے چلے گی۔ہر شے تلپٹ ہوگئی تھی۔
لیکن میرا بھائی ۔پھر بھائی ہم سب کی ماں بن گیا، اس نے ہم سب کو سنبھال لیا۔ پورےگھر کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ نیند کا کچا تھا۔ صبح بچوں کو اسکول چھوڑ کر واپس سو جاتا پھر گیارہ بجے تک اٹھتا ، اس کے بعد رات بارہ بجے تک ایک پاوں پر کھڑا رہتا، بچوں کو اسکول سے لاتا، سودا لاتا، کھانا پکانے میں مدد کرتا، گھر کے ہر قسم کے کام خود کرتا، کلینک کی دوائیں بناتا، بوتلوں میں بھرتا، ان پر اسٹکرز لگاتا، سارے جنریٹرز کے تیل پانی پر چیک رکھتا، تاریخیں نوٹ کرتا کب آئل بدلا، کب بیٹری میں پانی ڈالا،ساری موٹریں، سارے پمپ، ساری بجلی کے آلات، ساری بائکس، دونوں گاڑیاں، کسی میں چور لاک لگا رہا ہے کسی میں لائٹس، کسی میں شیشے، کسی میں کچھ کسی میں کچھ، گھر میں کبھی بجلی کے کسی سوئچ کی مرمت کر رہا ہے، کبھی کسی نلکے کی، کبھی گیس کی لائن چیک کر رہا ہے۔
رات کو سب جمع ہوتے تو بلا وجہ ہی ابا کی ٹانگیں دبانے بیٹھ جاتا۔ان کی دواوں کا حساب کتاب رکھتا، ہر دو ماہ بعد انہیں کولیسٹرول چیک کروانا یاد کرواتا۔مجھے کسی بھی چیز کی ضرورت ہوتی ، مجھے بس آرڈر کرنا ہوتا ، وہ شے آجاتی، لیکن آتی ہفتے بھر بعد، جب میں اسے بار بار شرمندہ کرتی کہ اپنی بیوی کا نلکا ایک دن میں بدل دیا، میرا نلکا دو دن سے نہیں بدلا، ہنستا جاتا اور مجھے چڑاتا جاتا، کہ ہاں نہیں کررہا، ٹائم نہیں ہے میرے پاس ۔ میں بھناتی ہوئی باتھ روم جاتی تو نلکا بدلا ہوا ہوتا۔ یہی گاڑی کی صفائی کے ساتھ ہوتا، میں کہہ کہہ کر تھک جاتی، ہاں کردوں گا، ہاں بھول گیا، جا خود کرلے ۔ پھر میں صبح گاڑی نکالتی تو وہ صاف کی ہوئی ہوتی۔
مجھے کچھ پتا نہ ہوتا تھا کہ گھر میں سبزی ہے کہ نہیں، دودھ تو نہیں ختم ہوگیا۔ میں بے خبر و بے فکر ہوتی کہ منا ہے ناں۔ میں تو صبح آٹھ بجے کی نکلی شام چھ بجے گھر میں داخل ہوتی، اور اکثر تو چھ بجے بھی نہیں۔ کبھی دفتر سے کسی خالہ کی طرف چلی جاتی، کبھی ماموں کی طرف، کبھی کسی دوست کی طرف، کبھی کسی ایونٹ میں۔ اسی بے فکری کا نتیجہ تھا کہ میں نے 2016 سے اپریل 2019 تک بے تحاشہ تفریح کی، شمال و جنوب کی ہر ممکن جگہ کی سیر کی، دوستوں کے ساتھ، کمرشل گروپس کے ساتھ، فیملی کے ساتھ، بالکل نئے لوگوں کے ساتھ۔ صرف یہی نہیں اپنے شہر کی سڑکیں ناپ ڈالیں، کراچی کے نئے نئے چہرے دریافت کیے۔
میرا کوئی دوست کسی اور شہر سے کراچی آتا، میں اسے اپنی طرف سے پورا پروٹوکول دینے کی کوشش کرتی۔ ملنے جاتی، کھانا یا چائے جو ممکن ہوتا، جتنا ممکن ہوتا شہر گھماتی، اپنے گھر انوائیٹ کرتی۔ اور شہزاد خوشی خوشی مسکراتے چہرے کے ساتھ ان کی میزبانی کرتا، بریانی پکاتا اور کھلاتا۔ اس ساری سیر و تفریح، مہمان نوازی اور آوارگی کے پیچھے یہ اطمینان ہوتا تھا کہ گھر محفوظ ہے اور مضبوط ہاتھوں میں ہے۔میرے بچے محفوظ ہیں۔ وہ میری ہمت تھا، میرا اعتماد، میرا اعتبار۔ میری ساری تفریحات کے پیچھے اس کا دم تھا۔
لیکن اس کے بغیر میں آدھی بھی نہیں ہوں۔ میرا سارا اعتبار، سارا اعتماد، سارا اطمینان اس کے ساتھ رخصت ہوگیا۔میری ہمت ٹوٹ گئی ہے۔ ہر ایک مجھے کہتا ہے سب ٹھیک ہوجائے گا، لیکن مجھے پتا ہے اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا، یہی Chaos، یہی عدم اطمینان ، عدم اعتماد میرے نصیب میں ہے، ہمیشہ کے لیے۔ سب مجھے کہیں کسی ٹرپ پر، کسی تفریح پر چلنے کو کہتے ہیں ۔ لیکن دل کو اب وہ اطمینان کہاں سےد لاوں کہ میری غیر موجودگی میں اس کا مضبوط سہارا موجود ہے۔
بچوں کو چھوڑ کر خود تفریح کے لیےنکل جانا ویسے بھی اب میرے لیے ممکن نہیں۔ اب گھر میں ہم لوگ ہی کتنے بچے ہیں۔ ان میں سے بھی ایک کم ہوجائےتو گھر مزید خالی خالی لگنے لگتا ہے۔ مجھے اخلاقی طور پر بھی یہ درست نہیں لگتا کہ بچے گھر میں انتظار میں رہیں کہ پھپھو کب آئیں گی اور میں باہر سیر تفریح کرتی پھروں۔ وہ بھی کئی کئی دنوں کے لیے، مجھ میں یہ حوصلہ نہیں۔
مجھے پتا ہے سب کہیں گے کہ میں یہ غلط کر رہی ہوں، اور بہت ممکن ہے جن کے لیے کر رہی ہوں وہ بھی کل میرے منہ پر کہہ دیں کہ ہم نے تو آپ کو نہیں روکا تھا، یا ہم پر یہ کوئی احسان نہیں، ہم پر احسان نہ جتائیں۔ اور وہ ٹھیک ہی تو کہیں گے۔ میں یہ ان کے لیے تو نہیں کررہی، میں تو اپنے بھائی کا قرض اتار رہی ہوں ، ان سارے احسانوں کا جو اس نے ماں بن کر ہم پر کئے۔ میں ان دوستوں سے شرمندہ ہوں جن کے ساتھ میں نے بہت سارے ٹریکس کرنے، بہت ساری تفریح کرنے کے پلان بنائے تھے۔ لیکن اس کے بغیر میں نہیں کرسکتی ، کچھ بھی۔ مجھ سے نہ ہو پائے گا اب۔
تحریر دسمبر 2019
💔💔💔
| یہ میری فیورٹ ترین تصویر ہے۔ بھائی ایسے ہونے چاہئیں، ایسے ہی ہونے چاہئیں |