❤️ ایک اور لو اسٹوری ❤️
بی اے میں ابا نے کہا اسلامی تاریخ رکھ لو آسان ہے ہم نے رکھ لی ۔پہلے سال دور رسالت اور خلفائے راشدین کے بارے میں پڑھا۔ عمر فاروق کی ذاتی صفات کے متعلق جانا ، ان کے دور حکومت، کارنامے، اور خدمات سے تعارف ہوا،،، اینڈ آئی فیل ان لو انسٹینٹ لی۔ حضرت عمر سے یہ پہلا تعارف تھا ۔ پھر اس کے بعد "الفاروق " کون چھوڑتا ہے بھلا۔ بس تب سے یہ لو افئیر جاری ہے۔
ابھی حال ہی میں یوسف پیامبر دیکھنے کے بعد دیگر اسلامی سیریز کے بارے میں جانا۔ ایک جاننے والے صاحب نے عمر سیریز ریکمینڈ کی، پھر ایک گروپ میں بھی عمر سیریز پر تبصرہ نظر سے گزرا۔ تلاش کی۔ پہلی ٹرائی یوٹیوب پر کی، پتا چلا کہ عربی زبان میں موجود ہے۔ اردو میں پہلی قسط ہے اور پھر چھبیسویں قسط ہے اور باقی ندارد۔خیر یہ تو بعد میں پتا چلا ۔ پہلی قسط دیکھی اس میں اردو ترجمے اور زبان و لہجے کا وہ معیار نہ تھا جو یوسف پیامبر کا تھا۔ لہجہ ہندی اور دو تین فیصد ہندی الفاظ کا تڑکہ ،منہ کا ذائقہ بڑا خراب ہوا۔ پھر عربی انگریزی سب ٹائیٹل سے ساتھ دیکھنی شروع کی دوسرے یا تیسرے پارٹ میں جا کر سب ٹائٹل چلنے سے انکاری ہوگئے، آن ہیں لیکن اسکرین پر نہیں آرہے۔ پھر ناچار ہندی مکس اردو دیکھنی شروع کی مگر پہلی قسط کے بعد مزید قسطیں غائب ۔ پھر گوگل کیا اور ایک لنک ملا جس پر ساری قسطیں موجود تھیں۔
تاریخ پڑھنا ایک بات ہے لیکن تاریخ کو اپنی آنکھوں کے سامنے منازل طے کرتے ہوئے دیکھنا ایک بالکل الگ سواد ہے۔ اسلام کا آغاز، قریش کی مخالفت ، مسلمانوں پر قریش کے مظالم ، بلال کو تپتی دھوپ میں سینے پر پتھر رکھ کر ایذا دینا ، عمر کی رسول اللہ کی مخالفت ، پھر چند آیتیں سن کر ان کا دل بدل جانا ،عمر کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں کے حوصلے ، نجاشی کے دربار میں قریش کی عزلت۔ ، مدینہ ہجرت ، مسجد نبوی کی تعمیر ،بلال کی پہلی اذان، ہجرت، اونٹنی کا ابو ایوب انصاری کے گھر کے سامنے بیٹھ جانا، مدینہ میں معاہدے، جنگ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق، صلح حدیبیہ اور پھر فتح مکہ، اسلامی افواج کی فتوحات۔
حضرت عمرکی شخصیت، کردار اور دانش مندی کا اظہار، دور رسالت اور ابوبکر کے دور خلافت میں ان کے مشورے، پہلے اصولی اختلاف اورپھر ابو بکر کے استدلال پر صاد کرنا۔ بار خلافت اٹھانے سے انکار، اور خلافت کی ذمہ داری اٹھانے کے بعدانتہا کی احتیاط پسندی، مزاج کی سختی کا نرمی اور حلم میں بدلنا ۔ سیریز میں عمر کے کردار کے لیے رائٹر، ڈائرکٹر اور پرفارمر نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ عمر کو ایک محنتی جفاکش چرواہے سے ایک دانش مند لیکن اسلام دشمن نوجوان ، پھر ایک بہادر مسلمان اور وفادار صحابی سے ایک دانا مشیر اور ذمہ دار خلیفہ میں تبدیل ہوتے دیکھنا ایک بہت ہی شاندار تجربہ ہے۔ کہاں انتہائی نفیس کپڑے پہنے نوجوان عمر بزرگان قریش کے درمیان اپنی مدلل رائے دے رہے ہوتے ہیں ا ور کہاں خلیفہ بننے کے بعد دو جوڑے وہ بھی انتہائی سادہ اور جب رومی سفیر انہیں ڈھونڈتا ہوا آتا ہے اور وہ مزے سے مسجد میں بازو پر سر رکھے سورہے ہوتے ہیں۔یہ سین دیکھ کر دل گارڈن گارڈن ہوگیا، حالانکہ پڑھا بھی ہے تاریخ میں، لیکن پھر بھی 

