Monday, June 15, 2026

انکم ٹیکس کے غیر روایتی ذرایع

لوکل گورنمنٹ کے لیے کچھ انکم جنریٹنگ تجاویز

ایک بار پھر الیکشن قریب آرہا ہے اور پھر سے ہر طرف بینرز، ہورڈنگز سیاسی نعروں سے مزین نظر آئیں گے اور ہر پارٹی کے پرچم اور سیاستدان کھمبوں پر ٹنگے نظر آئیں گے ۔الیکشن گزر جائیں گے لیکن یہ اشتہار، پرچم اور سیاستدان ایسے ہی کھممبوں پر ٹنگے رہیں گے ، ان کے چہرے دھویں سے سیاہ پڑتے جائیں گے، کچھ ہوا ، دھول مٹی اور اگر بارش ہوگئی تو بھیگ کر اور بھی قابل رحم بلکہ بدنما ہوجائیں گے اور ساتھ ساتھ شہر کو بھی بدنما بنائیں گے ۔

 پچھلے لوکل باڈیز کے الیکشنز میں لگائے گئے بینرز اورکھمبوں پر لٹکائے گئے سیاست دان ابھی تک وہیں لٹکے ہوئے ہیں، گندے ، میلے، لیر لیر  ادھر ادھر جھول رہے ہوتے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ بڑے ہورڈنگز تو کمرشل کمپنیوں کی ملکیت ہیں وہ ان پہ اشتہار لگانے کے پیسے بھی لیتی ہیں اور مقررہ مدت کے بعد اشتہار اتار بھی دیتی ہیں کیونکہ انہیں کسی اور کا اشتہار لگا کر اس سے پیسے وصول کرنے ہوتے ہیں تاہم دیواروں، چوک، چورنگیوں، کھمبوں پر لٹکے یہ لیرے شہر کی بدصورتی میں چار کیا چالیس چاند لگائے ہوتے ہیں۔

Saturday, June 13, 2026

ناسٹیلجیا 2

امی کو اون سلائیاں چلانی آتی تھیں۔ لیکن کبھی میں نے انہیں کسی کامکمل سوئیٹر بناتے نہیں دیکھا تھا۔ پھر چچی شادی ہوکر آئیں۔ انہیں پہلی بار پورا سوئیٹر بناتے دیکھ کر ہماری پوری گلی کی خواتین کو جیسے سوئیٹر بننے کا بخار ہوگیا، وہی جسے آج کل وائرل کہتے ہیں تو پوری گلی کی خواتین میں سوئیٹر بننے کا شوق وائرل ہوگیا۔ امی، چچی، حسینہ باجی اور ایک نئی محلے دار لڑکی شکیلہ۔ نئی اس لیے کہ وہ لوگ تازہ تازہ محلے میں وارد ہوئے تھے۔یہ چاروں فارغ وقت میں کسی نہ کسی کا سوئیٹر بنا کرتے، جب چاروں کاموں سے فارغ ہوجاتیں تو کسی نہ کسی کے دروازے کے باہر بنے تھڑے پر دھوپ سینکتے، غیبت میٹنگ کرتے ساتھ ساتھ سوئیٹر بھی بنتی جاتیں۔

ان کی دیکھا دیکھی ہمیں بھی شوق چڑھا۔ پہلے تو جھاڑو کے تنکوں سے سلائیاں بنا کر سوئیٹر بننا شروع کیا۔ پھر پتا نہیں کہاں سے دو عدد پرانی سلائیاں مل گئیں۔ نئی سلائیاں پورے پانچ روپے کی آتی تھیں اور بچوں کو بھلا کاہے کو نئی سلائیاں دلانے پر پانچ روپے ضایع کیے جاتے ۔ خیر یونہی کھیل کھیل میں سوئیٹر بننا سیکھ لیا۔ پہلے اپنی گڑیا کا سوئیٹر بنا۔ چھوٹا سا ۔ پیچھے کا حصہ، پھر آگے کے دو حصے۔ آستینیں، پھر انہیں جوڑ کر ٹچ بٹن لگا کر گڑیا کو پہنایا۔ یہ بہت بڑی اچیومنٹ تھی۔

Friday, June 12, 2026

ہمارے فیورٹ ٹاپ ٹین بالی ووڈ آئٹم سونگز


ناظرین، حاضرین، غائبین، و مشاہدین الکرام

آج پیش ہیں ہمارے فیورٹ گندے گندے گانے یعن دیکھنے میں گندے لیکن سننے میں پسندیدہ گانے

وارننگ : پوسٹ پڑھ لیں لیکن یوٹیوب سرچ اپنے رسک پر کریں، اماں باوہ یا بچوں نے پکڑ لیا گانے دیکھتے تودھنائی ہونے پر ادارہ ذمہ دار نہ ہوگا۔

