Tuesday, June 2, 2015

کہ آتی ہے اردو زبان آتے آتے

اپنی زبا ن جو ہم بحق پیدائش استعمال کرنے کے عادی ہیں ، الفاظ کیسے بنے ، اصطلاحات کہاں سے آئیں اور جملے کی تعمیر میں کون سی خوبیاں اور خامیاں مضمر ہیں ان پر تو ہم کبھی غور ہی نہیں کرتے ۔ یہ تو ہمیں اپنی اماں سے ورثے میں ملی ہے مطلب باپ کا مال ہے جیسے چاہے خرچ کرو۔ لیکن جب کہیں اسے ٹرانسلیٹنے کا موقع آئے تو عام سے الفاظ خاص بن جاتے ہیں ۔ اور خاص الفاظ بہت آم ۔

عام سے جملوں کی تعمیر کی خوبیاں اور خرابیاں آپ سے کوئی پوچھ لے تو آپ منڈی جھکا کر دل کے آئینے میں تصویر یار دیکھنے میں مگن ہو جاتے ہیں کہ کبھی اردو گرامر پر تو دھیان دیا ہی نہیں تھا ۔ آپ کے اپنے افعال ماضی، حال میں افعال موذی بن کر آپ کو ڈرانے لگتے ہیں ۔

Friday, May 29, 2015

بجٹ کی بہاریں

پہلے تو ہمیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے ۔ آخر شہر اس قدر تیزی سے کیونکر ترقی کر رہا ہے ۔ بھلا یہ کوئی انصاف ہے کہ جن رولر کوسٹر رائیڈز کو انجوائے کرنے کے شوق اور امید میں ہم ہر صبح گھرسے دفترعازم سفر ہوتے تھے ظالموں نے انہیں اچانک خاک نشیں کر دیا تھا۔ سڑکوں پر کھدے نقش و نگار جن کے درمیان ہم زگ زیگ ڈرائیونگ کی پریکٹس کیا کرتے تھے ان پر نئی قالین کاری کر دی گئی۔ اب کوئی بتائے کہ

محبت ہو گئی جن کو وہ دیوانے کہاں جائیں
مطلب ۔۔ اپنا ناشتہ ہضم کرنے :P

Sunday, May 24, 2015

لاہور ای لاہور اے :P

آجکل زمبابوے کی کرکٹ ٹیم اسلامی جمہوریہ پنجاب کے دورے پر ہے .. ٹیم صرف لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہی سارے میں سارے میچ کھیل کر واپس اپنے ملک روانہ ہو جائے گی.
اس سے پہلے چین کے صدر اسلامی جمہوریہ پنجاب کے دورے پر تھے جس کا دارالحکومت لاہور ہے .جس کے بارے میں پہلے مشہور تھا لہور لہور ہے ... اب کہتے ہیں 

لاہور ہی لاہور ہے

بس :P

پی ایس: نواز شریف کی یہ ریکارڈ ہے کہ یہ کسی بین الاقوامی مہمان کو کراچی نہیں آنے دیتا بھلے یہاں قائد اعظم ہوں۔ انکا اتنا ہی کام تھا کہ وہ مسلم لیگ چھوڑ جائیں اور یہ اس کے انڈے بچے سہتے رہیں ۔

Thursday, May 14, 2015

حج فارم میں مسلک کا کالم اور شعیہ سنی تفرقہ: حقیقت یا فسانہ

بطور تعلیم یافتہ ذمہ دار شہری ہمیں اختلاف برائے اختلاف سوشل میڈیا پر زہر پھیلانے کے بجائے کسی بھی فیصلے یا عمل کا پس منظر جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ درج ذیل معلومات نیک نیتی کی بنیاد پر شئیر کی جارہی ہیں ۔ [دروغ بر گردن راوی]۔

آجکل سوشل میڈیا پر حج فارم میں مسلک کے کالم پر شدید اعتراضات کیے جارہے ہیں اور اسے تفرقہ پھیلانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ عامر لیاقت حسین پاکستان کے وزیر مذہبی عمور رہ چکے ہیں ۔ ان کے مطابق :

"
حج فارم میں جس ’’کالم‘‘ پر شدید اعتراض کیا جا رہا ہے اُس کی سفارش اہل تشیع کے ممتاز عالم مفتی جعفر حسین مرحوم نے کی تھی اوراِس کا ایک سبب نہیں بلکہ کئی اسباب ہیں جو بالکل درست ہیں…

