Sunday, July 12, 2026

ملالہ :بطور ایک روایتی پاکستانی خاتون

مجھے ملالہ کی بہت سی باتوں، بیانات پر اعتراض ہے سر کی چوٹ ، سرجری اور حیرت انگیز تیز ترین ریکوری پر تحفظات ہیں لیکن ایک چیز جو مجھے پسند ہے وہ اس کا بطور ایک اسٹینڈرڈ/ روایتی پاکستانی خاتون دنیا کے ہر فورم پر پاکستانی خواتین کی نمائندگی ہے۔

Friday, July 10, 2026

کیڑا

میری دفتری ذمہ داریوں میں پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ کوآرڈینیٹ کرنا بھی شامل ہے۔ جن میں پرائیوٹ میڈیکل پریکٹشنرز/پرائیوٹ کلینکس،، نجی میٹرنٹی ہومز، پرائیوٹ میڈیکل نیٹ ورکس جیسے آغا خان ہیلتھ سروسز یا انڈس ہیلتھ اینڈ ہاسپٹلز نیٹ ورک، ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کے ساتھ فیملی پلاننگ کی خدمات فراہم کرنے /کراوانے اور اس ضمن میں ان کی ٹریننگ، فیملی پلاننگ کی اشیاء / کموڈیٹیز کی مفت فراہمی ، ان کی مانیٹرنگ اور سپروائزنگ اور ان سے مختلف اقسام کی ماہانہ، سہ ماہی ، شش ماہی ، سالانہ رپورٹس لینا شامل ہے۔ اس کے لیے ہم ان تمام پرائیوٹ اداروں اور تنظیموں سے میمورینڈم آف انڈر اسٹینڈنگ سائن کرتے ہیں۔

Friday, July 3, 2026

شیطان یا جراثیم

بہت ساری ایسی  حدیثیں ہیں جن میں شیطان یا جنوں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی ان کے نقصان سے بچنے کے لیے طریقے بتائے گئے ہیں ۔ میری ناقص رائے میں دراصل 1400 سال پہلے اس دور کے انسانوں کی معلومات، ادراک اور ذہنی سطح  کے مطابق ان سے بات کی گئی تھی۔ ان کو جدید سائنس کے مطابق پرکھیں تو وہ فائدہ مند ہیں لیکن نقصان کا باعث شیطان یا جن نہیں بلکہ کچھ اور عوامل ہیں جن سے وہ احادیث بچاتی ہیں۔

PC: Safegaurd

Monday, June 29, 2026

شکیل: ایک ادنیٰ ٹریبیوٹ

شکیل کے انتقال کے موقع پر لکھی گئی ایک تحریر

پی ٹی وی کے اولین ہیروز اور بہترین اداکاروں میں سے ایک اداکار شکیل بھی آج سدھارگئے۔ اگرمیں اپنی ٹیلی وژن کی اولین یادداشتیں کھنگالوں تو افشاں ڈرامہ یاد آتا ہے، ڈرامہ کیا ہے اداکاروں کی ایک پوری کہکشاںہے ۔ شاید افشاں ڈرامے میں پی ٹی وی کراچی سینٹر کے تمام ہی نمایاں فنکاروں اور فنکاراوں نے کام کیا تھا۔ بشمول شکیل۔ جس کے کردار کے ارد گرد پوری کہانی بنی ہوئی تھی۔ بلاشبہ وہ  ایک خوبصورت انسان، وجیہہ شخصیت، اور ورسٹائل اداکارتھے۔