توناظرین آج باری ہے گندے والے پسندیدہ گانوں کی۔ دیکھیں بھئی ، ہم یہ گانے صرف سنتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں۔ اب ان گانوں کی دھنیں ہیں ہی چٹخارےدار تو بندہ کیسے نہ کھنچاکھنچا جائے ان کی طرف مطلب بندے کے کان۔ تو پیش ہیں مسالے دار گانے ۔ آئٹم سانگ کا اس سے بہتر اردو مترادف ہمیں نہیں مل سکا۔

Thursday, June 4, 2026

کتے بلی کے بچے

کل اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری۔ اندرونی صفحات میں سوشل میڈیا پر وائرل کسی ویڈیو کے حوالے سے خبر تھی جس میں ایک باپ اپنے تین سالہ بچے کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مار رہا ہے جس پر عوامی رد عمل کی اطلاع تھی۔ ایسی خبریں پڑھ کر اور ایسے واقعات دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ اکثر خیال آتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں پر کیسے ہاتھ اٹھا لیتےہیں۔ مجھ سےتو اپنے بھتیجا بھتیجی پر ہاتھ نہیں اٹھتا کبھی۔ ایک آدھ تھپڑ بھی نہیں، کجا کہ مارنا اور ایسے اذیتناک طریقے سے مارتے چلے جان۔ وہ بھی تین سالہ بچے کو، ایک تین سالہ بچہ ایسا کیا گناہ یا جرم کرسکتا ہے بھلا کہ اسے ایسے مارا جائے۔

Wednesday, June 3, 2026

A Weekend Well Spent

سائیکلنگ سے متعلق دو بہترین موویز 

بائکنگ بارڈرز

دو جرمن نوجوانوں, میکس اور نونو، کا جرمنی سے بیجنگ تک سائیکلنگ ایڈونچر جس کامقصد گوئٹے مالا میں غریب بچوں کے لیے اسکول بنانے کے لیے فنڈز جمع کرنا تھا۔نو ماہ پر مشتمل جرمنی سے 15000 کلومیٹر سائکل کا سفر جس میں ہیں سڑکیں، میدان، ریگزار، برفزار، پہاڑ، مختلف ثقافتیں، تہذیبیں، اقوام ، گرمی، سردی، بارش، طوفان اور پتا نہیں کیا کیا ، بے حد خوبصورت سفر اور مووی ہے۔

Monday, June 1, 2026

ہوم سولر انرجی پراجیکٹ

یہ آرٹیکل ہمارے مرحوم دوست دانش احسن لوہار المعروف از دانست نے 2022 میں شمسی توانائی سے بجلی کے حصول کے سلسلے میں لکھا تھا ۔  لہذہ اس میں دیا گیا  تخمینہ  اس وقت کی قیمتوں کے حساب سے ہے۔
-------------------------------------------------
آجکل ملک کے جو حالات چل رہے ہیں، ایک تو شدید گرمی، ہیٹ ویو، دوسری جانب لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ جو پہلے کے مقابل بڑھ گیا ہے۔ اسی مسئلے کو لے کر ایک بات زیر غور آئی کہ جو لوگ ایسے گھر میں رہتے ہیں جہاں انہیں چھت میسر ہے تو وہ سولر پینل کیوں نہیں لگاتے؟ متبادل توانائی اس وقت ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

ایک متوسط گھرانے کے لئے میرا ذاتی تجربہ ہے کہ 2 سے 3 کلوواٹ کا سولر پینل کافی ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سولر کی کوسٹ بہت زیادہ ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بات غلط بھی نہیں۔ ایک مڈل کلاس گھر کے لئے چار سے پانچ لاکھ روپے لگانا آسان بات نہیں۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی چیز جب آپ خریدنے جائیں تو صرف کوسٹ ہی فیکٹر نہیں ہوتا بلکہ اس کے فوائد بھی معنی رکھتے ہیں۔

اسے ہم cost benefit analysis کہتے ہیں۔ اگر ایک چیز کی قیمت زیادہ ہے تو آپ نے اس کے فوائد کا قیمت سے موازنہ کرنا ہے، pros & cons دیکھنے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پہ سولر پاور کے فوائد قیمت سے زیادہ لگے۔

Friday, May 29, 2026

ایوولیوشن

 یا شاید ڈیوولیوشن، کنفرم نہیں ہے، لیکن ،،

ایک زمانہ تھا میں ہر ایشو پہ بحث کرتی رہتی تھی۔ اورہر ایک سے، اس وقت حب الوطنی کا کیڑا بھی بہت بے چین رہتا تھا اور ایمان کا بھی۔  مجھے لگتا تھا کہ اگر کسی بات کا جواب نہ دیا تو یہ تو میری ہار ہوگئی گویا کوئی بہت ہی شرمندگی والی بات ہوگئی۔ یا کسی موضوع پر اظہار خیال نہ کیا تو کوئی انقلاب آتے آتے کہیں رک نہ جائے۔ کبھی غور نہیں کیا لیکن کافی لوگوں کی دل آزاری کی ہوگی یا غصہ دلانے کا سبب بنی ہونگی۔