Friday, July 10, 2026

کیڑا

میری دفتری ذمہ داریوں میں پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ کوآرڈینیٹ کرنا بھی شامل ہے۔ جن میں پرائیوٹ میڈیکل پریکٹشنرز/پرائیوٹ کلینکس،، نجی میٹرنٹی ہومز، پرائیوٹ میڈیکل نیٹ ورکس جیسے آغا خان ہیلتھ سروسز یا انڈس ہیلتھ اینڈ ہاسپٹلز نیٹ ورک، ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کے ساتھ فیملی پلاننگ کی خدمات فراہم کرنے /کراوانے اور اس ضمن میں ان کی ٹریننگ، فیملی پلاننگ کی اشیاء / کموڈیٹیز کی مفت فراہمی ، ان کی مانیٹرنگ اور سپروائزنگ اور ان سے مختلف اقسام کی ماہانہ، سہ ماہی ، شش ماہی ، سالانہ رپورٹس لینا شامل ہے۔ اس کے لیے ہم ان تمام پرائیوٹ اداروں اور تنظیموں سے میمورینڈم آف انڈر اسٹینڈنگ سائن کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ انٹرنیشنل این جی اوز کے ساتھ ہمارا معاہدہ فیملی پلاننگ سروسز دینے کے بجائے اس کی کوالٹی بہتر کرنے کے لیے یا معاشرے کے مختلف طبقات کو فیملی پلاننگ /خاندانی صحت کے حوالے سے آگاہی دینے اور ان کی شمولیت کے لیے ہوتا ہے جیسے خاندان کی صحت میں مردوں کی شمولیت ، یا فیملی پلاننگ کے مردانہ طریقوں کے بارے میں آگاہی بڑھانا ۔ کمیونٹی میں ہائی جین کے بارے میں شعور بیدار کرنا وغیرہ وغیرہ ۔۔

میرے دفتر کی طرف سے مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں جب چاہے بتا کر یا بتائے بغیر ان کے کسی بھی کلینک/ہاسپٹل یا کسی بھی سیٹ اپ کا جو معاہدے میں شامل ہے دورہ کرسکتی ہوں، ان کا کلائنٹ ریکارڈ اور کونٹراسیپٹیو ریکارڈ چیک کرسکتی ہوں۔ جن اداروں کی کارکردگی ریکارڈ کرنے کے لیے الیکٹرانک ڈیش بورڈ بنے ہوئے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ ایک عدد لاگ ان آئی ڈی اور پاس ورڈ خاص طور پر میرے لیے بنائیں گے اور میں جب چاہےا ن کی آن لائن مانیٹرنگ کرسکتی ہوں۔

این جی اوز کی طرف سے کیلنڈر، ڈائریز اور پین تو ایک عام بات ہے لیکن اب صورت حال کچھ اس طرح سے ہے کہ پہلے ایک انٹرنیشنل این جی او کی سربراہ پہلی میٹنگ پر باس اور میرے لیے گفٹ پیک لے کر آئیں ، باس کے لیے جانے کیا تھا میرے پیکٹ میں ایک عدد برانڈڈ لان کا سوٹ تھا ۔ یہ پہلا موقع تھا کسی پرسنل گفٹ کا ، مجھے کافی حیرانی ہوئی ۔ خیر وہ سوٹ میں نے اپنے چپراسی کو دے دیا کہ اپنی بیگم کو دے دینا۔ اور ان کا شکریہ ادا کیا ساتھ ہی بتا دیا کہ برائے مہربانی پرسنل تحائف سے پرہیز فرمائیں۔ چندروز پہلے ایک اور این جی او سے خاتون ایک عدد سوٹ لیے چلی آئیں ، واٹ دا فک ، انہیں کہا بی بی اول تو یہ میرا سرکاری فرض ہے کہ میں آپ لوگوں سے کوآرڈینیٹ کروں اور کوئی مسئلہ ہے تو اسے حل کرواوں اس لیے میں آپ کو کوئی ایکسٹرا آرڈینیری فیور تو دے نہیں رہی ، لہذہ گفٹ کی کوئی تک نہیں بنتی لیکن اگر گفٹ دینا ہی ہے تو برائے مہربانی ایسا دیں جو ہم دفتر ہی میں استعمال کرلیں جیسے کافی مگ یا ٹیبل اسٹیشنری آئٹمز وغیرہ ۔