1۔پہلا سبب یہ ہے کہ فقہ جعفری کی رو سے مَحرم کی شرط شیعہ حضرات کےلئے نہیں ہے اِسی لئے یہ خانہ انتہائی ضروری ہے تاکہ شیعہ خواتین اس سے مستثنیٰ قرار پائیں…

Thursday, May 7, 2015

غریبی کے سائیڈ ایفیکٹس بلکہ آفٹر شاکس

عمرانیات کی کلاس میں استاد نے کلچر پڑھاتے ہوئے ایک جملہ کہا تھا کہ کلچر آف پاورٹی، پاورٹی آف کلچر میں تبدیل ہوجا تا ہے۔ یہ جملہ اس وقت تو یاد کر لیا تھا کہ امتحانی کاپی میں لکھ کر استاد کو متاثر کرنے کے کام آئے گا کہ ہم کتنے فرمانبردار شاگرد ہیں ، استاد کا کہا کتنا یاد رکھتے ہیں۔ لیکن جب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر گیا تو اس جملے کا مطلب صحیح سے سمجھ آیا ہے، گویا بال جھڑنے کے بعد کنگھی مل گئی ہے۔

جب آپ نے ایک عمر غریبی میں گزاری ہو تو غریبی کا کلچر اور مائنڈ سیٹ آپکے لہو میں سرائیت کر جاتا ہے، آپ ہمیشہ ہر شے کو اسی آئینے میں دیکھتے ہیں۔ غریبی خاص کر غریب بچپن آپ میں کچھ مخصوص اور مزیدار عادتوں کا باعث بنتا ہے۔

Friday, May 1, 2015

Let’s have a Cup of Tea ..

چائے پینا ہماری روزمرہ عادات میں شامل ہے۔ جی ہاں ہم لوگ ضرورتاً نہیں عادتاً چائے پیتے ہیں۔ کوئی کام نہیں، فارغ بیٹھے ہیں، چلو ایک کپ چائے ہوجائے۔ کام زیادہ ہے، ہاں ابھی کرتے ہیں، پہلے چائے تو پی لیں۔ اف آج تو بہت کام کر لیا، اب ایک کپ چائے تو پی لیں۔

میرے لیے چائے پینا ہمیشہ سے ایک فالتو کام رہا ہے۔ یعنی چائے پینا بھی کوئی اہم کام ہے بھلا۔ لہذہ ہمیشہ چائے پیتے ہوئے دیگر کام میرے سر پر سوار رہے ہیں، کہ چائے ختم کر کے یہ کام کرنا ہے/کرنے ہیں۔ سو میں چائے ایسے پیتی ہوں کہ یہ کام جلد ی سے ختم ہو تو میں کوئی کام کا کام کروں۔

Wednesday, April 29, 2015

کراچی کی ٹریفک: ہوکے اور کچیچیاں

کچھ گاڑیاں سڑک پر ایسے چل رہی ہوتی ہیں جیسے ان کو ابھی ابھی "مسلمان" کیا گیا ہو یا پھر ان کو چلانے والوں کے ساتھ یہ حادثہ ابھی تازہ ہو۔ نہ خود چلیں گے نہ آپ کو راستہ دیں گے۔

موٹر بائیک کا ہارن عموماً ایکسلریٹر المعروف ریس کے ساتھ لگا ہوتا ہے، جتنی زیادہ رفتار اتنا ہی زیادہ اور مسلسل ہارن بجے گا۔ ایک موٹر بائیک پر پانچ لڑکے ایک دوسرے کے ساتھ ایسے چپک کر بیٹھے ہونگے جیسے فیکٹری سے ایک ساتھ ایک پزل کے ٹکڑوں کی طرح پیک ہو کر آئے ہوں۔ کھول لیں اور پھر سے جوڑ دیں تو ہر جوڑ اپنے سانچے میں فٹ ہو جائے گا۔ مزے کی بات ایسی بائیک چلانے والوں کو ٹنکی پر بیٹھ کر بائیک چلانے کی ایسی عادت پڑتی ہے کہ اکیلے بھی بائیک چلا رہے ہونگے تب بھی ٹنکی پر چڑھ کرہی چلائیں گے۔