Friday, June 3, 2016

پسینے کے پھول

ہم تندہی سے سیڑھیوں کی صفائی کر رہے تھے، گو کہ دھوپ نہیں تھی لیکن کراچی کی آب و ہوا میں آب کی مقدار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ تھوڑی سی محنت سے بندے کا تیل نکل جائے۔  پسینہ بالوں سے نکل کر کانوں کے پیچھے سے ہوتا ہوا ٹھوڑی پر آکر بوندوں کی اک قطار کی صورت زمین بوس ہو رہا تھا۔ جہاں  جہاں پسینے کی بوند گرتی وہاں پڑی دھول میں ایک پھول سا بن جاتا۔ 

ان پھولوں کو دیکھ کر خیال آیا کہ ایک افسانہ لکھا جا سکتا ہے،" پیسنے کے پھول"۔ کسی سیلف میڈ شخص کی کہانی جس کی محنت رنگ لائی ہو۔ لیکن ہم ٹھہرے سیدھے سادے بلاگر، بغیر کسی لگی لپٹی  کے جو من میں آئے ویسے ہی تحریر کردینے والے، ہم کہاں ایک افسانہ گھڑ سکتے ہیں۔ 

Sunday, May 29, 2016

مولہ چٹوک : سفر نامہ

زیر تعمیر۔ ۔ ۔ 

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
میری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
شکیب جلالی                               

تصویر نسرین غوری

Monday, May 23, 2016

رمضان : خوشامد, سفارش اور رشوت کا مہینہ

ہمیں کسی  سے کوئی کام نکلوانا ہو تو ہم ہر طرح سے اسکی مٹھی چاپی کرتے ہیں، خوشامد، جھوٹی سچی تعریف، سفارش، رشوت ہر طرح سے اسے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا اٹکا ہوا کام نکل جائے۔ جتنا بڑا افسر یا وزیر یا عہدے دار اتنی تگڑی سفارش ، اتنی زیادہ رشوت

Friday, May 13, 2016

ہم مڈل کلاسئیے

ایک تو ہم مڈل کلاسئے بھی ناں.. 


ایک ہوتی ہے ایلیٹ کلاس اور ایک ہوتی ہے غریب کلاس.. دونوں اپنے حال میں مست۔ اور مڈل کلاس سب کی فکرکم سن گن لینے میں گم

Monday, May 9, 2016

مولہ چٹوک: بلوچستان کی ایک جنت نشاں وادی

مولہ آبشار کے اندر کا منظر: فوٹو کریڈٹ: جام اقبال

مولہ چٹوک بلوچستان کے ضلع خضدار کی ایک جنت نشاں وادی مولہ میں ایک آبشار کا نام ہے جو دراصل دریائے مولہ ہے اور چٹوک مقامی زبان میں آبشار کو کہتے ہیں، جس مقام پر یہ دریا آبشار کی صورت پہاڑوں سے باہر آتا ہے اسے مولہ چٹوک یا مولہ واٹر فالز کہتے ہیں ۔

Wednesday, May 4, 2016

برصغیر میں شب معراج

آج کے تمام اخبارات شب معراج کی تفصیلات سے بھرے ہوئے ہیں۔ میں تین سال مصر میں رہی ہوں لیکن میں نے وہاں شب معراج کے موقعے پر کسی خاص اہتمام تو کیا کسی کے منہ سے بھی اس واقعے کا تذکرہ نہیں سنا۔ یاد رہے کہ مصر ایک عرصے تک اسلام اور مسلمانوں کا تہذیبی اور ثقافتی گہوارہ رہا ہے۔ الازہر یونی ورسٹی آج بھی مسلم دنیا کی مرکزی فتویٰ گاہ شمار ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ کےمتعدد واقعات کے بارے میں ایسا ہی سرد رویہ خلیج اور خطہ عرب کے دیگر ممالک میں نظر آتا ہے جن پر ہمارے ہاں خاصہ جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ اس خطے میں لوگ صرف شب قدر کو ہی جانتے ہیں اور اسی موقعے پر کچھ شو شا کرتے ہیں۔ یا پھر عیدین،  سعودی عرب تو کٹر وہابی ہے یعنی کفر سے محض چند قدم ہی پیچھے ہے۔ نابکار کہیں کا۔

Saturday, April 30, 2016

پاکستان میں سیاحت: ایک جائزہ 2

کچھ گھومنے اور گھمانے والوں کے بارے میں


گو کہ پاکستان میں سیاحت کو انڈسٹری / صنعت کا درجہ دیا گیا ہے۔ لیکن تاحال پاکستان میں قومی سیاحت کے حوالے سے کوئی ایسا ادارہ نہیں جو سیاحوں کے سفر اور منزل یا مقصد سفر کا ڈیٹا یا اعداد وشمار جمع یا مہیا کرتا ہو ۔ سیاحت سے متعلق ایک صوبائی محکمے سے ملکی سیاحوں کے اعداد و شمار کے بارے میں استفسار پر جواب ملا کہ امیگریشن اور ایف آئی اے سے رجوع کریں۔ بھلا اندرون ملک سیر و تفریح کی غرض سے سفر کرنے والوں کا امیگریشن سے کیا تعلق۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ ملکی و قومی سیاحت سے حکومت کی دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ پاکستان اکنامک سروے 2014/15 میں لفظ سیاحت کا گزر صرف ایک بار گوادر پورٹ کے تذکرے میں ضمنی سرگرمیوں کے حوالے سے آیا ہے ۔ جبکہ سالانہ ورک پلان 16-2015 میں سیاحت کا لفظ کہیں بھی نہیں ہے ۔ تو ہم ایسا ڈیٹا جمع کر کے کیا کریں گے جو کسی کام نہیں آنا۔