Sunday, June 28, 2026

اسٹینڈ اپ گرل

بہت عرصے کے بعد ایک ایسا ڈرامہ دیکھا ہے جس سے پی ٹی وی کے ڈراموں کی چس آگئی ۔ ڈرامے کا موضوع ہے پاکستان میں اسٹیج/ اسٹینڈ اپ کامیڈی کا ماضی ، حال اور مستقبل۔ ماضی اس طرح کہ پرانے اسٹینڈ اپ کامیڈین یا ون مین شو کرنے والے فنکار کون تھے، کیا تھے ان کی اچھی اور بری خصوصیات کیا تھیں، ان کے موضوعات کیا تھے اور اب وہ کس کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ساری عمر فن کی خدمت کرنے کے باوجود اب بھی تھئیٹر فنکار خصوصاً تھئیٹر کامیڈین کو بھانڈ ہی سمجھا جاتا ہے اور خواتین کے لیے اب بھی اسٹیج پر اداکاری یا کامیڈی کرنا عزت دار پروفیشن نہیں سمجھا جاتا۔ اور یہ کہ موجودہ اسٹینڈ اپ کامیڈی کس طرح پرانی اسٹیج کامیڈی سے مختلف ہے ۔

Monday, June 22, 2026

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے

یوں تو ہم بڑے بلاگر بنتے ہیں اپنے تئیں۔ اپنی طرف سے فلموں کے بارے کچھ ریو ویو ٹائپ بھی لکھتےہیں لیکن جیسے بہت زیادہ خوشی میں آپ ہنسنے کے بجائے آنسو بہانا شروع کردیتےہیں ویسے ہی جب کوئی مووی حد سے زیادہ دل چھو جائے تو لکھنے لکھانے کی ساری مہارتیں ادھر پڑی ہوتی ہیں تو الفاظ کی پٹاری ادھر اور ہم کچھ بھی لکھنے کے لائق نہیں ہوتے۔

Friday, June 19, 2026

میرا گھر میری مرضی

آج میں نے اپنے گھر میں اپنی مرضی اور عادت کے مطابق دن گزارا۔ صبح ساڑھے سات بجے اٹھی، آٹھ بجے ناشتہ، دس بجے سارا کام ختم کرکے کھانا پکانا شروع کیا بارہ بجے کھانا تیار تھا۔[ یہ وہ وقت ہے جس وقت ہمارے بچے اور ان کی اماں جان چھٹی کے دن ناشتہ کرکے فارغ ہوتے ہیں۔ ] لنچ کے بعد ایک دوست کی بیٹی کے لیے فراک سیا، پھر سوگئی۔ مغرب کے وقت اٹھی۔ چھت پر ابا اور بہن کے ساتھ پوری شام ٹھنڈی ہوائیں انجوائے کیں۔ رات کا کھانا کھایا اور اب برتن وغیرہ سے فارغ ہوکر سونے کی تیاری ہے۔

Monday, June 15, 2026

انکم ٹیکس کے غیر روایتی ذرایع

لوکل گورنمنٹ کے لیے کچھ انکم جنریٹنگ تجاویز

ایک بار پھر الیکشن قریب آرہا ہے اور پھر سے ہر طرف بینرز، ہورڈنگز سیاسی نعروں سے مزین نظر آئیں گے اور ہر پارٹی کے پرچم اور سیاستدان کھمبوں پر ٹنگے نظر آئیں گے ۔الیکشن گزر جائیں گے لیکن یہ اشتہار، پرچم اور سیاستدان ایسے ہی کھممبوں پر ٹنگے رہیں گے ، ان کے چہرے دھویں سے سیاہ پڑتے جائیں گے، کچھ ہوا ، دھول مٹی اور اگر بارش ہوگئی تو بھیگ کر اور بھی قابل رحم بلکہ بدنما ہوجائیں گے اور ساتھ ساتھ شہر کو بھی بدنما بنائیں گے ۔

