Showing posts with label Book Review. Show all posts
Showing posts with label Book Review. Show all posts

Friday, February 13, 2026

دامن یوسف: فیض بنام سرفراز

فیض کے خطوط سرفراز کے نام

ایک خوبصورت کتاب۔ عموماً خطوط کے مجموعات میں صرف خطوط جمع کردیے جاتے ہیں اور زیادہ کریں تو ایک حرف آغاز لکھ دیا جاتا ہے ان خطوط کے بارے میں مختصر سا تعارف دینے کے لیے یہ مجموعہ اس طرح سے مختلف ہے کہ سرفراز اقبال اپنی اور فیض کی "دوستی" کی داستان پہلی ملاقات بلکہ پہلی فون کال سے شروع کرتی ہیں اور اس داستان میں جہاں جہاں رابطہ ٹوٹا اور فیض کو خط کا سہارا لینا پڑا وہاں اس داستان میں خط کا متن درج کردیا گیا ہے۔ اس طرح ہر خط کا پس منظر پڑھنے والے پر واضح ہوتا جاتا ہے ۔

Tuesday, December 16, 2025

مشرقی پاکستان پر دو ناول

اللہ میگھ دے : طارق محمود

طارق محمود ایک بیوروکریٹ تھے۔ انہیں تعلیم اور افسری کے دوران کافی عرصہ مشرقی پاکستان میں گزارنے کا موقع ملا۔ ان کی بائیوگرافی بھی کافی دلچسپ ہے۔ عامر خاکوانی صاحب ان کی بائیوگرافی کے کچھ حصے اپنی وال پہ شئیر کررہے ہیں۔ ان ہی کے ایک کالم سے اس ناول کا سراغ ملا تھا۔

Thursday, November 20, 2025

Anna Karenina: Status of Women (A Review)

There are three ladies in the novel. First one is married to a man for years and mother of many kids from him. He cheats on her, and goes to many ladies including governess of his kids but the wife could not leave him, coz where would she go if she leaves him, there is no future for her economically and socially.

Wednesday, November 25, 2020

ہم اور ہماری عزت

جانگلوس، اداس نسلیں اور نادار لوگ میں سیکس نارمز کا جائزہ 


حال ہی میں اردو ادب کے تین شاہکار ناول جانگلوس، اداس نسلیں اور نادار لوگ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ پڑھ کر دل دہل گیا۔ فیض صاحب نے درست کہا تھا کہ مجھے اندیشہ ہے یہ ملک کہیں یوں ہی نہ چلتا رہے۔ تینوں ناولز ہماری سیاسی، سماجی، اخلاقی اور معاشی کرپشن کی مستند تاریخ ہوں جیسے۔ ستر پچھتر سال میں چہرے بدلے ہیں صرف اور کچھ نہیں بدلا۔ ناولز کی ادبی ساکھ پر تو بہت سے لکھاریوں نے بہت کچھ لکھا ہوگا اور ہماری یہ اوقات نہیں کہ ان ناولز کی ادبی حیثیت پر تبصرہ کرسکیں۔ 

لیکن ایک پہلو جس پر شاید اس سے پہلے کسی نے توجہ نہیں دی وہ ہے ان ناولز میں پیش کردہ سیکس نارمز ۔ اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ناولز باوجود فکشن ہونے کے ہمارے معاشرے کی نارمز یا معمولات کا ہی عکس ہوتے ہیں۔ گویا یہ روئیے کسی معاشرے میں اس دور میں موجود ہوتے ہیں جس دور میں یہ ناول لکھا گیا یہ جس دور کے بارے میں لکھا گیا تب ہی تو انہیں ناول یا افسانے میں عکس کیا جاتا ہے۔ 

Tuesday, September 29, 2020

نہرو اور تاریخ - 2

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم





تاریخ کبھی بھی ہمار فیورٹ موضوع نہیں رہا تاریخ سے ہماری دلچسپی صرف تاریخی مقامات ہڑپہ، موئنجوداڑو، ٹیکسلا، مہر گڑھ دیکھنے کی حد تک تھی۔ کہ کہیں ذکر آئے تو ہم کہہ سکیں کہ ہاں ہم نے بھی یہ مقامات دیکھے ہوئے ہیں۔ اور یہ پتا ہے کہ ان چاروں میں سے سب سے پرانا مہر گڑھ ہے۔ یا پھر قسمت نے موقع فراہم کر دیا کہ مصر جیسا تاریخی ملک دیکھنے کو مل گیا جس کی تاریخ بس اتنی پتا ہے کہ مصر کے عجائبات سات ہزار سال پرانے ہیں۔ لیکن مصر کی الگ الگ بادشاہتیں، فرعونوں کی ترتیب اور آپسی رشتہ داریاں کوئی پوچھ لے تو گوگل کرنا پڑجائے۔ 

