Friday, October 2, 2026
Friday, September 25, 2026
عجیب داستاں ہے یہ ~
ٹمبکٹو کے بدمعاش لائبریرینز
جب ہماری اصلی فیس بک کسی نے ہیک کرلی تھی اور ہم موجودہ پروفائل بنا رہے تھے تو ہم نے اس میں ساری انفارمیشن غلط سلط ڈالی تھی۔ فیس بک کے مطابق ہماری عمر ایک سو دس سال بلکہ اس سے بھی اوپر ہوچکی ہے۔ جب فیس بک نے شہر کا پوچھا تو ہم نے مزےسے ٹمبکٹو لکھ دیا ۔ بچپن میں اطہر شاہ خان سے سنا تھا یہ نام بس یہی ذہن میں آیا اس وقت۔
چند سال پہلے ایک دوست نے ہمیں یہ کتاب گفٹ کی۔ دراصل یہ کتاب شان کے لیے تھی جو ہمارے لیے تھی وہ شان کے پاس چلی گئی اور یہ ہمارے حصے میں آئی۔ اور جو ہماری تھی وہ شان نے کہیں اوبر یا کریم میں سفر کرتے گم کردی۔ تو ہم نے اسی پر قبضہ کرلیا۔ پہلی مرتبہ پڑھنے کی کوشش کی لیکن دس صفحے پڑھ کر چھوڑ دی ہمیں ویسے بھی ناول شاول نہیں سمجھ آتے۔
پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ پڑھنی شروع کی۔ تو پتا چلا کہ ٹمبکٹو کس قدر شاندار شہر رہ چکا ہے جس کی اپنی ہی ایک الگ تہذیب و ثقافت ہے۔ جب یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا تو ٹمبکٹو نام نہاد سیاہ براعظم، افریقہ میں علم کا سورج بن کر چمک رہا تھا یہاں قاہرہ اور بغداد سے علماء درس و تدریس کے لیے آیا کرتے تھے اوریہاں کے علماء اور اساتذہ دنیا بھر کے موضوعات پر ہاتھوں سے کتب لکھ رہے تھے۔ مذہب، سائینس، فلسفہ، ریاضی، طب دنیا کا کوئی ایسا شعبہ نہیں تھا جس پر ٹمبکٹو میں کتب نہ لکھی گئی ہوں۔ یا دنیا بھر سے ان کے قلمی نسخے جمع نہ کیے گئے ہوں۔
Labels:
Adventure,
Biograph,
Book Review,
Documentary,
History
Friday, September 18, 2026
طلعت حسین | ایک خراج تحسین
"حسینہ کوبلائیے
بٹھائیے سمجھائیے
کہ ملک کی سب بچیاں
ہیں دال دال کچیاں
سسر کو تھپڑ مار کر
دیوار گھر کی پھاند کر
کبھی بھی بھاگتی نہیں
ابھی بھی جاگتی نہیں
۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔
یہ پی ٹی وی ایوارڈ ہے
ڈیزائن اس کا آڈ ہے"
پی ٹی وی کی بیسیوں سالگرہ کے موقعے پر یہ نظم معین اختر نے ضیاء صاحب کے انداز میں پڑھی تھی۔ اس میں جس لڑکی کے دیوار پھاندنے کا ذکر ہے وہ خالدہ ریاست تھیں اور ڈرامہ تھا حسینہ معین و محسن علی کا بندش [سسر کو تھپڑ مارنے والی نیلوفر علیم تھیں]۔ آج کل ہمیں خالدہ ریاست کا دورہ پڑا ہوا ہے۔ لہذہ ہم آج کل بندش دیکھ رہے ہیں خالدہ ریاست کا حسن، شوخی اورشرارتیں تو اپنی جگہ ہے لیکن طلعت حسین کی وجاہت اور اداکاری نے ہمیں تقریباً کلین بولڈ ہی کرڈالا
Labels:
Drama,
Nastalgia,
Pakistan,
PTV,
Television
Friday, September 11, 2026
ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے
ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے
