بہت عرصے کے بعد ایک ایسا ڈرامہ دیکھا ہے جس سے پی ٹی وی کے ڈراموں کی چس آگئی ۔ ڈرامے کا موضوع ہے پاکستان میں اسٹیج/ اسٹینڈ اپ کامیڈی کا ماضی ، حال اور مستقبل۔ ماضی اس طرح کہ پرانے اسٹینڈ اپ کامیڈین یا ون مین شو کرنے والے فنکار کون تھے، کیا تھے ان کی اچھی اور بری خصوصیات کیا تھیں، ان کے موضوعات کیا تھے اور اب وہ کس کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ساری عمر فن کی خدمت کرنے کے باوجود اب بھی تھئیٹر فنکار خصوصاً تھئیٹر کامیڈین کو بھانڈ ہی سمجھا جاتا ہے اور خواتین کے لیے اب بھی اسٹیج پر اداکاری یا کامیڈی کرنا عزت دار پروفیشن نہیں سمجھا جاتا۔ اور یہ کہ موجودہ اسٹینڈ اپ کامیڈی کس طرح پرانی اسٹیج کامیڈی سے مختلف ہے ۔
اسی طرح ڈرامہ حال سے بھی کنیکٹیڈ ہے کہ پرانی نسل کے فنکاروں کے مسائل کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے شوق مساوی طور پر ڈرامہ/کہانی کی تھیم میں شامل ہیں۔ نئی نسل میں اسٹینڈ اپ کامیڈی اور ریپ میوزک کا کافی رحجان پایا جاتا ہے ،دوسری جانب آج کل کے نوجوانوں میں بزعم خود شاعر ہونے اور الٹی سیدھی شاعری کرنے کے رحجان کو بھی کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے ۔
بہت دنوں کے بعد اچھی کریکٹرائزیشن دیکھنے کو ملی ہے۔ سارے فنکار اپنے اپنے کردار میں بڑے ہی فٹ ہیں ۔ سہیل احمد تو پی ٹی وی کے تجربہ کار اور منجھے ہوئے اداکار ہیں لیکن ہر فنکار اپنی جگہ پر لگتا ہے گویا پیدا ہی اسی کردار کے لیے ہوا ہے۔چاہے وہ جوہری ہو، دونوں ماموں ہوں، مامیاں ہوں ، راجو ہو یا مرزا ۔ ڈرامے کے مکالموں کی زبان ہی نہیں ان کی ادائیگی بھی بہت بے ساختہ ہے۔
اسٹینڈ اپ کامیڈی میں سونا چاندی اور خواجہ اینڈ سن دونوں کا ٹچ ہے، ڈرامہ دیکھ کر دونوں ڈراموں کی یاد آتی ہے۔ سونا چاندی کی طرح اپنے کردار میں فٹ فنکار، اداکاری اور بے ساختہ ڈائلاگ ڈیلیوری اور خواجہ اینڈ سن کی طرح ڈرامے کی سیٹنگ اندرون لاہور یا پرانے لاہور میں کی گئی ہے ۔ ڈرامے کے دونوں مین سیٹ بھی بڑے کلاسک ہیں۔ خان صاب کے گھر کا بھی اور جوہری کے کیفے کا بھی ۔ خان صاب کا گھر تو غالباً پرانے لاہور میں کسی کا گھر ہی ہائر کیا گیا ہے کیونکہ جو دروازے کھڑکیاں ، فرش، چوبارے، چھجے اس گھر میں نظر آتے ہیں اور کمروں کے اندرونی مناظر بھی ، وہ لگائے گِئے سیٹس میں ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
