Monday, March 23, 2026

وطن کی مٹی گواہ رہنا

بچپن کا 23 مارچ

ونس اپان ان ڈریم ٹائمز 23 مارچ کے روز ہم بچے نہا دھو کے نئے کپڑے پہنتے تھے ، یہ نئے کپڑے وہ ہوتے تھے جو کہیں آنے جانے کے لیے پیٹی میں رکھے ہوتے تھے یعنی روز مرہ استعمال سے ہٹ کر خاص والے کپڑے۔ اماں 23 مارچ کو بریانی پکاتیں۔ ابا مٹھائی لاتے۔ اور سارا دن ٹیپ ریکارڈر پر فل آواز میں قومی نغموں کے کیسٹ بجائے جاتے، جتنی فل اس بے چارے ریکارڈر کی آواز بلند ہوسکتی تھی۔

  • سوہنی دھرتی اللہ رکھے
  • موج بڑھے یا آندھی آئے
  • جیوے جیوے پاکستان
  • ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم
  • چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
  • وطن کی مٹی گواہ رہنا
  • تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے
  • امید صبح جمال رکھنا، خیال رکھنا
  • زمین کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے
  • تیری وادی وادی گھوموں
  • اتنے بڑے جیون ساگر میں
اس زمانے کے قومی نغمے بھی نغمگی اور شعریت پر مبنی ہوتےتھے۔ آج کی طرح فوجی نغموں کو قومی نغموں کا نام نہیں دیا جاتا تھا۔ اور فوجی نغمے بھی سریلے اور شاعرانہ ہوتے تھے۔ جیسے کہ 
تم ہی سے اے مجاہدو، جہاں کا ثبات ہے، 
جاگ اٹھا ہے سارا وطن ساتھیو مجاہدو، 
ہم مصطفوی مصطفوی مصطفوی ہیں 
وغیرہ وغیرہ

لیکن موجودہ قومی[ایکچوِئلی فوجی] نغمے، اللہ کی پناہ، کاٹ کے رکھ دیں گے، مار کے رکھ دیں گے۔ صبح نیچے اپنے موبائل پہ گانے لگائے اپنے زمانے کے، بھتیجے صاب سیڑھیاں چڑھ گئے کہ میں اپنی امی کے موبائل والے قومی گانے سننے جارہا ہوں ، لو کرلو گل


💚💚💚💚💚