بہت ساری ایسی حدیثیں ہیں جن میں شیطان یا جنوں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی ان کے نقصان سے بچنے کے لیے طریقے بتائے گئے ہیں ۔ میری ناقص رائے میں دراصل 1400 سال پہلے اس دور کے انسانوں کی معلومات، ادراک اور ذہنی سطح کے مطابق ان سے بات کی گئی تھی۔ ان کو جدید سائنس کے مطابق پرکھیں تو وہ فائدہ مند ہیں لیکن نقصان کا باعث شیطان یا جن نہیں بلکہ کچھ اور عوامل ہیں جن سے وہ احادیث بچاتی ہیں۔
PC: Safegaurd
مثال کے طور پر ایک حدیث اس طرح ہے کہ رات کو کھانے پینے کی اشیاء ڈھانک کر رکھو کیوں کہ کھلے برتنوں میں شیاطین داخل ہوجاتے ہیں۔ حقیقت میں کھلے برتن میں رکھی کھانے پینے کی چیزوں میں رات کو bugs پھیرا لگا سکتے ہیں جو جراثیم چھوڑ جائیں گے جن سے بیماری پھیلنے کا امکان ہے۔ اصل "شیطان " ان دیٹ کیس جراثیم ہیں۔ اب 1400 سال پہلے کسی کو جراثیم سمجھانا ذرا مشکل تھا لیکن شیطان کا تصور سمجھانا آسان تھا توانہیں کہا گیا کہ کھلے برتنوں میں شیطان داخل ہوجاتا ہے۔
ایسے ہی کہا گیا کہ واش روم/ بیت الخلاء میں شیطان رہتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بیت الخلاء جراثیم اور وائرسوں کا سب سے بڑا سورس ہیں۔
👹👺👹👺👹
ایسے ہی حرام یا ناپاک اشیاء دراصل وہ اشیاء ہیں جن میں جراثیم یا وائرس موجود ہونے کا امکان ہے جبکہ صفائی سے ایک قدم آگے پاکی کا تصور دراصل ہر قسم کے جراثیم اور وائرسوں سے بچاو کے طریقوں پر عمل کرنا ہے ۔۔ جانیے کہ کیسے