آج میں نے اپنے گھر میں اپنی مرضی اور عادت کے مطابق دن گزارا۔ صبح ساڑھے سات بجے اٹھی، آٹھ بجے ناشتہ، دس بجے سارا کام ختم کرکے کھانا پکانا شروع کیا بارہ بجے کھانا تیار تھا۔[ یہ وہ وقت ہے جس وقت ہمارے بچے اور ان کی اماں جان چھٹی کے دن ناشتہ کرکے فارغ ہوتے ہیں۔ ] لنچ کے بعد ایک دوست کی بیٹی کے لیے فراک سیا، پھر سوگئی۔ مغرب کے وقت اٹھی۔ چھت پر ابا اور بہن کے ساتھ پوری شام ٹھنڈی ہوائیں انجوائے کیں۔ رات کا کھانا کھایا اور اب برتن وغیرہ سے فارغ ہوکر سونے کی تیاری ہے۔
Friday, June 19, 2026
Monday, June 15, 2026
انکم ٹیکس کے غیر روایتی ذرایع
لوکل گورنمنٹ کے لیے کچھ انکم جنریٹنگ تجاویز
ایک بار پھر الیکشن قریب آرہا ہے اور پھر سے ہر طرف بینرز، ہورڈنگز سیاسی نعروں سے مزین نظر آئیں گے اور ہر پارٹی کے پرچم اور سیاستدان کھمبوں پر ٹنگے نظر آئیں گے ۔الیکشن گزر جائیں گے لیکن یہ اشتہار، پرچم اور سیاستدان ایسے ہی کھممبوں پر ٹنگے رہیں گے ، ان کے چہرے دھویں سے سیاہ پڑتے جائیں گے، کچھ ہوا ، دھول مٹی اور اگر بارش ہوگئی تو بھیگ کر اور بھی قابل رحم بلکہ بدنما ہوجائیں گے اور ساتھ ساتھ شہر کو بھی بدنما بنائیں گے ۔
پچھلے لوکل باڈیز کے الیکشنز میں لگائے گئے بینرز اورکھمبوں پر لٹکائے گئے سیاست دان ابھی تک وہیں لٹکے ہوئے ہیں، گندے ، میلے، لیر لیر ادھر ادھر جھول رہے ہوتے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ بڑے ہورڈنگز تو کمرشل کمپنیوں کی ملکیت ہیں وہ ان پہ اشتہار لگانے کے پیسے بھی لیتی ہیں اور مقررہ مدت کے بعد اشتہار اتار بھی دیتی ہیں کیونکہ انہیں کسی اور کا اشتہار لگا کر اس سے پیسے وصول کرنے ہوتے ہیں تاہم دیواروں، چوک، چورنگیوں، کھمبوں پر لٹکے یہ لیرے شہر کی بدصورتی میں چار کیا چالیس چاند لگائے ہوتے ہیں۔
Saturday, June 13, 2026
ناسٹیلجیا 2
امی کو اون سلائیاں چلانی آتی تھیں۔ لیکن کبھی میں نے انہیں کسی کامکمل سوئیٹر بناتے نہیں دیکھا تھا۔ پھر چچی شادی ہوکر آئیں۔ انہیں پہلی بار پورا سوئیٹر بناتے دیکھ کر ہماری پوری گلی کی خواتین کو جیسے سوئیٹر بننے کا بخار ہوگیا، وہی جسے آج کل وائرل کہتے ہیں تو پوری گلی کی خواتین میں سوئیٹر بننے کا شوق وائرل ہوگیا۔ امی، چچی، حسینہ باجی اور ایک نئی محلے دار لڑکی شکیلہ۔ نئی اس لیے کہ وہ لوگ تازہ تازہ محلے میں وارد ہوئے تھے۔یہ چاروں فارغ وقت میں کسی نہ کسی کا سوئیٹر بنا کرتے، جب چاروں کاموں سے فارغ ہوجاتیں تو کسی نہ کسی کے دروازے کے باہر بنے تھڑے پر دھوپ سینکتے، غیبت میٹنگ کرتے ساتھ ساتھ سوئیٹر بھی بنتی جاتیں۔
ان کی دیکھا دیکھی ہمیں بھی شوق چڑھا۔ پہلے تو جھاڑو کے تنکوں سے سلائیاں بنا کر سوئیٹر بننا شروع کیا۔ پھر پتا نہیں کہاں سے دو عدد پرانی سلائیاں مل گئیں۔ نئی سلائیاں پورے پانچ روپے کی آتی تھیں اور بچوں کو بھلا کاہے کو نئی سلائیاں دلانے پر پانچ روپے ضایع کیے جاتے ۔ خیر یونہی کھیل کھیل میں سوئیٹر بننا سیکھ لیا۔ پہلے اپنی گڑیا کا سوئیٹر بنا۔ چھوٹا سا ۔ پیچھے کا حصہ، پھر آگے کے دو حصے۔ آستینیں، پھر انہیں جوڑ کر ٹچ بٹن لگا کر گڑیا کو پہنایا۔ یہ بہت بڑی اچیومنٹ تھی۔