 پچھلے لوکل باڈیز کے الیکشنز میں لگائے گئے بینرز اورکھمبوں پر لٹکائے گئے سیاست دان ابھی تک وہیں لٹکے ہوئے ہیں، گندے ، میلے، لیر لیر  ادھر ادھر جھول رہے ہوتے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ بڑے ہورڈنگز تو کمرشل کمپنیوں کی ملکیت ہیں وہ ان پہ اشتہار لگانے کے پیسے بھی لیتی ہیں اور مقررہ مدت کے بعد اشتہار اتار بھی دیتی ہیں کیونکہ انہیں کسی اور کا اشتہار لگا کر اس سے پیسے وصول کرنے ہوتے ہیں تاہم دیواروں، چوک، چورنگیوں، کھمبوں پر لٹکے یہ لیرے شہر کی بدصورتی میں چار کیا چالیس چاند لگائے ہوتے ہیں۔

Saturday, June 13, 2026

ناسٹیلجیا 2

امی کو اون سلائیاں چلانی آتی تھیں۔ لیکن کبھی میں نے انہیں کسی کامکمل سوئیٹر بناتے نہیں دیکھا تھا۔ پھر چچی شادی ہوکر آئیں۔ انہیں پہلی بار پورا سوئیٹر بناتے دیکھ کر ہماری پوری گلی کی خواتین کو جیسے سوئیٹر بننے کا بخار ہوگیا، وہی جسے آج کل وائرل کہتے ہیں تو پوری گلی کی خواتین میں سوئیٹر بننے کا شوق وائرل ہوگیا۔ امی، چچی، حسینہ باجی اور ایک نئی محلے دار لڑکی شکیلہ۔ نئی اس لیے کہ وہ لوگ تازہ تازہ محلے میں وارد ہوئے تھے۔یہ چاروں فارغ وقت میں کسی نہ کسی کا سوئیٹر بنا کرتے، جب چاروں کاموں سے فارغ ہوجاتیں تو کسی نہ کسی کے دروازے کے باہر بنے تھڑے پر دھوپ سینکتے، غیبت میٹنگ کرتے ساتھ ساتھ سوئیٹر بھی بنتی جاتیں۔

ان کی دیکھا دیکھی ہمیں بھی شوق چڑھا۔ پہلے تو جھاڑو کے تنکوں سے سلائیاں بنا کر سوئیٹر بننا شروع کیا۔ پھر پتا نہیں کہاں سے دو عدد پرانی سلائیاں مل گئیں۔ نئی سلائیاں پورے پانچ روپے کی آتی تھیں اور بچوں کو بھلا کاہے کو نئی سلائیاں دلانے پر پانچ روپے ضایع کیے جاتے ۔ خیر یونہی کھیل کھیل میں سوئیٹر بننا سیکھ لیا۔ پہلے اپنی گڑیا کا سوئیٹر بنا۔ چھوٹا سا ۔ پیچھے کا حصہ، پھر آگے کے دو حصے۔ آستینیں، پھر انہیں جوڑ کر ٹچ بٹن لگا کر گڑیا کو پہنایا۔ یہ بہت بڑی اچیومنٹ تھی۔

Friday, June 12, 2026

ہمارے فیورٹ ٹاپ ٹین بالی ووڈ آئٹم سونگز


ناظرین، حاضرین، غائبین، و مشاہدین الکرام

آج پیش ہیں ہمارے فیورٹ گندے گندے گانے یعن دیکھنے میں گندے لیکن سننے میں پسندیدہ گانے

وارننگ : پوسٹ پڑھ لیں لیکن یوٹیوب سرچ اپنے رسک پر کریں، اماں باوہ یا بچوں نے پکڑ لیا گانے دیکھتے تودھنائی ہونے پر ادارہ ذمہ دار نہ ہوگا۔

توناظرین آج باری ہے گندے والے پسندیدہ گانوں کی۔ دیکھیں بھئی ، ہم یہ گانے صرف سنتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں۔ اب ان گانوں کی دھنیں ہیں ہی چٹخارےدار تو بندہ کیسے نہ کھنچاکھنچا جائے ان کی طرف مطلب بندے کے کان۔ تو پیش ہیں مسالے دار گانے ۔ آئٹم سانگ کا اس سے بہتر اردو مترادف ہمیں نہیں مل سکا۔