Wednesday, August 5, 2020

نہرو اور تاریخ : ایک معاشقہ


سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ھے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

جواہر لال نہرو ایک مصروف سیاستدان اور تحریک آزادی ہندوستان کے ایک سرگرم لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شفیق اور محبت کرنے والے  باپ بھی تھے۔ انہوں نے اپنی تمام سیاسی مصروفیات کے باوجود بشمول جیل کاٹنے کے باوجود بھی اپنی اکلوتی بیٹی اندرا کی  تعلیم اور تربیت سے صرف نظر نہیں کیا۔ اور اندرا کی دسویں سالگرہ سے انہیں خط لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو کئی سال جاری رہا۔ ان خطوط میں نہرو نے  کائنات، زمین، زمین پر حیات اور زمین پرانسان اور پھر قوموں کی تاریخ کے بارے میں  مختلف موضوعات کا احاطہ کیا۔ 

Sunday, December 29, 2019

یوسف خان عرف دلیپ کمار


اداکار دلیپ کمار کی عظمت کا اعتراف ایک دنیا کرتی ہے لیکن دلیپ کمار کیوں دلیپ کمار ہے اس کا اندازہ ان کی سوانح حیات کو پڑھ کر ہوتا ہے۔ پشاور میں پیدا ہونے والا ایک غیور، شریف اور وفادار پٹھان  کتنی محنت، مشقت اور کمٹمنٹ کے سہارے اس مقام کو پہنچا ہے کہ آج پاک وہند کا ہر چھوٹا بڑا اداکار اور فلم بین اس کا نام عزت سے لیتا ہے، بڑے بڑے اداکار اس کی فلموں کے ری میک میں کام کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں اور پھر اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان سے غلطی ہوئی جو ان کے کردار کو ری پلے کیا، ان کا کوئی مقابل نہیں کوئی ثانی نہیں۔

Sunday, August 11, 2019

From the World of Vodka to the Dragon's Heart



"Now that we were so perilously close to finishing, I realized that relief wasn’t the overriding emotion. There were two others: a sense of achievement and a sense of great loss."

-- Time Cope at the end of 10,000 km cycling journey

Wednesday, August 7, 2019

Voices from Chernobyl


 A fantastic but depressing, very depressing book simultaneously, very difficult to go through. But it gives different points of view and insights from the acute victims to the liquidators, firemen, soldiers, teachers, students, housewives, resettlers, camera recorders, photographers, writers, journalists, school children, young children. How they were affected and how they perceived the incident, and its aftermaths, its causes and people's behavior towards them and theirs towards those people.

Friday, July 26, 2019

"بنت حوا ہوں میں، یہ مرا جرم ہے"

تبصرہ:

ڈاکٹر مبارک علی پاکستان کے اکلوتے نہیں تو اکلوتے مشہور تاریخ خواں ہیں۔  [تاریخ دان کی اصطلاح غلط ہے۔ "دان" بنانے والے کو کہا جاتا ہے۔ اور "خواں" بیان کرنے والے کو۔] جنہوں نے تاریخ خصوصاً برصغیر کی تاریخ پر کئی کتب لکھی ہیں اور خود فن تاریخ پر بھی۔ اس کتاب میں ڈاکٹر مبارک علی نے مختلف مذاہب، معاشروں اور تہذیبوں میں خواتین کے مقام اور حیثیت کا تاریخی جائزہ لیا ہے۔

Tuesday, March 5, 2019

پاور فیلئیر: سیدہ عابدہ حسین کا سیاسی سفر

سیدہ عابدہ حسین جھنگ کے ایک سابق اعزازی کرنل، تحریک پاکستان کے ایک رہنما، سابق پارلیمنٹرین اورایک "شریف والے فیوڈل" کی اکلوتی اولاد ہیں۔ جنہوں نے اپنا سیاسی کیرئیر بھٹو کے دور میں پنجاب اسمبلی کی خصوصی خواتین کی نشست سے شروع کیا، پھر جھنگ کی ضلع کونسل چئیرمین شپ سے گزر کر قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئیں اور نواز شریف کے دور میں امریکہ میں سفیر تعینات کی گئیں۔ درمیان میں نگران اور نواز ادوار حکومت میں مختلف وزراتوں پر بھی براجمان رہیں۔