Friday, June 12, 2026
ہمارے فیورٹ ٹاپ ٹین بالی ووڈ آئٹم سونگز
ناظرین، حاضرین، غائبین، و مشاہدین الکرام
آج پیش ہیں ہمارے فیورٹ گندے گندے گانے یعن دیکھنے میں گندے لیکن سننے میں پسندیدہ گانے
وارننگ : پوسٹ پڑھ لیں لیکن یوٹیوب سرچ اپنے رسک پر کریں، اماں باوہ یا بچوں نے پکڑ لیا گانے دیکھتے تودھنائی ہونے پر ادارہ ذمہ دار نہ ہوگا۔
توناظرین آج باری ہے گندے والے پسندیدہ گانوں کی۔ دیکھیں بھئی ، ہم یہ گانے صرف سنتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں۔ اب ان گانوں کی دھنیں ہیں ہی چٹخارےدار تو بندہ کیسے نہ کھنچاکھنچا جائے ان کی طرف مطلب بندے کے کان۔ تو پیش ہیں مسالے دار گانے ۔ آئٹم سانگ کا اس سے بہتر اردو مترادف ہمیں نہیں مل سکا۔
Thursday, June 4, 2026
کتے بلی کے بچے
کل اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری۔ اندرونی صفحات میں سوشل میڈیا پر وائرل کسی ویڈیو کے حوالے سے خبر تھی جس میں ایک باپ اپنے تین سالہ بچے کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مار رہا ہے جس پر عوامی رد عمل کی اطلاع تھی۔ ایسی خبریں پڑھ کر اور ایسے واقعات دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ اکثر خیال آتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں پر کیسے ہاتھ اٹھا لیتےہیں۔ مجھ سےتو اپنے بھتیجا بھتیجی پر ہاتھ نہیں اٹھتا کبھی۔ ایک آدھ تھپڑ بھی نہیں، کجا کہ مارنا اور ایسے اذیتناک طریقے سے مارتے چلے جان۔ وہ بھی تین سالہ بچے کو، ایک تین سالہ بچہ ایسا کیا گناہ یا جرم کرسکتا ہے بھلا کہ اسے ایسے مارا جائے۔
Wednesday, June 3, 2026
A Weekend Well Spent
سائیکلنگ سے متعلق دو بہترین موویز
بائکنگ بارڈرز
دو جرمن نوجوانوں, میکس اور نونو، کا جرمنی سے بیجنگ تک سائیکلنگ ایڈونچر جس کامقصد گوئٹے مالا میں غریب بچوں کے لیے اسکول بنانے کے لیے فنڈز جمع کرنا تھا۔نو ماہ پر مشتمل جرمنی سے 15000 کلومیٹر سائکل کا سفر جس میں ہیں سڑکیں، میدان، ریگزار، برفزار، پہاڑ، مختلف ثقافتیں، تہذیبیں، اقوام ، گرمی، سردی، بارش، طوفان اور پتا نہیں کیا کیا ، بے حد خوبصورت سفر اور مووی ہے۔
Labels:
Adventure,
Cycling,
Movie Review,
Tourism,
Travelogue
Monday, June 1, 2026
ہوم سولر انرجی پراجیکٹ
یہ آرٹیکل ہمارے مرحوم دوست دانش احسن لوہار المعروف از دانست نے 2022 میں شمسی توانائی سے بجلی کے حصول کے سلسلے میں لکھا تھا ۔ لہذہ اس میں دیا گیا تخمینہ اس وقت کی قیمتوں کے حساب سے ہے۔
-------------------------------------------------