ہماری زندگی میں پہلے پہل ریڈیو آیا۔ بی بی سی اردو ہمارا مرغ باد نما ہوتا تھاجس سے ہم اپنی گھڑیاں ملاتےاور ہر خبر کی تصدیق بھی اسی سے کرتے تھے، گانے آل انڈیا ریڈیوسے سنتے تھے اور بناکا گیت مالا ریڈیو سیلون سے۔ پاکستانی فلموں کے ریڈیو پروگرامز"آجشبکو" دوپہر گیارہ سے بارہ بجے ریڈیو پاکستان سے، اور دوپہر تین بجے حسن شہید مرزا اور ساتھی خاتون میزبان حفیظ فاطمہ / شہلا صدیقی سے "کالا کولا کی محفل نامی میگزین پروگرام میں" ملاقات کرتے۔ شام ساڑھے پانچ بجے فوجی بھائیوں کے لیے خصوصی پروگرام سنتے اور رات آٹھ بجے ڈرامہ۔ بالآخر ایک دن ریڈیو ہمارا دل بہلا کر رخصت ہوا۔
Labels:
Abstract,
Computer,
Evolution,
Generation X,
Radio,
Television
Thursday, August 27, 2026
ونس اپون اے شپ
| Boat Mosque @ Liyari by the writer (2019) |
کوئی بیس بائیس سال ادھر کی بات ہے۔ سینڈز پٹ جاتے ہوئے آج کل جہاں سیدھے ہاتھ پر نیوی کی کالونی بن گئی ہے۔ اس کے بالکل سامنے شپ یارڈ ہوتا تھا شاید اب بھی ہے لیکن اب ایک چھوٹی سی کالونی لیفٹ سائیڈ پہ بھی بن گئی ہے۔ سامنے چند دکانیں تھیں اور پھر تھوڑا قوس بناتا ہوا راستہ جو پیچھے کریک نما حصے تک جاتا ہے۔ اور اس کریک نما میں کشتیاں بنائی جاتی ہیں۔
تو وہاں سے گزرتے بائیں جانب ایک بڑا سا شپ یا کشتی نظر آئی۔
ابو سے کہا کہ یہ کشتی پاس سے دیکھنی ہے۔
ابا نے گاڑی موڑ لی
Thursday, August 20, 2026
نیرہ نور فلمی اور غیر فلمی گیت
نئیرہ نور فلم راونڈ اپ
عام طور پر نیرہ کو غزل اور نظم کی گلوکارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں بھی انہوں نے فیض احمد فیض کو جی بھر کر گایا ہے۔ لیکن نیرہ نور کا فلمی کیرئیر بھی اچھے خاصے گانوں پر مشتمل ہے۔ ان کے کچھ مشہور فلمی گیت اس راونڈ اپ میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔
اچھا اچھا لاگو رے پیارا پیارا لاگو رے
ہمارے ونس اپون اے ٹائم بچپن میں اماں کے ریڈیو سے جو گانے بجتے تھے اور بار بار سننے کی بدولت رٹ گئے تھے ان میں سب سے مشہور گانا فلم بندش کا گانا "اچھا اچھا لاگو رے" تھا جس میں ہمارے پسندیدہ ترین ہیرو ندیم اپنی سری لنکن ہیروئن کو اردو سکھا رہے ہیں جس نے اس وقت کے لحاظ سے کافی بولڈ لباس پہنا ہوا ہے۔ نیرہ نور اور اے نیر کی بے ساختہ اور ایک دوسرے کو سپلیمنٹ کرتی ہوئی آواز میں یہ خوبصورت گانا آپ بھی سنیے۔ کچے بچے دونوں آنکھیں بند کر کے سنیں، بڑے بچے ایک آنکھ بند کرکے اور لڑکیاں دوپٹہ دانتوں میں داب کر سنیں۔
Friday, August 14, 2026
تقسیم کے موقعے پر ہندو اور مسلم جائدادوں کا وٹہ سٹہ
رپورٹ : رابرٹ نیوائل، لائف میگزین۔ 11 اگست 1947
بہ راہ کرم: مبشر علی زیدی
ترجمہ: نسرین غوری
