میری دفتری ذمہ داریوں میں پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ کوآرڈینیٹ کرنا بھی شامل ہے۔ جن میں پرائیوٹ میڈیکل پریکٹشنرز/پرائیوٹ کلینکس،، نجی میٹرنٹی ہومز، پرائیوٹ میڈیکل نیٹ ورکس جیسے آغا خان ہیلتھ سروسز یا انڈس ہیلتھ اینڈ ہاسپٹلز نیٹ ورک، ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کے ساتھ فیملی پلاننگ کی خدمات فراہم کرنے /کراوانے اور اس ضمن میں ان کی ٹریننگ، فیملی پلاننگ کی اشیاء / کموڈیٹیز کی مفت فراہمی ، ان کی مانیٹرنگ اور سپروائزنگ اور ان سے مختلف اقسام کی ماہانہ، سہ ماہی ، شش ماہی ، سالانہ رپورٹس لینا شامل ہے۔ اس کے لیے ہم ان تمام پرائیوٹ اداروں اور تنظیموں سے میمورینڈم آف انڈر اسٹینڈنگ سائن کرتے ہیں۔
Out Spoken
ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے / بے سبب ہوا غالب دشمن آسمان اپنا
Friday, July 10, 2026
Friday, July 3, 2026
شیطان یا جراثیم
بہت ساری ایسی حدیثیں ہیں جن میں شیطان یا جنوں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی ان کے نقصان سے بچنے کے لیے طریقے بتائے گئے ہیں ۔ میری ناقص رائے میں دراصل 1400 سال پہلے اس دور کے انسانوں کی معلومات، ادراک اور ذہنی سطح کے مطابق ان سے بات کی گئی تھی۔ ان کو جدید سائنس کے مطابق پرکھیں تو وہ فائدہ مند ہیں لیکن نقصان کا باعث شیطان یا جن نہیں بلکہ کچھ اور عوامل ہیں جن سے وہ احادیث بچاتی ہیں۔
PC: Safegaurd
Monday, June 29, 2026
شکیل: ایک ادنیٰ ٹریبیوٹ
شکیل کے انتقال کے موقع پر لکھی گئی ایک تحریر
پی ٹی وی کے اولین ہیروز اور بہترین اداکاروں میں سے ایک اداکار شکیل بھی آج سدھارگئے۔ اگرمیں اپنی ٹیلی وژن کی اولین یادداشتیں کھنگالوں تو افشاں ڈرامہ یاد آتا ہے، ڈرامہ کیا ہے اداکاروں کی ایک پوری کہکشاںہے ۔ شاید افشاں ڈرامے میں پی ٹی وی کراچی سینٹر کے تمام ہی نمایاں فنکاروں اور فنکاراوں نے کام کیا تھا۔ بشمول شکیل۔ جس کے کردار کے ارد گرد پوری کہانی بنی ہوئی تھی۔ بلاشبہ وہ ایک خوبصورت انسان، وجیہہ شخصیت، اور ورسٹائل اداکارتھے۔
Sunday, June 28, 2026
اسٹینڈ اپ گرل
بہت عرصے کے بعد ایک ایسا ڈرامہ دیکھا ہے جس سے پی ٹی وی کے ڈراموں کی چس آگئی ۔ ڈرامے کا موضوع ہے پاکستان میں اسٹیج/ اسٹینڈ اپ کامیڈی کا ماضی ، حال اور مستقبل۔ ماضی اس طرح کہ پرانے اسٹینڈ اپ کامیڈین یا ون مین شو کرنے والے فنکار کون تھے، کیا تھے ان کی اچھی اور بری خصوصیات کیا تھیں، ان کے موضوعات کیا تھے اور اب وہ کس کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ساری عمر فن کی خدمت کرنے کے باوجود اب بھی تھئیٹر فنکار خصوصاً تھئیٹر کامیڈین کو بھانڈ ہی سمجھا جاتا ہے اور خواتین کے لیے اب بھی اسٹیج پر اداکاری یا کامیڈی کرنا عزت دار پروفیشن نہیں سمجھا جاتا۔ اور یہ کہ موجودہ اسٹینڈ اپ کامیڈی کس طرح پرانی اسٹیج کامیڈی سے مختلف ہے ۔