Thursday, June 4, 2026

کتے بلی کے بچے

کل اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری۔ اندرونی صفحات میں سوشل میڈیا پر وائرل کسی ویڈیو کے حوالے سے خبر تھی جس میں ایک باپ اپنے تین سالہ بچے کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مار رہا ہے جس پر عوامی رد عمل کی اطلاع تھی۔ ایسی خبریں پڑھ کر اور ایسے واقعات دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ اکثر خیال آتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں پر کیسے ہاتھ اٹھا لیتےہیں۔ مجھ سےتو اپنے بھتیجا بھتیجی پر ہاتھ نہیں اٹھتا کبھی۔ ایک آدھ تھپڑ بھی نہیں، کجا کہ مارنا اور ایسے اذیتناک طریقے سے مارتے چلے جان۔ وہ بھی تین سالہ بچے کو، ایک تین سالہ بچہ ایسا کیا گناہ یا جرم کرسکتا ہے بھلا کہ اسے ایسے مارا جائے۔

Wednesday, June 3, 2026

A Weekend Well Spent

سائیکلنگ سے متعلق دو بہترین موویز 

بائکنگ بارڈرز

دو جرمن نوجوانوں, میکس اور نونو، کا جرمنی سے بیجنگ تک سائیکلنگ ایڈونچر جس کامقصد گوئٹے مالا میں غریب بچوں کے لیے اسکول بنانے کے لیے فنڈز جمع کرنا تھا۔نو ماہ پر مشتمل جرمنی سے 15000 کلومیٹر سائکل کا سفر جس میں ہیں سڑکیں، میدان، ریگزار، برفزار، پہاڑ، مختلف ثقافتیں، تہذیبیں، اقوام ، گرمی، سردی، بارش، طوفان اور پتا نہیں کیا کیا ، بے حد خوبصورت سفر اور مووی ہے۔

Monday, June 1, 2026

ہوم سولر انرجی پراجیکٹ

یہ آرٹیکل ہمارے مرحوم دوست دانش احسن لوہار المعروف از دانست نے 2022 میں شمسی توانائی سے بجلی کے حصول کے سلسلے میں لکھا تھا ۔  لہذہ اس میں دیا گیا  تخمینہ  اس وقت کی قیمتوں کے حساب سے ہے۔
-------------------------------------------------
آجکل ملک کے جو حالات چل رہے ہیں، ایک تو شدید گرمی، ہیٹ ویو، دوسری جانب لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ جو پہلے کے مقابل بڑھ گیا ہے۔ اسی مسئلے کو لے کر ایک بات زیر غور آئی کہ جو لوگ ایسے گھر میں رہتے ہیں جہاں انہیں چھت میسر ہے تو وہ سولر پینل کیوں نہیں لگاتے؟ متبادل توانائی اس وقت ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

ایک متوسط گھرانے کے لئے میرا ذاتی تجربہ ہے کہ 2 سے 3 کلوواٹ کا سولر پینل کافی ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سولر کی کوسٹ بہت زیادہ ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بات غلط بھی نہیں۔ ایک مڈل کلاس گھر کے لئے چار سے پانچ لاکھ روپے لگانا آسان بات نہیں۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی چیز جب آپ خریدنے جائیں تو صرف کوسٹ ہی فیکٹر نہیں ہوتا بلکہ اس کے فوائد بھی معنی رکھتے ہیں۔

اسے ہم cost benefit analysis کہتے ہیں۔ اگر ایک چیز کی قیمت زیادہ ہے تو آپ نے اس کے فوائد کا قیمت سے موازنہ کرنا ہے، pros & cons دیکھنے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پہ سولر پاور کے فوائد قیمت سے زیادہ لگے۔