ایک ہندوستانی کرسچن جوزف اسیروادم نے نئی دہلی کے علاقے کناٹ پیلس میں ایک نئے کاروبار کی شروعات کیں۔ ایک میز اور دو کرسیاں ادھر ادھر سے مانگ کر اور اپنے ایک دوست سے ادھار لیے ہوئے آٹھ بائی دس کے کمرے میں سیٹ کر کے، مسٹر اسیروادم نے اخبار میں ایک اشتہار دیا جس کے مطابق " مسٹرجوزف اسیروام پراپرٹی ڈیلر نے نئی دہلی میں دفتر قائم کیا ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جائدادوں کے تبادلے کے لیے کام کرے گا۔ انہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دس ملین روپے تک کے کاروبار یا جائداد کا تبادلہ کروا سکتے ہیں۔" اس اشتہار کے چھپتے ہی انہیں اتنے لوگوں نے رابطہ کیا کہ سر کھجانے کی فرصت نہ ملی۔ ان کے دفتر میں سائلین کا تانتا بندھ گیا ۔
Friday, August 7, 2026
روایتی گیتوں کا فیمنسٹ تجزیہ
ہم ایسے ہی ساون کے گانے سنتے سنتے "اماں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا" تک جاپہنچے۔ یہ گانا بچپن میں سنا تھا کیونکہ فاطمہ ثریا بجیا کے ہر ڈرامے میں آدھی درجن شادیوں میں ضرور گایا جاتا تھا۔ تو لازمی طور پر اس سے ناسٹیلجیا کی خوشبو آئی ۔
Labels:
Common Sense,
Culture,
Ethics & Values,
Gender,
Music,
Psychology,
Society
Friday, July 31, 2026
محمد رفیع کے چند پسندیدہ گیت
آج محمد رفیع صاحب کی کوئی سی ویں برسی ہے ۔ محمد رفیع کے پسندیدہ ترین گانوں میں سے چند ایک ، یہ وہ گانے ہیں جن کو سنتے ہوئے ہم خود پر قابو نہیں رکھ پاتے اور ایک مرحلہ آتا ہے جب ہم ساتھ سر ملانے پر مجبور ہوجاتےہیں۔ لیکن اس بات کا خیال کر کے کہ کوئی آس پاس تو نہیں ۔ گانے تو ان گنت ہیں جو ہمیں پسند ہونگے ۔ لیکن ہمارے موبائل کلیکشن میں سے چند ایک گانے آپ بھی سنیں اور سر دھنیں
Labels:
Music,
Performing ARts
Friday, July 24, 2026
کچھ انڈر ریٹڈ بالی ووڈ موویز
آج پیش ہے کچھ ہماری فیورٹ انڈر ریٹیڈ بالی ووڈ موویز کا تعارف۔ ہمیں سپر اسٹارز کی موویز کے بجائے ایسی فلمیں زیادہ بھاتی ہیں جن کے اداکار چاہے غیر معروف ہی ہوں یا اداکاروں کی لسٹ میں پہلی کے بجائے دوسری یا تیسری قطار میں ہی آتے ہوں کیونکہ دوسری یا تیسری قطار میں آنے والے اداکار اپنی شہرت اور اپنے اسٹارڈم کے قیدی نہیں ہوتے۔ اور آزادی سے اداکاری کرتے ہیں ایسی اداکاری جس میں وہ اپنے کردار میں سما جاتے ہیں ، گم ہوجاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہیں اسی کردار کی ادائیگی کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔
دو دونی چار