آجکل ملک کے جو حالات چل رہے ہیں، ایک تو شدید گرمی، ہیٹ ویو، دوسری جانب لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ جو پہلے کے مقابل بڑھ گیا ہے۔ اسی مسئلے کو لے کر ایک بات زیر غور آئی کہ جو لوگ ایسے گھر میں رہتے ہیں جہاں انہیں چھت میسر ہے تو وہ سولر پینل کیوں نہیں لگاتے؟ متبادل توانائی اس وقت ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک متوسط گھرانے کے لئے میرا ذاتی تجربہ ہے کہ 2 سے 3 کلوواٹ کا سولر پینل کافی ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سولر کی کوسٹ بہت زیادہ ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بات غلط بھی نہیں۔ ایک مڈل کلاس گھر کے لئے چار سے پانچ لاکھ روپے لگانا آسان بات نہیں۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی چیز جب آپ خریدنے جائیں تو صرف کوسٹ ہی فیکٹر نہیں ہوتا بلکہ اس کے فوائد بھی معنی رکھتے ہیں۔
اسے ہم cost benefit analysis کہتے ہیں۔ اگر ایک چیز کی قیمت زیادہ ہے تو آپ نے اس کے فوائد کا قیمت سے موازنہ کرنا ہے، pros & cons دیکھنے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پہ سولر پاور کے فوائد قیمت سے زیادہ لگے۔
Friday, May 29, 2026
ایوولیوشن
یا شاید ڈیوولیوشن، کنفرم نہیں ہے، لیکن ،،
ایک زمانہ تھا میں ہر ایشو پہ بحث کرتی رہتی تھی۔ اورہر ایک سے، اس وقت حب الوطنی کا کیڑا بھی بہت بے چین رہتا تھا اور ایمان کا بھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اگر کسی بات کا جواب نہ دیا تو یہ تو میری ہار ہوگئی گویا کوئی بہت ہی شرمندگی والی بات ہوگئی۔ یا کسی موضوع پر اظہار خیال نہ کیا تو کوئی انقلاب آتے آتے کہیں رک نہ جائے۔ کبھی غور نہیں کیا لیکن کافی لوگوں کی دل آزاری کی ہوگی یا غصہ دلانے کا سبب بنی ہونگی۔
Labels:
Abstract,
Behavior,
Biograph,
Common Sense
Sunday, May 24, 2026
ورک پلیس ہراسمنٹ سے متعلق چند اہم باتیں
باعثِ تحریر
اس تحریر کا باعث بننے والا بی بی سی اردو کا مضمون اس لنک پرموجود ہے:
اس پورے واقعے سے خواتین کو کچھ باتیں نوٹ کرنا چاہئیں کہ کسی مرد کی کوئی غلط بات خواہ مذاق میں ہی کیوں نہ کہی گئی ہو اسے اسی وقت غلط کہنا چاہیے اور اس پر آواز اٹھانی چاہیے خواہ پہلی بار ہو، دوسری یا تیسری اور ایسے آّواز اٹھانی چاہیے کہ دو چار لوگ اسے نوٹ کریں۔
Friday, May 22, 2026
ہیلن | ناٹ سو آئٹم گرل
مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آسکی کہ ہیلن کو آئٹم گرل کے طور پر کیوں ضایع کیا گیا۔ آپ نے اکثر و بیشتر ہیلن کے رنگین اور ننگے پنگے گانے ہی دیکھیں ہونگے۔ لباس ایسا کہ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔ وی سی آر کے زمانوں میں جب سارا محلہ ایک ساتھ بیٹھ کر ڈان، شعلے اور اسی قسم کی مووی دیکھا کرتا تھا، اور چاچا، خالہ، گڈو، پپو، بےبی، منا،، ان آئٹم سانگز کو دیکھتے ہوئےسب ایک دوسرے سے نظر کا پردہ فرما لیا کرتے تھے، ہیلن کے ہر اسٹیپ پر جیا دھڑک دھڑک جاتا تھا کہ ہائے بس اب چلمن اٹھنے کو ہے۔ لیکن ، ، ، ،
Labels:
Music
Friday, May 15, 2026
ڈائجسٹوں میں ادبی شہہ پارے
ونس اپون اے لانگ لانگ ٹائم بلکہ زمانہ قبل از ٹائم جب ہم کتابیں خریدنا افورڈ نہیں کرسکتے تھے تو ڈائجسٹوں میں رومانچک ناولز اور افسانے پڑھا کرتے تھے وہ بھی کباڑی سے خرید کر یا دوسروں سے مانگ کر۔ ڈائجسٹوں میں موضوع کی کوئی قید نہیں تھی پاکیزہ سے سسپنس تک اور شعاع سے نئے افق، جاسوسی اور سیارہ ڈائجسٹ، اردو ڈائجسٹ جو مل جائے اسے چاٹ لینا بلکہ رٹ لینا فرض ہوتا تھا۔
