فیس بک نے باز نہیں آنا اپنی حرکتوں سے۔ اب اس نے ہمارے نیوز فیڈ میں ہمسفر اور داستان کے ٹوٹے نشر کرنا شروع کردیے۔ ہم سفر ناول ہم نے پڑھا ہوا ہے اور جتنا یاد رہ گیا ہے اس کے مطابق اس کی کہانی کافی دکھ بھری تھی۔ اور ہم میں اب مزید دکھ برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں بچا ہے لہذہ ہم نے داستان پر توجہ مرکوز کی ۔ لیکن ، ، ،
لیکن ہمیں ساڑھے نو قسطوں پر ہی بس کرنا پڑا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈرامے پر کہانی کے علاوہ بھی بہت محنت کی گئی ہے سیٹ/حویلیوں کا ماحول، کاسٹیومز، زیورات اور دیگر آرائشی اشیاء پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ فسادات کے مناظر بھی بہت محنت سے فلمبند کیے گئے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں آتا تھا کہ پی ٹی وی کے بعد بھی ایسا ڈرامہ بنایا جاسکتا ہے۔ اسے یقینی طور پر ماڈرن پاکستانی ٹیلی وژن ڈرامہ کے کلاسکس میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ بہت محنت کی ہے 1947 کا ماحول تخلیق کرنے میں
پھر بھی ہمیں ساڑھے نو قسطوں پر بس کرنا پڑا، بہت زیادہ ڈسٹربنگ ہے۔ آگے ہم سے دیکھا ہی نہیں گیا اور زیادہ ڈسٹربنگ اس لیے کہ بظاہر یہ ڈرامہ ناول پر مبنی ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ سب تقسیم ہند کی حقیقتیں ہیں ، اس کہیں زیادہ برا اور غلط ہوا اس دوران ،،، ڈرامے میں دکھائے گئے مناظر صرف ڈرامہ نہیں تھے۔ حقیقت میں کتنے ہی ہنستے بستے خاندان ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے، بچھڑ گئے، کسی کو کوئی ملا، کسی کو زندگی بھر نہ ملا۔
امرتا پریتم کے ناول پر بنی مووی پنجر اور عمیرہ احمد کے ناولٹ مٹھی بھر مٹی کے بعد تقسیم کے موضوع پر یہ تیسرا آرٹ ورک ہے جس نے ہمیں رلا دیا ، خاص کر وہ منظر جب ایک سکھ نوجوان بانو کو لاہور جانے والی ٹرین میں بٹھا کر واپس جارہا ہوتا ہے اور کسی دوسرے مسافر سے کہتا ہے کہ اس کا خیال کرنا یہ اکیلی ہے اور تیری قوم سے ہے، وہاں میں روپڑی۔
داستان کے بارے گوگل کرتے ہمیں پتا چلا کہ مٹھی بھر مٹی پر بھی ڈرامہ بن چکا ہے لیکن ہمارا دیکھنے کا بالکل بھی ارادہ نہیں، مزید رونے کی ہمت نہیں ہے ہم میں
💔💔💔💔💔