Friday, May 22, 2026

ہیلن | ناٹ سو آئٹم گرل

مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آسکی کہ ہیلن کو آئٹم گرل کے طور پر کیوں ضایع کیا گیا۔ آپ نے اکثر و بیشتر ہیلن کے رنگین اور ننگے پنگے گانے ہی دیکھیں ہونگے۔ لباس ایسا کہ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔ وی سی آر کے زمانوں میں جب سارا محلہ ایک ساتھ بیٹھ کر ڈان، شعلے اور اسی قسم کی مووی دیکھا کرتا تھا، اور چاچا، خالہ، گڈو، پپو، بےبی، منا،، ان آئٹم سانگز کو دیکھتے ہوئےسب ایک دوسرے سے نظر کا پردہ فرما لیا کرتے تھے، ہیلن کے ہر اسٹیپ پر جیا دھڑک دھڑک جاتا تھا کہ ہائے بس اب چلمن اٹھنے کو ہے۔ لیکن ، ، ، ،

Friday, May 15, 2026

ڈائجسٹوں میں ادبی شہہ پارے

ونس اپون اے لانگ لانگ ٹائم بلکہ زمانہ قبل از ٹائم جب ہم کتابیں خریدنا افورڈ نہیں کرسکتے تھے تو ڈائجسٹوں میں رومانچک ناولز اور افسانے پڑھا کرتے تھے وہ بھی کباڑی سے خرید کر یا دوسروں سے مانگ کر۔ ڈائجسٹوں میں موضوع کی کوئی قید نہیں تھی پاکیزہ سے سسپنس تک اور شعاع سے نئے افق، جاسوسی اور سیارہ ڈائجسٹ، اردو ڈائجسٹ جو مل جائے اسے چاٹ لینا بلکہ رٹ لینا فرض ہوتا تھا۔

Wednesday, May 13, 2026

سالگرہ : کلاسک پاکستانی مووی

گزشتہ ویک اینڈ پاکستان کی سنہری موویز میں سے ایک سالگرہ دیکھی۔ بہت بچپن میں ٹی وی پر دیکھی تھی اور بس یہی یاد تھا کہ ایک پیاری سی لڑکی ایک محفل میں بہت دکھی سا گانا گار رہی تھی۔ اور کچھ یاد نہیں تھا۔

دوبارہ دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔گویا ایک نئی نکور مووی دیکھی ہو۔ شمیم آرا سانولی سلونی ہونے کے باوجود کس قدر خوبصورت تھیں کہ ان کا حسن بلیک اینڈ وائٹ مووی میں بھی ناقابل فراموش ہے۔ اور وحید مراد کی نوجوانی  

اب اتنی موویز دیکھ لی ہیں کہ ہر مووی کی کہانی، سچویشنز اور ڈائلاگز پریڈیکٹنگ لگنے لگے ہیں، ورنہ کہانی میں تجسس بھی ہے، رومینس بھی، ایکشن بھی اور میلو ڈرامہ بھی۔ ڈائلاگز بھی اچھے ہیں خاص طور پر طارق عزیز کے جنہوں نے شمیم آرا کے والد اور جج صاحب کا رول بہت عمدگی سے نبھایا ہے۔

Friday, May 8, 2026

قرار لوٹنے والے ~~

انتقامی فلمی گیتوں پر ایک تبصرہ

خدا کرے تجھے آدھی چھٹانک گھی نہ ملے
تیری پکی ہوئی ہانڈی بگھار کو ترسے

ایسے ہی پرانے گانے سنتے سنتے خیال آیا کہ فلمی گیتوں کی ایک فارم انتقامی گانوں کی بھی ہے ۔ گو کہ فلموں میں زیادہ تر رومینٹک گانے ہوتے ہیں، آئٹم سانگ ہوتےہیں یا پھر دکھی پریم نگری لیکن کبھی کبھی ہیرو یا ہیروئن انتقام پر بھی تو اتر آتےہیں، زیادہ تر ہیرو جیسے کہ

جس نے میرے دل کو درد دیا
اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں

علاوالدین اور مہدی حسن کا حسین کامبی نیشن فلم سسرال کا گانا ۔ "گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے " کے بعد ایک اور بہترین گانا جس میں علاوالدین اداکاری اور مہدی حسن گلوکاری کے عروج پر نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ گانا ہمیں مہدی حسن سے زیادہ سجاد علی کی آواز میں پسند ہے، کیونکہ پہلی بار سجاد علی کی آواز میں سنا تھا اوراس نے اتنا جم کر گا یا ہے کہ بس سواد آجائے۔ مکتوب الیہ تو آواز کی ٹون سن کر ہی پتلی گلی سے نکل لے۔