ایک مڈل کلاس اسکول ٹیچر جو اپنی سفید پوشی کا بھرم بمشکل قائم رکھے ہوئے ہے،صبح اسکول ، شام کو کوچنگ سینٹر میں پڑھاتا ہے۔ دو بچے جو گھر کے معاشی حالات سے خوش نہیں۔ ایک چھوٹی سی فیملی جن کا فریج ٹھیک کام نہیں کررہا لیکن وہ فرج کے لیے جو پیسے جوڑ رہے ہوتے ہیں درمیان میں پھپھو کے سسرال میں شادی آجاتی ہے جہاں جانا بھی ہے اوقات سے بڑھ چڑھ کر لینا دینا بھی کرنا ہے اور اپنی سفید پوشی کا بھرم بھی رکھنا ہے۔ ایک ایماندار ٹیچر اور ایک پریشان حال سفید پوش باپ کی کشمکش پر مبنی ایک بہترین مووی
Friday, July 17, 2026
عدنان شاہ ٹیپو: ایک باکمال اداکار
میں نے جب ٹی وی باقاعدگی سے دیکھنا چھوڑا اور پروفیشنل لائف کی ذمہ داریاں سر پر پڑیں تو اس وقت ٹی وی پر اداکاروں کی سیکنڈ یا شاید تھرڈ جنریشن آرہی تھی ۔۔ یعنی شکیل، عابد علی، روحی بانو، عظمی گیلانی، ساحرہ کاظمی والی جنریشن کے بعد فضیلہ قاضی،اسد، نعمان اعجاز، عتیقہ اوڈھو وغیرہ بھی اپنا سکہ جما چکے تھے ۔ اور کچھ نئے پدے پدے سے لوگ کچھ نئےنئے عجیب و غریب شوز لے کر ٹی وی پر آنے لگے تھے وی جے ختم ہوچکا تھا لیکن آڑے بانگے اداکاروں اور فنکاروں کی ایک کھیپ ٹیلی وژن پر نظر آنے لگی تھی جن میں مانی، اس کی سابقہ بیگم [اسےبھی ماں کے کردار میں دیکھ کر شاک لگا مجھے]۔ ڈاکٹر اور بلا کے کچھ ارکان، ٹیپو، ایک وہ فیض احمد فیض کا نواسہ اور اسی قسم کے لوگ کالج جینز ٹائپ ڈرامے لے کر ٹی وی پر آتے تھے ۔۔ اس نسل کے فنکاروں کو میں نے پہلی اور دوسری جنریشن کے سامنے کبھی بھی سیریس نہیں لیا تھا ۔۔
Sunday, July 12, 2026
ملالہ :بطور ایک روایتی پاکستانی خاتون
مجھے ملالہ کی بہت سی باتوں، بیانات پر اعتراض ہے سر کی چوٹ ، سرجری اور حیرت انگیز تیز ترین ریکوری پر تحفظات ہیں لیکن ایک چیز جو مجھے پسند ہے وہ اس کا بطور ایک اسٹینڈرڈ/ روایتی پاکستانی خاتون دنیا کے ہر فورم پر پاکستانی خواتین کی نمائندگی ہے۔
Friday, July 10, 2026
کیڑا
میری دفتری ذمہ داریوں میں پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ کوآرڈینیٹ کرنا بھی شامل ہے۔ جن میں پرائیوٹ میڈیکل پریکٹشنرز/پرائیوٹ کلینکس،، نجی میٹرنٹی ہومز، پرائیوٹ میڈیکل نیٹ ورکس جیسے آغا خان ہیلتھ سروسز یا انڈس ہیلتھ اینڈ ہاسپٹلز نیٹ ورک، ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کے ساتھ فیملی پلاننگ کی خدمات فراہم کرنے /کراوانے اور اس ضمن میں ان کی ٹریننگ، فیملی پلاننگ کی اشیاء / کموڈیٹیز کی مفت فراہمی ، ان کی مانیٹرنگ اور سپروائزنگ اور ان سے مختلف اقسام کی ماہانہ، سہ ماہی ، شش ماہی ، سالانہ رپورٹس لینا شامل ہے۔ اس کے لیے ہم ان تمام پرائیوٹ اداروں اور تنظیموں سے میمورینڈم آف انڈر اسٹینڈنگ سائن کرتے ہیں۔
Friday, July 3, 2026
شیطان یا جراثیم
بہت ساری ایسی حدیثیں ہیں جن میں شیطان یا جنوں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی ان کے نقصان سے بچنے کے لیے طریقے بتائے گئے ہیں ۔ میری ناقص رائے میں دراصل 1400 سال پہلے اس دور کے انسانوں کی معلومات، ادراک اور ذہنی سطح کے مطابق ان سے بات کی گئی تھی۔ ان کو جدید سائنس کے مطابق پرکھیں تو وہ فائدہ مند ہیں لیکن نقصان کا باعث شیطان یا جن نہیں بلکہ کچھ اور عوامل ہیں جن سے وہ احادیث بچاتی ہیں۔
