کل رات امجد اسلام امجد کا لکھا شاندار ڈرامہ دریا مکمل دیکھا
مائی گاڈ ۔۔۔ اٹ از اے ماسٹر پیس ۔
پلاٹ،
کہانی ،
اورکہانی کی بنت میں مقامی روایتیں، رسم و رواج ، فوک متھ،
زبان، اور سرائیکی لہجے میں مکالموں کی ادائیگی،
لوکیشن، کاسٹیوم ، مقامی جیولری، آرٹ ڈائرکٹر نے بہت جان ماری ہوگی ان سب کے لیے
اور بیک گراؤنڈ میوزک ، ہائے وہ بانسری جسے سن کر لگتا ہے کہ بندہ صحرا کے بیچوں بیچ پیاسا کھڑا ہو جیسے ۔
اتنا خوبصورت ڈرامہ روہی پر شاید ہی کوئی ہو۔
محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش روٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا
شاہ مرید کے ساتھ جانا بھی نہیں ہے، اور جاتے جاتے اسے آواز دے کر کہنا کہ سنو شام کو گھر جلدی آجایا کرنا ، کچھ لوگ بس اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے دل میں تو رہیں لیکن زندگی میں نہیں
لڑکے یہ یاد رکھیں کہ ثمینہ پیر زادہ اب ان کی اماں کی عمر کی ہے اور لڑکیاں چاہے ہماری عمر کی کیوں نہ ہوں توقیر ناصر اور عثمان پیرزادہ پر فدا ہوسکتی ہیں 





پی ایس: ایک سال پرانی فیس بک یادداشت برائے پی ٹی وی کو خراج تحسین
بس پرنٹ سے مار کھا جاتے ہمارے یہ شاہکار ڈرامے۔ کاش کوئی اے آئی سے ان کا پرنٹ کانچ جیسا کردے.
دیگر ڈراموں پر تبصرہ جات کے لیے کلک کیجیے
📺😍📹🎭🎥😍📺