ویسے تو اللہ کا شکر ہے کہ میں نے فیملی کے ساتھ بچپن ہی سے بہت تفریح کی ہے، ہر وہ جگہ جہاں ہم اپنے دستیاب وسائل کے ساتھ پہنچ سکتے تھے ہم نے نہیں چھوڑی۔ لیکن میری انفرادی سیر و تفریح کی شروعات 2010 سے شروع ہوئی۔ جب مجھے اسکالر شپ پر تین سال کے لیے مصر جانے کا موقع ملا۔
نیا ملک، نئی زبان، الگ تہذیب، بھانت بھانت کے لوگ۔ وہاں نہ ابا تھے نہ بھائی کہ آرڈر جاری کردو، دفتر سے واپسی پر مطلوبہ شے سامنے ٹیبل پر رکھی ملے گی۔ سب کچھ خود ہی کرنا تھا، حقیقت میں آٹے اور دال کا ہی نہیں آلو، پیاز، ہری مرچ، ٹماٹر کا صرف بھاو ہی نہیں معلوم ہوا اچھے برے کی بھی پہچان ہوگئی۔ روز ایک نیا تجربہ، روز ایک نئی دریافت۔ صرف یہی نہیں، انجان سڑکوں اور شہر میں تفریح بھی خود ہی کرنی تھی۔کب تک ہانٹڈ ہوسٹل میں بیٹھے رہتے۔ لہذہ چار زبانیں بولنے والی چار لڑکیاں کبھی مل کر کہیں چل دیتیں ، کبھی کہیں۔ صرف قاہرہ میں ہی نہیں ، کبھی مل کر الیکزینڈریا چلے جاتے، کبھی لکسر اور اسوان