Tuesday, August 22, 2017

تجسس، کن سوئیاں اور سانوں کیہہ

"آپ سسرال جا رہی ہیں"  برابر سے آواز آئی۔ 

ٹرین کی ہم سفر متجسس تھیں کہ 'اکیلی' لڑکی آخر کہاں جارہی ہے۔ ہم نے اس اچانک حملے پر کتاب سے منہ اٹھایا، ایک غائب دماغ قسم کی نظر ان پر ڈالی، دماغ کو سوتے سے جگایا اور جواب دیا۔ " جی جی اپنے گھر ہی جا رہی ہوں" اسکے بعد سوالوں کی لائن لگ گئی ، بچے کتنے ہیں، میاں کیا کرتے ہیں۔ میکہ کہاں ہے، سسرال کہاں ہے۔ ہماری اپنی ذات کی تو گویا کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔ ساری اہمیت متعلقہ معلومات کی تھی۔

Tuesday, July 25, 2017

لاہور کی ادبی الف لیلہٰ

چراغوں کا دھواں : انتظار حسین
انتظار حسین کے بقول انکے پاس دوسروں کی طرح ہجرت کی مظلومیت کی کوئی ذاتی کہانی نہیں تھی جسے بیان کر کر کے وہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ سکتے۔ لہذہ انہوں نےتقسیم اور ہجرت کے بعد جو کچھ لاہور میں دیکھا، اسے بطور اپنی سوا نح کے بیان کردیا ۔ اس طرح یہ ان کی سوانح سے زیادہ دوسروں کی سوانح ہائے حیات ہے۔ ادب کی، ادیبوں کی، ادبی پرچو ں کی اور ادبی تنظیموں کی۔ 

Thursday, July 20, 2017

الف لیلہٰ


الف لیلہٰ و لیلہٰ یا ہزار داستان نامی کتاب کا دنیا بھر میں شہرہ ہے، وکی پیڈیا کے مطابق یہ مجموعہ قصائص دراصل عرب، عجم، فارس اور اطراف کے ممالک کی فوک ٹیلز یا لوک داستانوں کا مجموعہ ہے جن کا تانا بانا  شہزادہ شہریار اور شہرزاد کی مرکزی کہانی سے منسلک ہے جسے فارسی کی داستان "ہزار افسان" سے مستعار لیا گیا ہے ۔ ان داستانوں کا کوئی ایک مصنف نہیں۔ مختلف ممالک میں اس کے مختلف ورژنز پائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ علی بابا چالیس چور، الہ دین کا چراغ اور سند باد جہازی کے سفر اوریجنل الف لیلیٰ کا حصہ نہیں تھے، انہیں بعد میں کتاب کے مغربی ایڈیٹرز نے شامل داستان کیا۔ اس طرح  عربین نائیٹس کے نام سے اسکا انگریزی ترجمہ اسے شہرت کی مزید بلندیوں پر پہنچا گیا۔ اس کتاب یا داستان کو دنیا بھر میں ایک کلاسک کا درجہ حاصل ہے

Monday, July 10, 2017

راجہ اندر


کتاب کیا ہے پوری الف لیلیٰ ہے، ایک کے بعد ایک عشق جیسے کوئی ریس لگی ہو، یا مطلوبہ قسطیں پوری ہوجانے پر کوئی تمغہ ءِ حسن کار کردگی ملنا ہو۔ حال یہ کہ خود تو کم از کم ایک درجن سے زیادہ خواتین سے "خالص اور سُچا"  عشق فرمایا، جن میں اپنے سے بڑی عمر کی خواتین بھی تھیں اور ایک آٹھویں کلاس میں پڑھنے والی بچی بھی، مسلمان خواتین بھی تھیں، ہندو، عیسائی بھی۔ کسی کو نہیں بخشا۔  ہر خاتون بس انتظار میں تھی کہ محترم ان پر نظرکرم فرمائیں اور خاتون ان کا بستر گرم کرنے کو پلنگ پر بچھ جائیں یا ان کی چونچ میں چونچ ڈال دیں۔

Wednesday, June 28, 2017

Road To Mecca II : "Home-coming of the Heart

Hello Readers

Me searching for a soft copy of second part of Road To Mecca II : Home-coming of the Heart by Allama Mohammad Assad. If anyone has it or can find a pdf/ epub version, please email me at nasreenghori@gmail.com.

Thank you 😍


Monday, June 26, 2017

نمل از نمرہ احمد


تقریباً 1500 صفحات کا ناول پڑھنا مذاق نہیں ہے۔ اور یہ کارنامہ ہم انجام دے چکے ہیں تو اب آپ کو اس پر ری ویو بھی پڑھنا پڑے گا۔ 

ایک تو ناول کے سارے ہی کردار بلیک میلر ہیں۔ چاہے وہ ہیرو پارٹی سے ہوں یا ولن پارٹی سے یا پھر تھرڈ پارٹی سے۔ سب کے سب کمپیوٹر و ہیکنگ کے ماہر ہیں، سب کے سب انتہائی طاقتور ، بااثر اور روابط والے جن کے اندرون ملک اور بیرون ملک نیٹ ورکس پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین ڈیجٹل گیجٹس کی لائن لگی ہے، اس لیے دروازوں اور ہتھکڑیوں کے لاکس کھولنا، ایک دوسرے کا ای میل ہیک کرنا، موبائلز بگ کرنا، جام کرنا اور اسکی لوکیشن کو کلون کرنا ، ایک دوسرے کا کرمنل ماضی چھان ڈالنا اور یک دوسرے کی خفیہ ویڈیوز بنانا ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔

روڈ ٹو مکہ : علامہ محمد اسد

ایک یوروپین بدوکی کہانی

لیوپولڈ آف عربیہ
علامہ محمد اسد پیدائشی یہودی تھے جو آسٹریا کے ایک اچھے خاصے مذہبی یہودی خاندان میں بطور Leopold Weiss پیدا ہوئے، تعلیم پائی ، پھر روزگار کے سلسلوں میں یروشلم جاپہنچے۔ جہاں ان کا پہلی مرتبہ عربوں، مسلمانوں اور صیہونیوں سے واسطہ پڑا۔ بعد ازاں وہ مسلمان ہوگئے ۔ اور ان کی بقیہ زندگی مسلمان ممالک اور مسلمانوں کے درمیان اور اسلام کے لیے گزری ۔