عمر سیریز میں علی اور عمر کے مثبت تعلقات دیکھ کر دل بہت خوش ہوا، 

علی کو بطور مشیر عمر خلیفہ دوم دکھایا گیا ہے میری ذاتی رائے میں یہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں کیونکہ دونوں عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں اور عمر کی خلافت سے قبل عمر اور علی دونوں ابوبکر کی مشاورت کرتے رہے تھے۔ تو اس میں کوئی قباحت بھی نہیں تھی اور کوئی شک بھی نہیں ہونا چاہیے کہ علی نے ابو بکر کے بعد عمر کی مشاورت جاری رکھی ہوگی۔ اور مجھے لگتا ہے کہ روز قیامت بھی دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے کھڑے ہونگے اور اپنے نام پر قتل غارت مچانے والوں سے ہاتھ جھاڑ دیں گے کہ بھائی ہم نے تو تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم ہمارے نام پر ایک دوسرے کو قتل کرو، لہذہ ہم تمہارے گناہوں اور جرائم سے مستثنیٰ ہیں۔ گمان اچھے رکھنے چاہئیں۔


علی کو بطور مشیر عمر خلیفہ دوم دکھایا گیا ہے میری ذاتی رائے میں یہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں کیونکہ دونوں عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں اور عمر کی خلافت سے قبل عمر اور علی دونوں ابوبکر کی مشاورت کرتے رہے تھے۔ تو اس میں کوئی قباحت بھی نہیں تھی اور کوئی شک بھی نہیں ہونا چاہیے کہ علی نے ابو بکر کے بعد عمر کی مشاورت جاری رکھی ہوگی۔ اور مجھے لگتا ہے کہ روز قیامت بھی دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے کھڑے ہونگے اور اپنے نام پر قتل غارت مچانے والوں سے ہاتھ جھاڑ دیں گے کہ بھائی ہم نے تو تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم ہمارے نام پر ایک دوسرے کو قتل کرو، لہذہ ہم تمہارے گناہوں اور جرائم سے مستثنیٰ ہیں۔ گمان اچھے رکھنے چاہئیں۔عمر سیریز میں خالد بن ولید کو بہت فوٹیج دی گئی ہے جو میرے خیال میں زیادہ ہوگیا ہے، بے شک وہ اسلام کے بہترین کمانڈر تھے لیکن یہ عمر سیریز بنائی جارہی تھی نہ کہ ابو بکر سیریز یا خالد بن ولید سیریز۔ عمر سیریز کو باآسانی تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے.
- دس قسطیں اسلام کا ابتدائی دور
- دس قسطیں خالد بن ولید
- اور آخری دس اقساط میں عمر بطور خلیفہ
سیریز میں جنگی پارٹ کچھ زیادہ ہی ہوگیا ہے۔ ان جنگوں اور فتوحات کا تذکرہ ڈائلاگز کے ذریعے کیا جاسکتا تھا اور باقی فوٹیج میں حضرت عمر کے اصل کارناموں پر فوکس کرنا چاہیے تھا۔ ان کی خلافت کے کچھ واقعات اور ان کے کافی کارنامے مسنگ تھے۔ جیسے کہ ڈاک کے محکمے اور نظام کا قیام، جیلوں، ہسپتالوں کا قیام۔ بیت المال کا قیام، گورنروں کی تعیناتی، افسران کی پوسٹنگ ، ٹرانسفرز ، احکامات کی خلاف ورزی یا اپنے عہدے کے ناجائز استعمال پر ان کو سزائیں اور معزولی، قاضی یا ججوں کی تعیناتی وغیرہ۔
عمر سیریز دیکھ کر پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ بعثت نبوی کے وقت ابو بکر ایک عمر رسیدہ شخص, عمرایک نو جوان اور علی ایک بچے تھے۔حالانکہ ہم پڑھ چکے ہیں کہ علی نے وحی کے متعلق سن کر کہا تھا کہ گو کہ میں عمر میں چھوٹا ہوں لیکن میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ اور عمر رسول اللہ کو قتل کرنے کے ارادے سے نکلے تھے تو یقیناً وہ جوان آدمی تھے لیکن تاریخ پڑھنے کے باوجود اب تک اس بات کا احساس نہیں ہوا تھا۔
مختلف واقعات کو دیکھتے ہوئے بہت سارے خیال آئے جو تاریخ پڑھ کر شاید ہی آئے ہوں۔ جیسے کہ خیال آیا کہ حبشہ حجرت کے لیے کتنا لمبا روٹی کہ دور نبوت / بعثت / فتح مکہ کے زمانے میں مکہ کی آبادی کتنی ہوگی، ڈیموگرافر جاگ گیا تھا درمیان میں
🐎🗡🐎🏹⚔🐎