Saturday, August 4, 2018

دوزخ نامہ از روی شنکر بال


کچھ کتاب سے ۔ ۔ ۔

"کاشی : سٹی آف لائیٹس اور جس نے کاشی نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا"

 "Love always ran out when money did"

"Death can be endured, memories can not"

Wednesday, March 7, 2018

باچا خان: ایک تاثر



باچا خان اور جی ایم سید پاکستان کی تاریخ کے دو ایسےسیاسی کردار ہیں جن کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ دونوں پاکستان کے وجود کے خلاف تھے۔ جی ایم سید سندھو دیش یا سندھ کی آزادی کے حق میں تھے یہ بات کسی سے بھی چھپی ہوئی نہیں۔ ان سے منسوب   ویب سائیٹ  پر موجود کتب اور وکی پیڈیا سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ لیکن اب تک ان کے نظریات کے بارے میں دوسروں کی زبانی یا تحریری ہی سنا اور پڑھا ہے اس لیے اس پر مزید تبصرہ ممکن نہیں۔ [ جی ایم سید کی خود نوشت  یا تصدیق شدہ سوانح اگر کسی علم میں ہے تو کتاب کے نام سے آگاہ کر کے ثواب دارین حاصل کریں۔]

Tuesday, July 25, 2017

لاہور کی ادبی الف لیلہٰ

چراغوں کا دھواں : انتظار حسین
انتظار حسین کے بقول انکے پاس دوسروں کی طرح ہجرت کی مظلومیت کی کوئی ذاتی کہانی نہیں تھی جسے بیان کر کر کے وہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ سکتے۔ لہذہ انہوں نےتقسیم اور ہجرت کے بعد جو کچھ لاہور میں دیکھا، اسے بطور اپنی سوا نح کے بیان کردیا ۔ اس طرح یہ ان کی سوانح سے زیادہ دوسروں کی سوانح ہائے حیات ہے۔ ادب کی، ادیبوں کی، ادبی پرچو ں کی اور ادبی تنظیموں کی۔ 

Thursday, July 20, 2017

الف لیلہٰ


الف لیلہٰ و لیلہٰ یا ہزار داستان نامی کتاب کا دنیا بھر میں شہرہ ہے، وکی پیڈیا کے مطابق یہ مجموعہ قصائص دراصل عرب، عجم، فارس اور اطراف کے ممالک کی فوک ٹیلز یا لوک داستانوں کا مجموعہ ہے جن کا تانا بانا  شہزادہ شہریار اور شہرزاد کی مرکزی کہانی سے منسلک ہے جسے فارسی کی داستان "ہزار افسان" سے مستعار لیا گیا ہے ۔ ان داستانوں کا کوئی ایک مصنف نہیں۔ مختلف ممالک میں اس کے مختلف ورژنز پائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ علی بابا چالیس چور، الہ دین کا چراغ اور سند باد جہازی کے سفر اوریجنل الف لیلیٰ کا حصہ نہیں تھے، انہیں بعد میں کتاب کے مغربی ایڈیٹرز نے شامل داستان کیا۔ اس طرح  عربین نائیٹس کے نام سے اسکا انگریزی ترجمہ اسے شہرت کی مزید بلندیوں پر پہنچا گیا۔ اس کتاب یا داستان کو دنیا بھر میں ایک کلاسک کا درجہ حاصل ہے

Monday, July 10, 2017

راجہ اندر


کتاب کیا ہے پوری الف لیلیٰ ہے، ایک کے بعد ایک عشق جیسے کوئی ریس لگی ہو، یا مطلوبہ قسطیں پوری ہوجانے پر کوئی تمغہ ءِ حسن کار کردگی ملنا ہو۔ حال یہ کہ خود تو کم از کم ایک درجن سے زیادہ خواتین سے "خالص اور سُچا"  عشق فرمایا، جن میں اپنے سے بڑی عمر کی خواتین بھی تھیں اور ایک آٹھویں کلاس میں پڑھنے والی بچی بھی، مسلمان خواتین بھی تھیں، ہندو، عیسائی بھی۔ کسی کو نہیں بخشا۔  ہر خاتون بس انتظار میں تھی کہ محترم ان پر نظرکرم فرمائیں اور خاتون ان کا بستر گرم کرنے کو پلنگ پر بچھ جائیں یا ان کی چونچ میں چونچ ڈال دیں۔