Wednesday, May 13, 2026
سالگرہ : کلاسک پاکستانی مووی
گزشتہ ویک اینڈ پاکستان کی سنہری موویز میں سے ایک سالگرہ دیکھی۔ بہت بچپن میں ٹی وی پر دیکھی تھی اور بس یہی یاد تھا کہ ایک پیاری سی لڑکی ایک محفل میں بہت دکھی سا گانا گار رہی تھی۔ اور کچھ یاد نہیں تھا۔
دوبارہ دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔گویا ایک نئی نکور مووی دیکھی ہو۔ شمیم آرا سانولی سلونی ہونے کے باوجود کس قدر خوبصورت تھیں کہ ان کا حسن بلیک اینڈ وائٹ مووی میں بھی ناقابل فراموش ہے۔ اور وحید مراد کی نوجوانی 



اب اتنی موویز دیکھ لی ہیں کہ ہر مووی کی کہانی، سچویشنز اور ڈائلاگز پریڈیکٹنگ لگنے لگے ہیں، ورنہ کہانی میں تجسس بھی ہے، رومینس بھی، ایکشن بھی اور میلو ڈرامہ بھی۔ ڈائلاگز بھی اچھے ہیں خاص طور پر طارق عزیز کے جنہوں نے شمیم آرا کے والد اور جج صاحب کا رول بہت عمدگی سے نبھایا ہے۔
Labels:
Movie Review,
Music,
Pakistan
Friday, May 8, 2026
قرار لوٹنے والے ~~
انتقامی فلمی گیتوں پر ایک تبصرہ
خدا کرے تجھے آدھی چھٹانک گھی نہ ملے
تیری پکی ہوئی ہانڈی بگھار کو ترسے
ایسے ہی پرانے گانے سنتے سنتے خیال آیا کہ فلمی گیتوں کی ایک فارم انتقامی گانوں کی بھی ہے ۔ گو کہ فلموں میں زیادہ تر رومینٹک گانے ہوتے ہیں، آئٹم سانگ ہوتےہیں یا پھر دکھی پریم نگری لیکن کبھی کبھی ہیرو یا ہیروئن انتقام پر بھی تو اتر آتےہیں، زیادہ تر ہیرو جیسے کہ
جس نے میرے دل کو درد دیا
اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں
علاوالدین اور مہدی حسن کا حسین کامبی نیشن فلم سسرال کا گانا ۔ "گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے " کے بعد ایک اور بہترین گانا جس میں علاوالدین اداکاری اور مہدی حسن گلوکاری کے عروج پر نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ گانا ہمیں مہدی حسن سے زیادہ سجاد علی کی آواز میں پسند ہے، کیونکہ پہلی بار سجاد علی کی آواز میں سنا تھا اوراس نے اتنا جم کر گا یا ہے کہ بس سواد آجائے۔ مکتوب الیہ تو آواز کی ٹون سن کر ہی پتلی گلی سے نکل لے۔
Labels:
Culture,
Ethics & Values,
Music
Tuesday, May 5, 2026
تھینکیو ایوری ون
شہزاد کے بعد پہلا روڈ ٹرپ
شہزاد کی زندگی میں بہت لوگ ہمارے ساتھ ٹرپس پر جانا چاہتے تھے، اوربہت سے لوگ جاتے بھی تھے، ابا کے دوست، اس کے اپنے دوست اور ہمارے دوست بھی۔ وہ سیر و تفریح کا شوقین اور انتہا کا محنتی تھا۔ ٹرپ چاہے ابا کے دوستوں کا ہی ہوتا وہ اس میں شامل نہ بھی ہوتا تب بھی پورے دو دن سامان اکھٹا کرنے اور واپس ٹھکانے لگانے میں لگاتا۔ جب وہ بھی ساتھ جاتا تو ٹرپ کی ساری ذمہ داری اس کی ہوتی۔ کھانا پکانا، برتن دھونا اور سارا سامان ڈھونا گھر سے گاڑی، گاڑی سے کیمپ تک اور واپس گھر تک۔
فیملی ٹرپ ہوتا، ساتھ ہمارے دوست بھی شامل ہوتے تب بھی سارے کام خود کرتا اپنے شوق سے اور اپنی ذمہ داری پر۔ ہمارے ایک دوست کی بیگم کے بقول انہیں اپنے میاں سے زیادہ شہزاد پر بھروسہ تھا کہ شہزاد کی موجودگی میں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔
تیرے باجوں وے میں ۔ ۔ ۔
ویسے تو اللہ کا شکر ہے کہ میں نے فیملی کے ساتھ بچپن ہی سے بہت تفریح کی ہے، ہر وہ جگہ جہاں ہم اپنے دستیاب وسائل کے ساتھ پہنچ سکتے تھے ہم نے نہیں چھوڑی۔ لیکن میری انفرادی سیر و تفریح کی شروعات 2010 سے شروع ہوئی۔ جب مجھے اسکالر شپ پر تین سال کے لیے مصر جانے کا موقع ملا۔
نیا ملک، نئی زبان، الگ تہذیب، بھانت بھانت کے لوگ۔ وہاں نہ ابا تھے نہ بھائی کہ آرڈر جاری کردو، دفتر سے واپسی پر مطلوبہ شے سامنے ٹیبل پر رکھی ملے گی۔ سب کچھ خود ہی کرنا تھا، حقیقت میں آٹے اور دال کا ہی نہیں آلو، پیاز، ہری مرچ، ٹماٹر کا صرف بھاو ہی نہیں معلوم ہوا اچھے برے کی بھی پہچان ہوگئی۔ روز ایک نیا تجربہ، روز ایک نئی دریافت۔ صرف یہی نہیں، انجان سڑکوں اور شہر میں تفریح بھی خود ہی کرنی تھی۔کب تک ہانٹڈ ہوسٹل میں بیٹھے رہتے۔ لہذہ چار زبانیں بولنے والی چار لڑکیاں کبھی مل کر کہیں چل دیتیں ، کبھی کہیں۔ صرف قاہرہ میں ہی نہیں ، کبھی مل کر الیکزینڈریا چلے جاتے، کبھی لکسر اور اسوان
Labels:
Bereavement,
Biograph
Sunday, May 3, 2026
من کہ ایک فالور ہوں
ونس اپون زمانہ قبل ا ز ٹائم ایک اخبار ہوتا تھا یا پھر ٹی وی جس سے ہر قسم کی خبریں اور اینٹر ٹینمنٹ عوام تک پہنچتی تھی۔ اور ان دونوں فورمز پر نظر آنے والے، لکھنے والے، بولنے والے ، اداکاری کرنے والے اور فنکاریاں کرنے والے تمام لوگ عوام کی نظر میں سلیبرٹی ہوتے تھے ۔ جن تک پہنچنا، اپنے رائے پہنچانا ایک کار عظیم ہوا کرتا تھا۔ [دیگرفورمزبھی ہوتے تھے جیسے سینما لیکن وہ اتنے ارزاں اور ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتے تھے اور ریڈیو کی اس دور تک وہ اہمیت نہیں رہی تھی جس دور کی ہم بات کررہے ہیں۔ زمانہ انیس سو پتھر میں تو ریڈیو کے صدا کار بھی سلیبرٹی اسٹے ٹس انجوائے کیا کرتے تھے]
Friday, May 1, 2026
ہیومن ملک بنک: قسط III
مختلف مذاہب کی ہیومن ملک بنک کے بارے میں کیا رائے ہے اور دیگر مسلم ممالک میں ہیومن ملک بنک کس طرح کام کررہے ہیں
سن دو ہزار چوبیس میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹلوجی کراچی میں یونیسیف کے تعاون سے پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک یا مدر ملک بنک قائم کیا گیا۔ جس کا مقصد وقت سے پہلے یا اوسط پیدائشی وزن سے کم وزن پیدا ہونے والے اور شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کے لیے ماں کے دودھ کی فراہمی تھا۔ ابتدا میں جامعہ دارالعلوم کراچی نے ہیومن ملک بنک کے حق میں فتوی دیا لیکن پھر مخالفانہ مذہبی اور عوامی رد عمل کے بعد اپنا فتویٰ واپس لے لیا۔ اور نتیجے میں ہیومن ملک بنک جیسا قیمتی جانیں بچانے والا پراجیکٹ طاق پر رکھ دیا گیا۔
ہیومن ملک بنک: قسط II
ہیومن ملک بنک: کیوں ، کیا اور کیسے کام کرتا ہے۔