Friday, May 29, 2026

ایوولیوشن

 یا شاید ڈیوولیوشن، کنفرم نہیں ہے، لیکن ،،

ایک زمانہ تھا میں ہر ایشو پہ بحث کرتی رہتی تھی۔ اورہر ایک سے، اس وقت حب الوطنی کا کیڑا بھی بہت بے چین رہتا تھا اور ایمان کا بھی۔  مجھے لگتا تھا کہ اگر کسی بات کا جواب نہ دیا تو یہ تو میری ہار ہوگئی گویا کوئی بہت ہی شرمندگی والی بات ہوگئی۔ یا کسی موضوع پر اظہار خیال نہ کیا تو کوئی انقلاب آتے آتے کہیں رک نہ جائے۔ کبھی غور نہیں کیا لیکن کافی لوگوں کی دل آزاری کی ہوگی یا غصہ دلانے کا سبب بنی ہونگی۔

Sunday, May 24, 2026

ورک پلیس ہراسمنٹ سے متعلق چند اہم باتیں

باعثِ تحریر

 اس تحریر کا باعث بننے والا بی بی سی اردو کا مضمون اس لنک پرموجود ہے:


PC: BBC Urdu

اس پر ہماری رائے


اس پورے واقعے سے خواتین کو کچھ باتیں نوٹ کرنا چاہئیں کہ کسی مرد کی کوئی غلط بات خواہ مذاق میں ہی کیوں نہ کہی گئی ہو اسے اسی وقت غلط کہنا چاہیے اور اس پر آواز اٹھانی چاہیے خواہ پہلی بار ہو، دوسری یا تیسری اور ایسے آّواز اٹھانی چاہیے کہ دو چار لوگ اسے نوٹ کریں۔

Friday, May 22, 2026

ہیلن | ناٹ سو آئٹم گرل

مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آسکی کہ ہیلن کو آئٹم گرل کے طور پر کیوں ضایع کیا گیا۔ آپ نے اکثر و بیشتر ہیلن کے رنگین اور ننگے پنگے گانے ہی دیکھیں ہونگے۔ لباس ایسا کہ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔ وی سی آر کے زمانوں میں جب سارا محلہ ایک ساتھ بیٹھ کر ڈان، شعلے اور اسی قسم کی مووی دیکھا کرتا تھا، اور چاچا، خالہ، گڈو، پپو، بےبی، منا،، ان آئٹم سانگز کو دیکھتے ہوئےسب ایک دوسرے سے نظر کا پردہ فرما لیا کرتے تھے، ہیلن کے ہر اسٹیپ پر جیا دھڑک دھڑک جاتا تھا کہ ہائے بس اب چلمن اٹھنے کو ہے۔ لیکن ، ، ، ،

Friday, May 15, 2026

ڈائجسٹوں میں ادبی شہہ پارے

ونس اپون اے لانگ لانگ ٹائم بلکہ زمانہ قبل از ٹائم جب ہم کتابیں خریدنا افورڈ نہیں کرسکتے تھے تو ڈائجسٹوں میں رومانچک ناولز اور افسانے پڑھا کرتے تھے وہ بھی کباڑی سے خرید کر یا دوسروں سے مانگ کر۔ ڈائجسٹوں میں موضوع کی کوئی قید نہیں تھی پاکیزہ سے سسپنس تک اور شعاع سے نئے افق، جاسوسی اور سیارہ ڈائجسٹ، اردو ڈائجسٹ جو مل جائے اسے چاٹ لینا بلکہ رٹ لینا فرض ہوتا تھا۔

Wednesday, May 13, 2026

سالگرہ : کلاسک پاکستانی مووی

گزشتہ ویک اینڈ پاکستان کی سنہری موویز میں سے ایک سالگرہ دیکھی۔ بہت بچپن میں ٹی وی پر دیکھی تھی اور بس یہی یاد تھا کہ ایک پیاری سی لڑکی ایک محفل میں بہت دکھی سا گانا گار رہی تھی۔ اور کچھ یاد نہیں تھا۔