PC: Safegaurd
Monday, June 29, 2026
شکیل: ایک ادنیٰ ٹریبیوٹ
شکیل کے انتقال کے موقع پر لکھی گئی ایک تحریر
پی ٹی وی کے اولین ہیروز اور بہترین اداکاروں میں سے ایک اداکار شکیل بھی آج سدھارگئے۔ اگرمیں اپنی ٹیلی وژن کی اولین یادداشتیں کھنگالوں تو افشاں ڈرامہ یاد آتا ہے، ڈرامہ کیا ہے اداکاروں کی ایک پوری کہکشاںہے ۔ شاید افشاں ڈرامے میں پی ٹی وی کراچی سینٹر کے تمام ہی نمایاں فنکاروں اور فنکاراوں نے کام کیا تھا۔ بشمول شکیل۔ جس کے کردار کے ارد گرد پوری کہانی بنی ہوئی تھی۔ بلاشبہ وہ ایک خوبصورت انسان، وجیہہ شخصیت، اور ورسٹائل اداکارتھے۔
Sunday, June 28, 2026
اسٹینڈ اپ گرل
بہت عرصے کے بعد ایک ایسا ڈرامہ دیکھا ہے جس سے پی ٹی وی کے ڈراموں کی چس آگئی ۔ ڈرامے کا موضوع ہے پاکستان میں اسٹیج/ اسٹینڈ اپ کامیڈی کا ماضی ، حال اور مستقبل۔ ماضی اس طرح کہ پرانے اسٹینڈ اپ کامیڈین یا ون مین شو کرنے والے فنکار کون تھے، کیا تھے ان کی اچھی اور بری خصوصیات کیا تھیں، ان کے موضوعات کیا تھے اور اب وہ کس کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ساری عمر فن کی خدمت کرنے کے باوجود اب بھی تھئیٹر فنکار خصوصاً تھئیٹر کامیڈین کو بھانڈ ہی سمجھا جاتا ہے اور خواتین کے لیے اب بھی اسٹیج پر اداکاری یا کامیڈی کرنا عزت دار پروفیشن نہیں سمجھا جاتا۔ اور یہ کہ موجودہ اسٹینڈ اپ کامیڈی کس طرح پرانی اسٹیج کامیڈی سے مختلف ہے ۔
Labels:
Behavior,
Bereavement,
Drama,
Gen Alpha,
Performing ARts,
PTV
Monday, June 22, 2026
دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے
یوں تو ہم بڑے بلاگر بنتے ہیں اپنے تئیں۔ اپنی طرف سے فلموں کے بارے کچھ ریو ویو ٹائپ بھی لکھتےہیں لیکن جیسے بہت زیادہ خوشی میں آپ ہنسنے کے بجائے آنسو بہانا شروع کردیتےہیں ویسے ہی جب کوئی مووی حد سے زیادہ دل چھو جائے تو لکھنے لکھانے کی ساری مہارتیں ادھر پڑی ہوتی ہیں تو الفاظ کی پٹاری ادھر اور ہم کچھ بھی لکھنے کے لائق نہیں ہوتے۔
Labels:
Adventure,
Cycling,
Gender,
Movie Review,
Society,
Tourism,
Travelogue,
Values
Friday, June 19, 2026
میرا گھر میری مرضی
آج میں نے اپنے گھر میں اپنی مرضی اور عادت کے مطابق دن گزارا۔ صبح ساڑھے سات بجے اٹھی، آٹھ بجے ناشتہ، دس بجے سارا کام ختم کرکے کھانا پکانا شروع کیا بارہ بجے کھانا تیار تھا۔[ یہ وہ وقت ہے جس وقت ہمارے بچے اور ان کی اماں جان چھٹی کے دن ناشتہ کرکے فارغ ہوتے ہیں۔ ] لنچ کے بعد ایک دوست کی بیٹی کے لیے فراک سیا، پھر سوگئی۔ مغرب کے وقت اٹھی۔ چھت پر ابا اور بہن کے ساتھ پوری شام ٹھنڈی ہوائیں انجوائے کیں۔ رات کا کھانا کھایا اور اب برتن وغیرہ سے فارغ ہوکر سونے کی تیاری ہے۔
