بچے اردو پڑھنے سے کتراتے ہیں، ابا نے ڈیوٹی لگائی کہ بچوں کو ایک گھنٹہ اردو پڑھانے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ بچے صبح سے دوپہر اسکول اور تین سے چھ تک ابا سے پڑھنے اور سات بجے قران کلاس کے بعد پڑھنے کے نام سے ہی بدکتے ہیں۔ اب آٹھ سے نو انہیں مزید پڑھانے کے لیے اسکول کی اردو/ اسلامیات کی کتب سے اردو پڑھانا تو بالکل ہی آوٹ آف کوئسچن تھا۔ ایکسپو سے خریدی ہوئی کتب میں ایک کتاب تھی "چچا چھکن نے تصویر ٹانگی" اسے پڑھ کر بچے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاتے تھے۔
Thursday, February 19, 2026
Friday, February 13, 2026
دامن یوسف: فیض بنام سرفراز
فیض کے خطوط سرفراز کے نام
ایک خوبصورت کتاب۔ عموماً خطوط کے مجموعات میں صرف خطوط جمع کردیے جاتے ہیں اور زیادہ کریں تو ایک حرف آغاز لکھ دیا جاتا ہے ان خطوط کے بارے میں مختصر سا تعارف دینے کے لیے یہ مجموعہ اس طرح سے مختلف ہے کہ سرفراز اقبال اپنی اور فیض کی "دوستی" کی داستان پہلی ملاقات بلکہ پہلی فون کال سے شروع کرتی ہیں اور اس داستان میں جہاں جہاں رابطہ ٹوٹا اور فیض کو خط کا سہارا لینا پڑا وہاں اس داستان میں خط کا متن درج کردیا گیا ہے۔ اس طرح ہر خط کا پس منظر پڑھنے والے پر واضح ہوتا جاتا ہے ۔
Friday, February 6, 2026
عمر سیریز:
❤️ ایک اور لو اسٹوری ❤️
بی اے میں ابا نے کہا اسلامی تاریخ رکھ لو آسان ہے ہم نے رکھ لی ۔پہلے سال دور رسالت اور خلفائے راشدین کے بارے میں پڑھا۔ عمر فاروق کی ذاتی صفات کے متعلق جانا ، ان کے دور حکومت، کارنامے، اور خدمات سے تعارف ہوا،،، اینڈ آئی فیل ان لو انسٹینٹ لی۔ حضرت عمر سے یہ پہلا تعارف تھا ۔ پھر اس کے بعد "الفاروق " کون چھوڑتا ہے بھلا۔ بس تب سے یہ لو افئیر جاری ہے۔
ابھی حال ہی میں یوسف پیامبر دیکھنے کے بعد دیگر اسلامی سیریز کے بارے میں جانا۔ ایک جاننے والے صاحب نے عمر سیریز ریکمینڈ کی، پھر ایک گروپ میں بھی عمر سیریز پر تبصرہ نظر سے گزرا۔ تلاش کی۔ پہلی ٹرائی یوٹیوب پر کی، پتا چلا کہ عربی زبان میں موجود ہے۔ اردو میں پہلی قسط ہے اور پھر چھبیسویں قسط ہے اور باقی ندارد۔خیر یہ تو بعد میں پتا چلا ۔ پہلی قسط دیکھی اس میں اردو ترجمے اور زبان و لہجے کا وہ معیار نہ تھا جو یوسف پیامبر کا تھا۔ لہجہ ہندی اور دو تین فیصد ہندی الفاظ کا تڑکہ ،منہ کا ذائقہ بڑا خراب ہوا۔ پھر عربی انگریزی سب ٹائیٹل سے ساتھ دیکھنی شروع کی دوسرے یا تیسرے پارٹ میں جا کر سب ٹائٹل چلنے سے انکاری ہوگئے، آن ہیں لیکن اسکرین پر نہیں آرہے۔ پھر ناچار ہندی مکس اردو دیکھنی شروع کی مگر پہلی قسط کے بعد مزید قسطیں غائب ۔ پھر گوگل کیا اور ایک لنک ملا جس پر ساری قسطیں موجود تھیں۔
Monday, February 2, 2026
باپ سراں دے تاج محمد
ہم اور ہمارے ابا : ایک لوو اسٹوری
جہاں تک ہماری یادداشت ڈاون میموری لین میں جاسکتی ہے وہاں تک ہمیں جو یاد آتا ہے کہ ہمیشہ سے ہم اماں سے زیادہ ابا سے اٹیچ تھے۔ بلکہ اماں ہمیں اماں کم ساس زیادہ لگتی تھیں۔ سب سے پرانی یاد جو ہمیں یاد ہے ہم شاید ڈھائی تین سال کے ہونگے اماں کو بخار تھا اور وہ بستر سے اٹھنے کے لائق نہیں تھیں ورنہ ابا باورچی خانے میں ہرگز نہ ہوتے۔ اور یہ اماں کی کسی بھی بیماری کی "سوپر لے ٹیو" ڈگری ہوتی تھی کہ اماں بستر پر لیٹ جائیں۔ ان کی ڈکشنری میں بیماری سے ہار ماننے کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا یا اگر تھا تو شاید ایسا جس کے لیے پشتو میں بہت برا لفظ ہوتا ہوگا۔ تو ابا باورچی خانے میں ہیں اور غالباً ہمارے لیے یا شاید امی کے لیے چائے بنارہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ ساتھ ہیں اور اپنی بساط بھر برتن اٹھا کر دے رہے ہیں۔
Labels:
Adventure,
Biograph,
Common Sense,
Pakistan,
Society
Subscribe to:
Comments (Atom)