Monday, June 26, 2017

نمل از نمرہ احمد


تقریباً 1500 صفحات کا ناول پڑھنا مذاق نہیں ہے۔ اور یہ کارنامہ ہم انجام دے چکے ہیں تو اب آپ کو اس پر ری ویو بھی پڑھنا پڑے گا۔ 

ایک تو ناول کے سارے ہی کردار بلیک میلر ہیں۔ چاہے وہ ہیرو پارٹی سے ہوں یا ولن پارٹی سے یا پھر تھرڈ پارٹی سے۔ سب کے سب کمپیوٹر و ہیکنگ کے ماہر ہیں، سب کے سب انتہائی طاقتور ، بااثر اور روابط والے جن کے اندرون ملک اور بیرون ملک نیٹ ورکس پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین ڈیجٹل گیجٹس کی لائن لگی ہے، اس لیے دروازوں اور ہتھکڑیوں کے لاکس کھولنا، ایک دوسرے کا ای میل ہیک کرنا، موبائلز بگ کرنا، جام کرنا اور اسکی لوکیشن کو کلون کرنا ، ایک دوسرے کا کرمنل ماضی چھان ڈالنا اور یک دوسرے کی خفیہ ویڈیوز بنانا ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔

روڈ ٹو مکہ : علامہ محمد اسد

ایک یوروپین بدوکی کہانی

لیوپولڈ آف عربیہ
علامہ محمد اسد پیدائشی یہودی تھے جو آسٹریا کے ایک اچھے خاصے مذہبی یہودی خاندان میں بطور Leopold Weiss پیدا ہوئے، تعلیم پائی ، پھر روزگار کے سلسلوں میں یروشلم جاپہنچے۔ جہاں ان کا پہلی مرتبہ عربوں، مسلمانوں اور صیہونیوں سے واسطہ پڑا۔ بعد ازاں وہ مسلمان ہوگئے ۔ اور ان کی بقیہ زندگی مسلمان ممالک اور مسلمانوں کے درمیان اور اسلام کے لیے گزری ۔ 

Friday, March 24, 2017

حوالوں کی کتاب



اختر بلوچ کی کتاب "کرانچی والا" ان کے ڈان ڈاٹ کام پر شایع شدہ منتخب بلاگز پر مشتمل کتاب ہے جن میں زیادہ تر کراچی شہر، شہر کی تاریخ، کراچی سے منسلک تاریخی شخصیات اور شہر کی عمارات اور مقامات پر ان کی تحقیق و تلاش کے تذکرہ جات شامل ہیں۔  کتاب کیا ہے کراچی کی ابتداء اور ابتدائی پاکستان کی سوانح حیات ہے کیونکہ پاکستان کی ابتداء میں کراچی ہی ملک کا دارالخلافہ تھا لہذہ تمام سیاسی او سماجی سازشیں بھی کراچی میں ہی تیار اور عمل پذیر ہوتی تھیں۔ 

Tuesday, February 14, 2017

سیون ائیرز ان تبت

ایک لو اسٹوری

سب سے پہلے تو اس کا سفر ہی کراچی سے اسٹارٹ ہوا ۔ ہمارا اپنا کراچی ، ہاں جی اور ہمارا اپنا نانگا پربت بھی ۔ بندے کی آنکھیں اور دل کھل نہ جائے تو اور کیا ہو بھلا ۔ چار کوہ نورد جو نانگا پربت کا دیا میر فیس اور ٹریک دریافت کرنے کی مہم سے فارغ ہوکر اپنے وطن واپس جانے کے لیے کراچی میں بحری جہاز کے انتظار میں تھےدوسری جنگ عظیم شروع ہونے پر سرکار انگلیشہ کے جنگی قیدی بنا لیے گئے کیونکہ انکا تعلق جرمنی سے تھا۔ اور جیل بھیج دئیے گئے جو تقریباً تبت کے بارڈر پر ہی سمجھیں ۔ اب بندہ اور وہ بھی کو ہ نورد,  انگریز کی جیل سے فرار ہوگا تو بھاگ کے اور کہاں جائے گا, تبت اور کہاں ۔ سو یہی ہوا۔

تبت اب تک ہمارے لیے بس اتنا ہی تھا کہ دنیا کا بلند ترین پلیٹو یعنی کہ سطح مرتفع ہے ، چین کا حصہ ہے، جو ذرا چین سے ناراض سا ہے اوروہاں کے حکمران ہندوستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں کیونکہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