بات کچھ اس طرح ہے کہ ایک دن ڈرائینگ روم کی صفائی کرتے ٹی وی کھلا تھا ایک چینل پر فیس بک کے نو فلٹر پیج والی خاتون وی لاگر ایک ڈرامے میں بٹو آپا بنی نظر آئیں ، ایک کامیڈی سیریل کی کوئی قسط تھی۔ ان کی اداکاری وی لاگز کی طرح ہی بے ساختہ تھی۔ڈرامہ بھی ہلکا پھلکا لگا، نو ساس بہو، نو ایکسٹرا میریٹل افئیر۔ ڈرامے کا نام نوٹ کیا، یوٹیوب پر ڈرامہ تلاش کر کے جب تک کی ساری قسطیں دیکھ ڈالیں۔ اور سلسلہ چل پڑا۔۔ ۔
خیر سے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم ایسا بی جمالو ہے کہ ایک ایپ/یوٹیوب میں کوئی ڈرامہ دیکھ لو تو دوسری ایپ /فیس بک کی ریلز اور ویڈیوز میں اس سے ملتے جلتے ڈرامے کی کلپنگز دکھانا شروع ہوجائے گی۔ اس ڈرامے میں ہیرو ہیروئن ایک دوسرے کے دشمن ، ہر وقت ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں ،مطلب تھے، اب تک تو خیر سے ان کی سیٹنگ ہوچکی ہے اور کل آخری قسط میں ان کی شادی ہونے والی ہے۔ لہذہ فیس بک پر ایک ملتے جلتے انڈین سوپ کی ریلزاور ویڈیوز گردش میں آگئیں۔ اس ڈرامے کا قصہ ہم پہلے یہیں کہیں لکھ چکے ہیں، کہ کیسے آنکھیں پھوڑ پھوڑ کر ہم نے اس کی ساڑھے تین سو قسطیں دیکھیں۔
ان ساڑھے تین سو قسطوں کے دیکھنے کے جرم میں اسی قسم کے ایک ترکش ڈرامے کی جھلکیاں نظر آنے لگی، ان کی ہم نے جھلکیوں پر ہی اکتفا کیا، ویسے بڑا دل پر پتھر رکھ کر اکتفا کیا تھا، اس کے ہیرو ہیروئن بڑے ہی پپو تھے قسمے ۔ پھر ایک اور انڈین سوپ کی جھلکیاں آنا شروع ہوگئیں، اب اس ڈرامے تک پہنچتے پہنچے ہم خاصے چالاک ہوچکے تھے۔ لہذہ ہم نے اس کی اسٹوری جاکر وکی پیڈیا پر پڑھ لی ۔اس کے بعد فیس بک ریلز اور ویڈیوز نے تیرے بن کی اسٹوریاں نشر کرنی شروع کردیں۔ اس سے آگے کی کہانی اور تبصرہ آئندہ ویک اینڈ پر کیا جائے گا۔
اچھا ان ریلز اور ویڈیوز کی گردش سےپتا چلا کہ انڈین ڈرامے تھوک کے بھاو سے عربی اورترکی میں ڈبنگ ہوکر نشر ہورہے ہیں اور ترکی ڈرامے اسی رفتار سے ہندی میں ڈبنگ ہو کر نشر ہورہے اور خیر سے دونوں ایک دوسے کے ڈراموں سے بڑےانسپائر بھی ہورہے اور ان ہی اسٹوری لائنز پر خود بھی ڈرامے بنا رہے ۔
اس سارے ٹی وی دیکھنے کے تجربے کا خلاصہ یہ نکلا کہ ان سارے ڈراموں کی کہانیوں میں کیا چیز مشترک تھی کہ فیس بک ریلز اور ویڈیوز نے ان کے لوپ چلانے شروع کردیے۔ دونوں انڈین، ایک ترکش اور ایک پاکستانی سیریل میں [کامیڈی سیریل کو چھوڑ کر]
ایک پپو سا غصیلہ ہیرو
ایک کیوٹ سی ہیروئن۔
ایک جہازی سائز کا گھر جس میں سوئمنگ پول ہونا لازمی ہے۔
ایک ڈرامے میں تو ہیرو ہیروئن کے روم کے پائیں باغ میں ہی شیشے کے دروازے کے پار سوئمنگ پول تھا۔ تاکہ جب دل چاہے ہیروئن اس میں گر سکے اور ہیرو اسے ریسکیو کرسکے۔
کبھی کبھی ہیرو کا ایک جوکر نما سا دوست بھی ہوتا ہے۔ لیکن لازمی نہیں
ہیرو ہمیشہ امیر اور بڑے شہر کا ہوتا ہے ۔
لڑکی نسبتاً کم امیر یا متوسط طبقے سے ہوتی ہے لیکن ہیرو سے زیادہ انٹیلی جنٹ ہوتی ہے۔
دونوں پہلے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوتے ہیں۔
پھر دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگتے ہیں لیکن بتاتا کوئی بھی نہیں۔
دونوں میں سے کوئی ایک ضرور زہریلی طبعیت کا ہوتا ہے۔
پھر دونوں کی سیٹنگ کروانے کے لیے رائٹر اور پروڈیوسر کو انہیں کہیں نہ کہیں ایسی جگہ / سفر/ ایڈونچر/ گاوں بھیجنا پڑتاہے جہاں دونوں نے لڑ مر کر ساتھ ہی رہنا ہوتا ہے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اور اکثر جہاں جاتے ہیں وہاں ایک ہی کمرہ خالی ہوتا ہے دونوں کے لیے۔ یا پھر کسی کمپٹیشن یا پروجیکٹ کے لیے دونوں کو ایک ٹیم بنا دیا جاتا ہے۔
خیر دونوں کی سیٹنگ ہوجانے کے بعد ان کے درمیان کوئی نہ کوئی بڑا واقعہ یا بڑی ٹریجڈی ہوجاتی ہے ، کبھی ہیرو کا خطرناک والا ایکسی ڈنٹ، کبھی کوئی ولن جیسے کہ ہیروئن کا گاوں کا بیسٹ فرینڈ یا بچپن کا منگیتر ایک دم سے رونما ہوجاتا ، کبھی کوئی خاتون ولن بیچ میں آجاتی، کبھی کوئی اور سانحہ کیونکہ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں ۔ ساڑھے تین سو قسطوں والے میں ایسے پانچ بڑے سانحات ہوئے تھے ۔ خیر اس سانحے سے نکل کر دونوں ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔
دو ڈرامے دیکھ کر، باقیوں کی جھلکیاں دیکھ کر اور وکی پیڈیا پر کہانیاں پڑھ کر ہمیں بھی لگ رہا کہ ہم بھی ڈرامہ لکھ اور پروڈیوس کرسکتے ہیں، بس ذرا فرصت ملنے کی دیر ہے آپ کے بھائی کو
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔
🎯🎯🎯🎯🎯