Labels:
Behavior,
Bereavement,
Drama,
Gen Alpha,
Performing ARts,
PTV
Monday, June 22, 2026
دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے
یوں تو ہم بڑے بلاگر بنتے ہیں اپنے تئیں۔ اپنی طرف سے فلموں کے بارے کچھ ریو ویو ٹائپ بھی لکھتےہیں لیکن جیسے بہت زیادہ خوشی میں آپ ہنسنے کے بجائے آنسو بہانا شروع کردیتےہیں ویسے ہی جب کوئی مووی حد سے زیادہ دل چھو جائے تو لکھنے لکھانے کی ساری مہارتیں ادھر پڑی ہوتی ہیں تو الفاظ کی پٹاری ادھر اور ہم کچھ بھی لکھنے کے لائق نہیں ہوتے۔
Labels:
Adventure,
Cycling,
Gender,
Movie Review,
Society,
Tourism,
Travelogue,
Values
Friday, June 19, 2026
میرا گھر میری مرضی
آج میں نے اپنے گھر میں اپنی مرضی اور عادت کے مطابق دن گزارا۔ صبح ساڑھے سات بجے اٹھی، آٹھ بجے ناشتہ، دس بجے سارا کام ختم کرکے کھانا پکانا شروع کیا بارہ بجے کھانا تیار تھا۔[ یہ وہ وقت ہے جس وقت ہمارے بچے اور ان کی اماں جان چھٹی کے دن ناشتہ کرکے فارغ ہوتے ہیں۔ ] لنچ کے بعد ایک دوست کی بیٹی کے لیے فراک سیا، پھر سوگئی۔ مغرب کے وقت اٹھی۔ چھت پر ابا اور بہن کے ساتھ پوری شام ٹھنڈی ہوائیں انجوائے کیں۔ رات کا کھانا کھایا اور اب برتن وغیرہ سے فارغ ہوکر سونے کی تیاری ہے۔
Monday, June 15, 2026
انکم ٹیکس کے غیر روایتی ذرایع
لوکل گورنمنٹ کے لیے کچھ انکم جنریٹنگ تجاویز
ایک بار پھر الیکشن قریب آرہا ہے اور پھر سے ہر طرف بینرز، ہورڈنگز سیاسی نعروں سے مزین نظر آئیں گے اور ہر پارٹی کے پرچم اور سیاستدان کھمبوں پر ٹنگے نظر آئیں گے ۔الیکشن گزر جائیں گے لیکن یہ اشتہار، پرچم اور سیاستدان ایسے ہی کھممبوں پر ٹنگے رہیں گے ، ان کے چہرے دھویں سے سیاہ پڑتے جائیں گے، کچھ ہوا ، دھول مٹی اور اگر بارش ہوگئی تو بھیگ کر اور بھی قابل رحم بلکہ بدنما ہوجائیں گے اور ساتھ ساتھ شہر کو بھی بدنما بنائیں گے ۔
پچھلے لوکل باڈیز کے الیکشنز میں لگائے گئے بینرز اورکھمبوں پر لٹکائے گئے سیاست دان ابھی تک وہیں لٹکے ہوئے ہیں، گندے ، میلے، لیر لیر ادھر ادھر جھول رہے ہوتے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ بڑے ہورڈنگز تو کمرشل کمپنیوں کی ملکیت ہیں وہ ان پہ اشتہار لگانے کے پیسے بھی لیتی ہیں اور مقررہ مدت کے بعد اشتہار اتار بھی دیتی ہیں کیونکہ انہیں کسی اور کا اشتہار لگا کر اس سے پیسے وصول کرنے ہوتے ہیں تاہم دیواروں، چوک، چورنگیوں، کھمبوں پر لٹکے یہ لیرے شہر کی بدصورتی میں چار کیا چالیس چاند لگائے ہوتے ہیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)