Tuesday, May 5, 2026

تھینکیو ایوری ون

شہزاد کے بعد پہلا روڈ ٹرپ

شہزاد کی زندگی میں بہت لوگ ہمارے ساتھ ٹرپس پر جانا چاہتے تھے، اوربہت سے لوگ جاتے بھی تھے، ابا کے دوست، اس کے اپنے دوست اور ہمارے دوست بھی۔ وہ سیر و تفریح کا شوقین اور انتہا کا محنتی تھا۔ ٹرپ چاہے ابا کے دوستوں کا ہی ہوتا وہ اس میں شامل نہ بھی ہوتا تب بھی پورے دو دن سامان اکھٹا کرنے اور واپس ٹھکانے لگانے میں لگاتا۔ جب وہ بھی ساتھ جاتا تو ٹرپ کی ساری ذمہ داری اس کی ہوتی۔ کھانا پکانا، برتن دھونا اور سارا سامان ڈھونا گھر سے گاڑی، گاڑی سے کیمپ تک اور واپس گھر تک۔

فیملی ٹرپ ہوتا، ساتھ ہمارے دوست بھی شامل ہوتے تب بھی سارے کام خود کرتا اپنے شوق سے اور اپنی ذمہ داری پر۔ ہمارے ایک دوست کی بیگم کے بقول انہیں اپنے میاں سے زیادہ شہزاد پر بھروسہ تھا کہ شہزاد کی موجودگی میں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔

تیرے باجوں وے میں ۔ ۔ ۔

ویسے تو اللہ کا شکر ہے کہ میں نے فیملی کے ساتھ بچپن ہی سے بہت تفریح کی ہے، ہر وہ جگہ جہاں ہم اپنے دستیاب وسائل کے ساتھ پہنچ سکتے تھے ہم نے نہیں چھوڑی۔ لیکن میری انفرادی سیر و تفریح کی شروعات 2010 سے شروع ہوئی۔ جب مجھے اسکالر شپ پر تین سال کے لیے مصر جانے کا موقع ملا۔

نیا ملک، نئی زبان، الگ تہذیب، بھانت بھانت کے لوگ۔ وہاں نہ ابا تھے نہ بھائی کہ آرڈر جاری کردو، دفتر سے واپسی پر مطلوبہ شے سامنے ٹیبل پر رکھی ملے گی۔ سب کچھ خود ہی کرنا تھا، حقیقت میں آٹے اور دال کا ہی نہیں آلو، پیاز، ہری مرچ، ٹماٹر کا صرف بھاو ہی نہیں معلوم ہوا اچھے برے کی بھی پہچان ہوگئی۔ روز ایک نیا تجربہ، روز ایک نئی دریافت۔ صرف یہی نہیں، انجان سڑکوں اور شہر میں تفریح بھی خود ہی کرنی تھی۔کب تک ہانٹڈ ہوسٹل میں بیٹھے رہتے۔ لہذہ چار زبانیں بولنے والی چار لڑکیاں کبھی مل کر کہیں چل دیتیں ، کبھی کہیں۔ صرف قاہرہ میں ہی نہیں ، کبھی مل کر الیکزینڈریا چلے جاتے، کبھی لکسر اور اسوان

Sunday, May 3, 2026

من کہ ایک فالور ہوں

ونس اپون زمانہ قبل ا ز ٹائم ایک اخبار ہوتا تھا یا پھر ٹی وی جس سے ہر قسم کی خبریں اور اینٹر ٹینمنٹ عوام تک پہنچتی تھی۔  اور ان دونوں فورمز پر نظر آنے والے، لکھنے والے، بولنے والے ، اداکاری کرنے والے اور فنکاریاں کرنے والے تمام لوگ عوام کی نظر میں سلیبرٹی ہوتے تھے ۔ جن تک پہنچنا، اپنے رائے پہنچانا ایک کار عظیم ہوا کرتا تھا۔ [دیگرفورمزبھی ہوتے تھے جیسے سینما لیکن وہ اتنے ارزاں اور ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتے تھے اور ریڈیو کی اس دور تک وہ اہمیت نہیں رہی تھی جس دور کی ہم بات کررہے ہیں۔ زمانہ انیس سو پتھر میں تو ریڈیو کے صدا کار بھی سلیبرٹی اسٹے ٹس انجوائے کیا کرتے تھے]