ڈرامے کے مین تھیم کے ساتھ سائیڈتھیم یا انڈرلائینڈ تھیم آج کے دور کی کنفیوزڈ نسل کے نوجوانوں کی دہری پرسنالٹی کو بھی کہانی کی کی بُنّت [ب پر پیش اور ن پر تشدید لگا کر پڑھیں] میں خوبصورتی سے شامل کیا گیا ہے۔ ایک طرف ہیروئن ہے جو اسلام آباد کی شہری تہذیب کی پروردہ ہے لیکن حالات اسے اندرون شہر کے نیم خواندہ خاندان میں لے آتےہیں، اس کی ماں نے اس سے اپنی فیملی کے بارے میں بڑے بڑے جھوٹ بولے تھے اور اب وہ اپنی نئی پہچان بنانا چاہتی ہے لیکن اس کی فیملی اسے اس میں سپورٹ کرنے کو تیار نہیں اور اس پر وہ خالی ہاتھ ہے اور اسے اپنی تعلیم بھی مکمل کرنی ہے، اپنا شوق بھی پورا کرنا ہے ، دوسری طرف ہیرو ہے جسے اس کے خاندان کی طرف سے سب کچھ حاصل ہے لیکن وہ اپنی پہچان خود بنانا چاہتا ہے اور مسلسل ناکام ہے۔
جنریشن گیپ جو شاید آج پرانی اور نئی نسل کے درمیان سب سے زیادہ ہے اسےبھی اسٹینڈ اپ گرل کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے، محبت اور خلوص جہاں انسان کے لیے ضروری ہیں وہیں ضرورت سے زیادہ خلوص انسان سے پرائویسی چھین لیتا جو نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان تنازع کی بڑی وجہ ہے۔
ہاں جی ہاں اتنی خصوصیات کے باوجود آخری پانچ چھ قسطوں میں ایک ہلکی پھلکی کامیڈی سیریل کو ایک دکھی پریم نگری مطلب ایک ٹریجیڈی لو اسٹوری میں تبدیل کردیا گیا، یہ بہت بڑا بلف تھا لیکن جب ہیرو کو آپ ایک پیر صاب گدی نشین گھرانے کا فرد دکھائیں گے تو اینڈ میں منطقی انجام یہی ہونا تھا۔ یا تو ہیرو کو شروع سے ہی کسی شہری سرمایہ دار گھرانے کا فرد دکھاتے پھر سیریل کو لپیٹنے کے لیے اتنی ٹریجڈی نہ دکھانی پڑتی ،، خیر ۔۔۔
اداکاری کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو مجھے سہیل احمد کے بعد سب سے زیادہ دانیال ظفر کی اداکاری نے کیا۔ زارا سے بھی زیادہ ، چیخنا چلانا، غصہ کرنا ، رو دینا یہ ساری اداکاری آسان ہے، نسبتاً چہرےکے ایکسپریشنز سے اپنے جذبات پورٹرے کرنا۔ میں نے پہلی بار دانیال کا کوئی ڈرامہ دیکھا ہے ۔ پہلے تو بار بار اس پر علی ظفر کا ہی دھوکہ ہوتا رہا اس کی شکل بڑے بھائی سے اتنی ملتی ہے کہ بندہ سوچتا ہے کہ یہ علی ظفر ساشے پیک میں آگیا ہے لیکن دھیرے دھیرے اس کی اداکاری نے میرا ووٹ اپنے لیے ریزرو کرلیا ۔۔ جتنا کنفیوزڈ اور ڈبل پرسنالٹی اس کا کیریکٹر تھا اس کے ایکسپریشنز اتنے ہی لاجواب تھے، تذبذب، غصہ، ہچکچاہٹ، احساس شکست، ہیروئن کے لیے پسندیدگی رکھنا لیکن اسے ظاہر نہ کرنا، شاندار، سپرب، مائنڈ بلوئینگ، ایک مکمل انٹرو ورٹ انسان کی بہترین عکاسی
اپنے پیشن اور اپنے فیورٹ ترین فرد کو ہمیشہ کے لیے کھودینا ایک ایسا دکھ ہے جس کا کوئی مداوہ نہیں۔ جب آخر میں کبیر اپنے میوزک کے شوق اور زارادونوں کو چھوڑ دیتاہے تو کبیر کا دکھ زارا کے دکھ سے زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
پی ایس : جوہری جیسا ایک دوست ہر انسان کی زندگی میں ہونا چاہیے۔
📺🎬📺📹📺📼📺
دیگر ڈراموں پر تبصرہ جات کے لیے کلک کیجیے