Monday, June 15, 2026
انکم ٹیکس کے غیر روایتی ذرایع
لوکل گورنمنٹ کے لیے کچھ انکم جنریٹنگ تجاویز
ایک بار پھر الیکشن قریب آرہا ہے اور پھر سے ہر طرف بینرز، ہورڈنگز سیاسی نعروں سے مزین نظر آئیں گے اور ہر پارٹی کے پرچم اور سیاستدان کھمبوں پر ٹنگے نظر آئیں گے ۔الیکشن گزر جائیں گے لیکن یہ اشتہار، پرچم اور سیاستدان ایسے ہی کھممبوں پر ٹنگے رہیں گے ، ان کے چہرے دھویں سے سیاہ پڑتے جائیں گے، کچھ ہوا ، دھول مٹی اور اگر بارش ہوگئی تو بھیگ کر اور بھی قابل رحم بلکہ بدنما ہوجائیں گے اور ساتھ ساتھ شہر کو بھی بدنما بنائیں گے ۔
پچھلے لوکل باڈیز کے الیکشنز میں لگائے گئے بینرز اورکھمبوں پر لٹکائے گئے سیاست دان ابھی تک وہیں لٹکے ہوئے ہیں، گندے ، میلے، لیر لیر ادھر ادھر جھول رہے ہوتے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ بڑے ہورڈنگز تو کمرشل کمپنیوں کی ملکیت ہیں وہ ان پہ اشتہار لگانے کے پیسے بھی لیتی ہیں اور مقررہ مدت کے بعد اشتہار اتار بھی دیتی ہیں کیونکہ انہیں کسی اور کا اشتہار لگا کر اس سے پیسے وصول کرنے ہوتے ہیں تاہم دیواروں، چوک، چورنگیوں، کھمبوں پر لٹکے یہ لیرے شہر کی بدصورتی میں چار کیا چالیس چاند لگائے ہوتے ہیں۔
Saturday, June 13, 2026
ناسٹیلجیا 2
امی کو اون سلائیاں چلانی آتی تھیں۔ لیکن کبھی میں نے انہیں کسی کامکمل سوئیٹر بناتے نہیں دیکھا تھا۔ پھر چچی شادی ہوکر آئیں۔ انہیں پہلی بار پورا سوئیٹر بناتے دیکھ کر ہماری پوری گلی کی خواتین کو جیسے سوئیٹر بننے کا بخار ہوگیا، وہی جسے آج کل وائرل کہتے ہیں تو پوری گلی کی خواتین میں سوئیٹر بننے کا شوق وائرل ہوگیا۔ امی، چچی، حسینہ باجی اور ایک نئی محلے دار لڑکی شکیلہ۔ نئی اس لیے کہ وہ لوگ تازہ تازہ محلے میں وارد ہوئے تھے۔یہ چاروں فارغ وقت میں کسی نہ کسی کا سوئیٹر بنا کرتے، جب چاروں کاموں سے فارغ ہوجاتیں تو کسی نہ کسی کے دروازے کے باہر بنے تھڑے پر دھوپ سینکتے، غیبت میٹنگ کرتے ساتھ ساتھ سوئیٹر بھی بنتی جاتیں۔
ان کی دیکھا دیکھی ہمیں بھی شوق چڑھا۔ پہلے تو جھاڑو کے تنکوں سے سلائیاں بنا کر سوئیٹر بننا شروع کیا۔ پھر پتا نہیں کہاں سے دو عدد پرانی سلائیاں مل گئیں۔ نئی سلائیاں پورے پانچ روپے کی آتی تھیں اور بچوں کو بھلا کاہے کو نئی سلائیاں دلانے پر پانچ روپے ضایع کیے جاتے ۔ خیر یونہی کھیل کھیل میں سوئیٹر بننا سیکھ لیا۔ پہلے اپنی گڑیا کا سوئیٹر بنا۔ چھوٹا سا ۔ پیچھے کا حصہ، پھر آگے کے دو حصے۔ آستینیں، پھر انہیں جوڑ کر ٹچ بٹن لگا کر گڑیا کو پہنایا۔ یہ بہت بڑی اچیومنٹ تھی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