اصولی طور پر نوزائیدہ بچے کے لیے اس کی اپنی ماں کا دودھ سب سے بہترین اور صحت بخش غذا ہے۔ لیکن ہر بچے کو ماں کا دودھ ملے یہ ضروری نہیں ہے۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مرنے والی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ایسی مرحوم ماؤں کے بچوں کے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجانے کے امکانات زندہ ماؤں کے بچوں کی نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے بھینس یا بکری کا دودھ بطور غذا دیا جاتا ہے جو ان کے لیے ناقابل ہضم ہوتا ہے، اور معدے اور آنتوں کی بیماریوں، ڈائیریا کا باعث بنتا ہے۔ اور بیرونی غذاؤں میں بیکٹیریا اور جراثیم کی پرورش اور انفیکشن پھیلانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
ہیومن ملک بنک:قسط I
پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک
کچھ ماہ پہلے سوشل میڈیا پر مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک کے حوالے سے ہنگامہ مچا رہا ۔ زیادہ تر عوام نے کم علمی یا لا علمی کی بنیاد پر ایک ممخصوص طبقے کی طرف سے اڑائی گئی یک طرفہ افواہ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ یا آئیڈیے کی مخالفت میں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔
مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک بنانے کا بنیادی آئیڈیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان/ سندھ میں بھی وہی تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے۔ جو نہ صرف انفیکشن فری ہوتا ہے بلکہ ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچے کو غذائیت کے علاوہ اینٹی باڈیز بھی فراہم کرتا ہے جو بچے کی قوت مدافعت کی تشکیل کرتی ہیں ۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں متعدد سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر خواتین اور بچیوں یعنی ماوں کی اکثریت خود غذایت کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ پھر کم عمری کی شادی اور بار بار حمل اوربغیر وقفے بچوں کی پیدائش میں ان کی رہی سہی غذائیت بھی ضایع ہوجاتی ہے ۔ لہذہ ایسی خواتین کے بچوں کے لیے خصوصاً اور پیٹ کے کچھ مخصوص امراض میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کو عموماً صحت مند اور غذایت سے بھرپور ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان کی اپنی ماں کا دودھ پوری نہیں کرسکتا ۔ فارمولہ ملک ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک دیا جاتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے جسے عام آدمی افورڈ نہیں کرسکتا۔
محبت ایسا دریا ہے
کل رات امجد اسلام امجد کا لکھا شاندار ڈرامہ دریا مکمل دیکھا
مائی گاڈ ۔۔۔ اٹ از اے ماسٹر پیس ۔
پلاٹ،
کہانی ،
اورکہانی کی بنت میں مقامی روایتیں، رسم و رواج ، فوک متھ،
زبان، اور سرائیکی لہجے میں مکالموں کی ادائیگی،
لوکیشن، کاسٹیوم ، مقامی جیولری، آرٹ ڈائرکٹر نے بہت جان ماری ہوگی ان سب کے لیے
اور بیک گراؤنڈ میوزک ، ہائے وہ بانسری جسے سن کر لگتا ہے کہ بندہ صحرا کے بیچوں بیچ پیاسا کھڑا ہو جیسے ۔
اتنا خوبصورت ڈرامہ روہی پر شاید ہی کوئی ہو۔
Labels:
Drama,
Pakistan,
Performing ARts,
PTV,
Values
Subscribe to:
Posts (Atom)