ڈراموں میں ہماری دل چسپی کی وجوہات و سامان
جیو اور سیونتھ اسکائی پروڈکشنز نے گویا کارخانہ لگایا ہوا ہے، ایک ڈرامہ ختم ہوتا ہے دوسرا شروع، دوسرا ختم پانچواں شروع،تیسرا اور چوتھا کسی اور دن پہلے ہی جیو پر چل رہے ہوتے ہیں۔ چھٹا اور ساتواں بھی۔حال ہی میں ان دونوں کی مشترکہ پیش کش تازہ ترین ڈرامہ اختتام پذیر ہوا۔ حسب معمول فیس بک کے ٹوٹوں میں نظر پڑی ، چند ایک سین دیکھ کر ریسرچ کی تو پتا چلا کہ ماضی کی مشہور افسانہ و ناول نگاراور حال کی ڈرامہ نگار خاتون کی کہانی ہے۔ہمیں افسانے دیکھنے سے زیادہ پڑھنے میں مزا آتا ہے، لہذہ فوری طور پر اپنی ایک افسانہ و ڈرامہ نگار گرل فرینڈ اور ایک ناولز کی شوقین دوست کو ان باکس کیا کہ یہ محترمہ کا کون سا افسانہ یا ناول ہے پتا کر کے بتاو، پتا چلا کہ نوے کی دہائی کا کوئی افسانہ تھا شعاع یا دوشیزہ میں چھپا تھا اسی کو لما پا کے اس پہ ڈرامہ بنایا گیا ہے۔ کوشش کی ڈھونڈنے کی لیکن نہیں ملا ۔
خیر ہمیں تو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شے میں دھیان لگانا تھا تو یہ کیا برا تھا ۔ نوے کی دہائی کے رومانچک افسانوں اور ناولوں کی ٹپیکل اسٹوری ہے ایک دادی، ان کی تین اولادیں اور ان کی مزید تین اولادیں۔ ان کی آپس کی شادیاں اور مسائل، ہیرو کو کلاس فیلو پسند ہے، لیکن اس کی شادی پھپھو کی بیٹی سے ہوجاتی ہے کیونکہ اس کا منگیتر اور ہیرو کا چچا زاد ولن کسی بات پر ناراض ہوکر اسے شادی کے دن چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور خاندان کی عزت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ
کہانی اپنی جگہ لیکن بہن اس میں موجودہ دور کے مطابق تھوڑی تبدیلیاں تو کرلو۔ نوے کی دہائی میں ایک عورت اتنی مجبور ہوگی کہ اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ امریکہ جیسے شہر میں رہتے ہوئے بھی اتنی لاچار تھی کہ بیٹی کو شوہر کی بری نظروں سے نہ بچا سکے اور دوڑ کر پاکستان آجائے بیٹی کی شادی کرنے ، اور وہ بھی بزنس مین عورت۔ اب تو امریکہ کیا پاکستان میں مقیم تعلیم یافتہ امیر خاندان کی لڑکی بھی خود کو سوتیلے باپ سے محفوظ کرنے کے لیے گھر چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہوسکتی ہے، ورکنگ ویمن ہاسٹل جاسکتی ہے۔ اور خاتون خود بھی ایسے شوہر کے ساتھ کیونکر زبردستی بندھی ہوئی ہے جو بیٹی پر بری نظر رکھتا ہے۔ کوئی ایسی مجبوری بھی نہیں دکھائی کہ مشترکہ بزنس ہے یا مشترکہ جائیدادہے ، خاتون پیچھے سے بھی بہت ہی امیر خاندان سے ہے۔ لوگ کیا کہیں گے والے حالات بھی نہیں ہیں ۔ بہن الگ ہوکر امریکہ میں ہی کہیں اور شفٹ ہوجا یا میاں کو لات مار باہر کر ۔
پھر ہیرو جس لڑکی کو دور دور سے پسند کرتا تھا ،کبھی بات نہیں کی تھی ،کہانی آگے بڑھتی ہے تو وہ لڑکی تو اس کی محبت میں مری جارہی ہے جبکہ ان دونوں کی محض ایک مرتبہ بات چیت ہوئی تھی وہ بھی ہیروئن کی مہندی پر۔ دوسری طرف ہیروئن جس سے ہیرو کی زبردستی ہی سہی شادی ہوئی تھی جو ایک کمرے میں رہ رہے ہیں اور زندگی ساتھ گزار رہے ہیں ان کے درمیان انسیت پیدا ہو کے نہیں دے رہی جبکہ ہیرو بھی بے چارہ شریف ہے اور اپنی طرف سے نبھاہنے کی پوری کوشش بھی کررہا ہے ، ہیروئن کی بھی یہی کوشش ہے ۔لیکن محبت زیادہ ان بی بی کی ابل ابل پڑ رہی ہے جن سے صرف ایک بار ہی بات ہوسکی تھی۔
