اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،
Showing posts with label Relationships. Show all posts
Showing posts with label Relationships. Show all posts
Tuesday, April 14, 2026
Thursday, December 25, 2025
فاطمہ نامہ 1
فاطمہ بہت چھوٹی سی تھی شاید ایک ڈیڑھ سال کی۔ ہم اسے انگلی چوسنے سے منع کرتے تھے۔ ایک دن ہم دونوں نیچے اکیلے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اس نے منہ میں ہاتھ ڈالا میں نے اسے منع کیا۔ اس نے نکال لیا تھوڑی دیر بعد پھر انگلی منہ میں۔ میں نے قریب سے ماچس اٹھائی اور کہا میں تمہارا ہاتھ جلادوں گی اب اگر منہ میں لیا۔ فاطمہ ایک دم خوفزدہ ہو کر مجھ سے دور ہوگئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات مجھے آج تک نہیں بھولتے۔ جتنی دہشت تھی اس کے چہرے پر۔
Friday, June 12, 2015
ایڈ جسٹ منٹ
اماں تو چلی گئیں پر سب سے مشکل کام تھا کہ فاطمہ کو کیسے بتایا جائے اور سمجھایا جائے۔ ایک دن ابو نے پہلے بڑے دادو کو دادی پھپھو کے گھر سے آسمان پر پہنچایااور ستارہ بنا دیا ۔ اسطرح بڑے دادو کوچ کرنےکے تقریباً دو سال بعد ستارہ بن گئے ۔ بڑا والا ستارہ، جو ہماری چھت پر مغرب کی سمت نظر آتا ہے۔
پھر ابو نے اماں کو ستارہ بنانے کی کوشش کی تو آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھر آئے،
" کیا ہماری اماں اب کبھی واپس نہیں آئیں گی ؟" ابو اماں کو ستارہ بناتے بناتے رک گئے۔
Subscribe to:
Comments (Atom)