ایک اور این جی او کی تھوڑی سی کلاس لی کہ جی پچھلے تین ماہ کی کارکردگی بتائیں ناں ذرا آپ اپنی ۔ اور وہ کارکردگی کے ساتھ مزید ایک گفٹ پیک لیے چلے آئے ۔ چھ ماہ میں ان کی طرف سے ٹوکن تحائف میں دو عدد سرامک کافی مگز، تین عدد پانی کی فلاسک، دو پلاسٹک کی اور ایک ایک اسٹیل تھرماس، دو عدد ٹیبل میٹ، دو عدد ڈائریز، ایک عدد پاور بنک، دو یاایک پین، ایک پین ہولڈر مل چکے ہیں ۔

بس جی میرا گلاس بھر گیا پھر آج ۔۔ فیر میں نے ان کو جو فیڈ بیک دیا کہ یہ تو وہ ہیں جو مجھے یاد ہیں،  اب آپ ان کو وصول پانے والوں کی تعداد سے ضرب دے لیں۔ ایکچوئل اخراجات تو آپ کو ہی معلوم ہونگے ۔۔ میں صرف اندازہ کرسکتی ہوں۔ اب اس پی آر بجٹ کا امپیکٹ امیجن کریں۔ مجھے آل ریڈی پتا ہےآپ کا ادارہ کیا کرتا ہے۔ میرے ہاتھ میں مگ یا فلاسک پر آپ کا لوگو دیکھ کر کسی کا آپ کی این جی او کے بارے میں گوگل کرنے کا چانس ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ کیونکہ میں نے یا آپ نے بھی کبھی یہ حرکت کسی کے لوگو کو دیکھ کر نہیں کی۔

اگر یہ بجٹ فیملی پلاننگ یا خوش حال خاندان کے تصورات کی مارکیٹنگ پر خرچ کیا جاتا مثلاً ایک عدد ہورڈنگ چھ ماہ کے لیے کرائے پر لے کر اس پرآپ کے لوگو کے ساتھ ہی فیملی پلاننگ / خاندان کی صحت کے متعلق ایک جملہ کسی مصروف شاہرہ پر لگا دیا جاتا ۔

سرکاری اور غیر سرکاری دونوں سیکٹرز میں ہماری قوم کی ترجیحات جانے کون سی سمت میں ہوتی ہیں ۔ ہمیں بطور سرکاری محکمہ پبلسٹی کی مد میں بجٹ اتنا کم ملتا ہے کہ ہم بہ مشکل سال میں ایک آدھ اخبار میں کوئی اشتہار دے پاتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر تو وقت کمرشل ریٹ پر ملتا ہے جو ہم افورڈ ہی نہیں کرسکتے، ہمارے تیار کردہ اشتہارات اپنے فیس بک پیج پر ہم ڈپارٹمنٹ والے خود ہی دیکھ کر خوش ہولیتے ہیں بس ۔ اور اگر بجٹ میں کچھ گنجائش ہو تو ہمارا انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اس اشتہار کو منظور کرنے میں اتنا وقت لگا دیتا ہے کہ موقع ہی گزر جاتا ۔اکثر تو منظوری کے انتظار میں ہی رہ جاتے ہیں۔ پرائیوٹ سیکٹر جن پر ایسی پابندیاں نہیں ان کی ترجیحات یہ ہیں۔

ویسے یہ ہے تو ناشکرا پن لیکن کیا کریں کہ دماغ میں کیڑا ہے کہ چیزیں درست ہونی چاہئیں ، درست طریقے سے درست سمت میں ہونی چاہئیں ۔ خود سے بڑھ کر بھلا ملک اور معاشرے کا ہونا چاہیے ۔

🐛🐛🐛🐛🐛