میں نے جب ٹی وی باقاعدگی سے دیکھنا چھوڑا اور پروفیشنل لائف کی ذمہ داریاں سر پر پڑیں تو اس وقت ٹی وی پر اداکاروں کی سیکنڈ یا شاید تھرڈ جنریشن آرہی تھی ۔۔ یعنی شکیل، عابد علی، روحی بانو، عظمی گیلانی، ساحرہ کاظمی والی جنریشن کے بعد فضیلہ قاضی،اسد، نعمان اعجاز، عتیقہ اوڈھو وغیرہ بھی اپنا سکہ جما چکے تھے ۔ اور کچھ نئے پدے پدے سے لوگ کچھ نئےنئے عجیب و غریب شوز لے کر ٹی وی پر آنے لگے تھے وی جے ختم ہوچکا تھا لیکن آڑے بانگے اداکاروں اور فنکاروں کی ایک کھیپ ٹیلی وژن پر نظر آنے لگی تھی جن میں مانی، اس کی سابقہ بیگم [اسےبھی ماں کے کردار میں دیکھ کر شاک لگا مجھے]۔ ڈاکٹر اور بلا کے کچھ ارکان، ٹیپو، ایک وہ فیض احمد فیض کا نواسہ اور اسی قسم کے لوگ کالج جینز ٹائپ ڈرامے لے کر ٹی وی پر آتے تھے ۔۔ اس نسل کے فنکاروں کو میں نے پہلی اور دوسری جنریشن کے سامنے کبھی بھی سیریس نہیں لیا تھا ۔۔
حال ہی میں کچھ نئے ڈرامے دیکھے جن میں ٹیپو کی اداکاری اور پرفارمنس کی ورائٹی نے مجھے حیران کر دیا۔ اب ڈراموں کی بہتات میں ہر ڈرامہ نہیں دیکھا جاتا لیکن پچھلے چھ آٹھ ماہ کے دوران جو ڈرامے دیکھے ان میں سے تین ڈراموں میں ٹیپو نے مجھے حیران کردیا۔ اسٹینڈ اپ گرل کا بے روزگار اسٹیچ فنکار ماموں ، سنو چندا کا پٹھان داماد اور اب زرد پتوں کا بن کا مولوی ۔۔ تینوں کردار ، ان کا گیٹ اپ، ان کرداروں میں پرفارمنس ، سمپلی آوٹ کلاس
کیونکہ یہ ہمارے سامنے ایک دم ینگ لڑکا سا آیا تھا ٹی وی پر ، اب اسے ایک دم سے میچور ایج میں دیکھنا مجھے سرپرائزنگ لگا ۔۔ بلکہ ایک طرح کا شاک ۔۔ کہ ہیں ،،، یہ بھی بوڑھا ہوگیا ابھی تو یہ آیا تھا چند سال پہلے ،، لیکن یہ چند سال بھی غالباً بیس بائیس سال ہوتے ہیں۔
زندگی تیز، بہت تیز چلی ہو جیسے
📼 📹 📺 📷 📢
محسن عباس حیدر کی گلوکاری پر تبصرہ