دوبارہ دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔گویا ایک نئی نکور مووی دیکھی ہو۔ شمیم آرا سانولی سلونی ہونے کے باوجود کس قدر خوبصورت تھیں کہ ان کا حسن بلیک اینڈ وائٹ مووی میں بھی ناقابل فراموش ہے۔ اور وحید مراد کی نوجوانی  

اب اتنی موویز دیکھ لی ہیں کہ ہر مووی کی کہانی، سچویشنز اور ڈائلاگز پریڈیکٹنگ لگنے لگے ہیں، ورنہ کہانی میں تجسس بھی ہے، رومینس بھی، ایکشن بھی اور میلو ڈرامہ بھی۔ ڈائلاگز بھی اچھے ہیں خاص طور پر طارق عزیز کے جنہوں نے شمیم آرا کے والد اور جج صاحب کا رول بہت عمدگی سے نبھایا ہے۔

Friday, May 8, 2026

قرار لوٹنے والے ~~

انتقامی فلمی گیتوں پر ایک تبصرہ

خدا کرے تجھے آدھی چھٹانک گھی نہ ملے
تیری پکی ہوئی ہانڈی بگھار کو ترسے

ایسے ہی پرانے گانے سنتے سنتے خیال آیا کہ فلمی گیتوں کی ایک فارم انتقامی گانوں کی بھی ہے ۔ گو کہ فلموں میں زیادہ تر رومینٹک گانے ہوتے ہیں، آئٹم سانگ ہوتےہیں یا پھر دکھی پریم نگری لیکن کبھی کبھی ہیرو یا ہیروئن انتقام پر بھی تو اتر آتےہیں، زیادہ تر ہیرو جیسے کہ

جس نے میرے دل کو درد دیا
اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں

علاوالدین اور مہدی حسن کا حسین کامبی نیشن فلم سسرال کا گانا ۔ "گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے " کے بعد ایک اور بہترین گانا جس میں علاوالدین اداکاری اور مہدی حسن گلوکاری کے عروج پر نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ گانا ہمیں مہدی حسن سے زیادہ سجاد علی کی آواز میں پسند ہے، کیونکہ پہلی بار سجاد علی کی آواز میں سنا تھا اوراس نے اتنا جم کر گا یا ہے کہ بس سواد آجائے۔ مکتوب الیہ تو آواز کی ٹون سن کر ہی پتلی گلی سے نکل لے۔

Tuesday, May 5, 2026

تھینکیو ایوری ون

شہزاد کے بعد پہلا روڈ ٹرپ

شہزاد کی زندگی میں بہت لوگ ہمارے ساتھ ٹرپس پر جانا چاہتے تھے، اوربہت سے لوگ جاتے بھی تھے، ابا کے دوست، اس کے اپنے دوست اور ہمارے دوست بھی۔ وہ سیر و تفریح کا شوقین اور انتہا کا محنتی تھا۔ ٹرپ چاہے ابا کے دوستوں کا ہی ہوتا وہ اس میں شامل نہ بھی ہوتا تب بھی پورے دو دن سامان اکھٹا کرنے اور واپس ٹھکانے لگانے میں لگاتا۔ جب وہ بھی ساتھ جاتا تو ٹرپ کی ساری ذمہ داری اس کی ہوتی۔ کھانا پکانا، برتن دھونا اور سارا سامان ڈھونا گھر سے گاڑی، گاڑی سے کیمپ تک اور واپس گھر تک۔

فیملی ٹرپ ہوتا، ساتھ ہمارے دوست بھی شامل ہوتے تب بھی سارے کام خود کرتا اپنے شوق سے اور اپنی ذمہ داری پر۔ ہمارے ایک دوست کی بیگم کے بقول انہیں اپنے میاں سے زیادہ شہزاد پر بھروسہ تھا کہ شہزاد کی موجودگی میں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