آخر کی دو اقساط با لکل ہی فالتو تھیں۔ جب ایک بار ہیرو ہیروئنز کی غلط فہمیاں دور ہوگئیں اور دونوں ایک پیج پر آگئے تو نئے سرے سے پنگے کروانے کی کیا ضرورت تھی، غالباً نیا ڈرامہ تیار نہیں ہوا تھا۔ اور اگر دو مزید قسطیں بڑھا ہی لی تھیں تو کم از کم وہ جو ولن کے اپنی سابق بیگم اور ان کے ابا جی کے ساتھ پنگے تھے انہیں بھی نمٹا لینے تھے۔ ان دونوں کا کردار اور ولن سے لوٹی ہوئی دولت سب کچھ ہی غائب کردیا کہانی سے۔
اداکاری وائز ہیروئن اور ولن کی اداکاری بہتر تھی۔ ہیرو کو ابھی اپنے ایکسپریشنز پر مزید کام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، صرف کیوٹ نیس سے کام نہیں چلنے والا۔سائیڈ ہیروئن کے ایکسپریشنز بھی بہت ہی فضول اور یکسانیت کا شکار تھے۔ اس کے بعد دادی کے رول میں خاتون کی اداکاری اچھی لگی۔ فضیلہ قاضی نے کردار نبھا لیا ان کے کردار میں جتنی گنجائش تھی۔ ان کے شوہر کے رول میں ضیاء گورچانی بالکل بھی نہیں جچے، بلکہ بہت عرصے بعد ضیاء گورچانی کو دیکھ کر بہت شاک لگا، بندہ کیا سے کیا ہوجاتا ہے وقت کے ساتھ۔ ہیرو کی والدہ عجیب لگیں ہر وقت جیسے مہمان آئی ہوئی ہوں اپنے ہی گھر میں۔ جبکہ وہ بڑی بہو تھیں لیکن لگی نہیں کہیں سےبھی۔
اچھا اتنی تنقید کے باوجود ہم کیوں دیکھتے رہے آخر ۔ بھئی ایک تو ہیروئن کی ڈریسنگ ہمیں پسند آگئی تھی دوسرے اس کا او ایس ٹی ہمیں لڑ گیا تھا۔ ہیروئن اور دادی کے سوٹوں اور دوپٹوں کی لیسوں کی خاطر ہم پورا ڈرامہ دیکھ گئے۔
پی ایس: پچھلے ایک سال میں دو تین ڈرامے دیکھ کر ہمیں کرن جوہر کی وہ بات یاد آتی ہے کہ عام خیال یہ ہے کہ امیر لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی تو میں اپنی فلموں میں امیر لوگوں کی پریشانیاں دکھاتا ہوں جس کے بارے میں باسکوپ کے مصنف ذلفی کا خیال ہے کہ یہ سرمایہ دار طبقے کے بارے میں مخالفانہ جذبات ختم کرنے کا کوئی پلان ہے ۔ ہمیں بھی موجودہ چینلوں کے ڈرامے دیکھ کر یہی فیل ہوتا ہے کہ ان ڈراموں کا مین تھیم مہا امیر خاندانوں کے نکے نکے سے عظیم دکھ ناظرین تک پہنچانا ہے۔
ایک خیال اور آتا ہے کہ ہمارے زمانے کے ڈراموں کے امیر لوگ بھی موجودہ ڈراموں کے امیر خاندانوں کے سامنے ایسے ٹٹ پونجیے لگتے ہیں قسمے۔ یقین نہیں آتا تو ان کہی کے تیمور صاحب یا دھوپ کنارے کے ڈاکٹر احمر کو دیکھ لیں یا پھر وارث کے چوہدھری حشمت کو یاد کریں۔ اب تو لگتا ہے ڈرامے کے ہیرو ہیروئن کے خاندان ہیروں، سونے، منشیات یا اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں ، یہ لمبی لمبی ویگو اور محلوں کو شرماتےہوئے ولاء
پی پی ایس: بطور نمونہ ہیروئن کے ایک سوٹ کا اسکرین شاٹ پیش خدمت ہے۔ باقی لیسز کے ڈیزائنز کے لیے خود ڈرامہ دیکھ لیں ، ہاں
📺🎬📺📹📺📼📺
دیگر ڈراموں پر تبصرہ جات کے لیے کلک کیجیے